گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
ردتشکیل یا ڈیکنسٹرکشن کا تعلق اگر کسی سامی مذہب سے ہے، اور اگر ایک فلسفی اس کو تسلیم کرتا ہے، تو پھر اس معاملے میں اس کو فلسفی کے بجائے مذہبی کہنا موزوں ہوگا۔ مزید وضاحت: ہم جانتے ہیں کہ فلسفہ میں کسی بھی قسم کے علم کا ماخذ مذہبی منقولات نہیں بلکہ انسانی ذہن اور انسانی عقل ہے۔ واضح رہے کہ فلسفہ میں منقولات کی حیثیت معلومات کی ہے، علم کی نہیں کیونکہ منقولات کو علم تسلیم کرنے کے بعد فلسفی اس کا شارح محض رہ جاتا ہے اور آزادانہ غور و فکر نہیں کر سکتا۔ پھر فلسفیانہ مسائل میں منطقی طریقے سے سوچنے پر ہی پابندی لگ جاتی ہے۔