نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

مذہب کی فلسفیانہ تعبیر کیوں مضر ہے؟

مذہب کی فلسفیانہ تعبیرات ہی مذہب کو نئی زندگی بخشتی ہیں اور اس کو قوم کی شناخت کا آلہ محض بن کر رہ جانے سے بچاتی ہیں اور اس کے اندر عصریت و موزونیت کی ظاہری صفت پیدا کرتی ہیں۔ لیکن درحقیقت اس سے بڑے مسائل پیدا ہوئے ہیں، دہشت گردی ان میں سے ایک پے۔ اس کے اسباب کو درجِ ذیل طور پر سمجھا جا سکتا ہے:
1. ایک طرف عوام مذہب کی ظواہر پرستانہ اور روایتی تعبیرات کو مانتے رہتے ہیں اور دوسری طرف خواص اپنے مذہب کی فلسفیانہ تعبیرات کے زیرِ اثر صداقت کو مذہب کا ہم معنی سمجھ لیتے اور اپنے مذہب کو ہر دور میں قابلِ عمل سمجھتے رہتے ہیں۔
2. پس، عوام اور خواص دونوں کے درمیان مذہب ایک قدرِ مشترک کے طور پر ابھرتا ہے اور اس سبب سے سیاست پر اثرانداز ہوتا ہے۔
3. دنیا کو خواص چلاتے ہیں نہ کہ عوام۔ کیونکہ دنیا کو چلانے کے لیے علم اور تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب خواص علمی سطح پر مذہب کو ایک حل کے طور تسلیم کر لیتے ہیں تو مذہبی عقائد، رسوم و رواج اور احکام میں عصریت و موزونیت پیدا کرنے کی غرض سے ان میں قطع و برید کا عمل جائز ہو جاتا ہے لیکن یہ عمل اتنا ہمہ گیر نہیں ہوتا کہ مذہبی عقائد و رسوم کی بنیادیں متغیر ہو جائیں۔ اس کا سبب روایتی علما کا دباؤ ہے جو مذہب میں اصلاح کے ہر تصور کو سرے سے رد کرتے ہیں۔
4. اس طرح، روایتی علما اپنے ظاہر پرستانہ تصور دین اور عقائد و احکام کے ساتھ معاشرے کے عوام پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جدید علما/ فلسفی مذہب میں ارتقائی اصلاحات و تعبیرات کا کام کرتے ہوئے خواص پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس طرح مذہب پورے معاشرے میں بحث کا مرکزی موضوع بن جاتا ہے۔ پس، مذہبی روایت اور مذہبی جدیدیت میں ایک مکالمہ ہوتا ہے اور مکالمہ کا اصول ہی چونکہ "کچھ ہم مانیں کچھ تم مانو" پر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ میں ایک متفقہ قدر ابھر آتی ہے جو مذہبی نوعیت رکھتی ہے۔ ان متفقہ قدروں کو نہ ماننا دوسروں پر اپنا خون حلال کر دینا ہے۔ اس نکتے کو ٹھیک سے سمجھیں۔
5. پس اصل مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی روایت اور مذہبی جدیدیت کے درمیان مکالمہ چل رہا ہے، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ مذہبی روایت اور فلسفیانہ جدیدیت کے درمیان مکالمہ چلتا اور نظری سطح پر ناکام ہوتا رہتا کیونکہ مذہب اور فلسفہ میں اساسی اختلاف ہی نہیں بلکہ ان میں اساسی ضد اور تصادم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پس، نظری سطح پر مذہبی روایت اور فلسفیانہ جدیدیت کے مابین مکالمہ کی ناکامی کے بعد عملی سطح پر خواص اور عوام کے درمیان جو عملی مکالمہ ہوتا اس میں روایتی مذہب کے قابلِ عمل احکام باقی رہتے اور ناقابلِ عمل احکام متروک ہو جاتے۔ اس طرح مذہب معاشرے میں اتنا ہی رہ جاتا جتنا کہ وہ معاصر زندگی میں قابلِ عمل ہوتا۔ اور یہ ہر دور کے لیے ایک مکمل نظامِ حیات اور طریقہ زندگی کے جدید مذہبی فلسفیانہ دعوے پر استوار نہ ہو سکتا۔
یہ پانچ نکتے جو میں نے عرض کیے ان کو اگر پیش نظر رکھا جائے اور مذہب کی روایتی شکل کو ہی مذہب مان لیا جائے تو ہماری ساری مشکلیں آسان ہو جائیں۔ مذہب کی جو چیزیں ناقابلِ عمل ہوں ان پر تو خود اہلِ مذہب ہی نہیں چلتے۔ مثلاً، سود، ذی روح کی مصوری، فلم سازی و فلم بینی۔ لیکن جب سرسید، فراہی، غلام احمد پرویز، فضل الرحمان، جاوید غامدی ایسوں نے مذہب میں ان چیزوں کا جواز نکالا تو گویا معاشرے کے ذہین اور خواص کا یقین مذہب میں ایک بار پھر بحال ہو گیا۔
پھر خواص اور عوام کے مذہبی تصورات و عقائد و احکام، بالترتیب مذہبی روایت اور مذہبی جدیدیت میں جو مکالمہ ہوا، اس نے ایک متفقہ قدر کی صورت تو اختیار کر لی لیکن اس کے باوجود ان کے باہمی اختلافات کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ مذہب چونکہ منزل من اللہ یا فوق فطری طریقے سے نازل ہوتا ہے، اس مناسبت سے مذہب کی ہر پرانی اور نئی تعبیر اپنی جگہ مطلق صداقت کا وہم پیدا کرتی ہے جس کے زیر اثر(مذہبی روایت و مذہبی جدیدیت میں ایک متفقہ و مشترکہ قدر پیدا ہونے کے باوجود) عقیدہ و شریعت کے اختلافات و تنازعات کا تصفیہ نہیں ہو پاتا۔ یہی تنازعات ترقی کر کے دروں مذہبی کشمکش اور دہشت گردی کا سبب بنتے ہیں۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

ادارت کا فن اور اس کے مراحل

کوئی بھی انسانی کارنامہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوصف تسامحات، غلطیوں اور فروگزاشتوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اس میں کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی حد تک خطا کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خامیوں سے یکسر محفوظ ہے اور اس میں کسی بھی نقطہ نظر سے حذف و اضافہ، تصحیح یا ترتیب و تہذیب کی ضرورت نہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی کارناموں کو نقائص سے ممکنہ حد تک پاک کرنے اور انہیں ایک زیادہ مکمل شکل دینے کی غرض   سے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔علوم و فنون کے متعدد شعبوں   میں ادارت ایسا ہی ایک طریقہ ہے جو علم و ادب سے متعلق   متعدد اصناف کی تصحیح و تکمیل کے لیے ابتدا ہی سے   اپنایا جاتارہا   ہے۔ موجودہ دور میں دیگر علوم و فنون کی طرح ادارت کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک منظم ، باضابطہ اور باقاعدہ فن کے طور پر تسلیم کیاجاتا ہے۔فی زمانہ ادارت کاعمل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے میں جاری و ساری   ہے   اورعلمی و فکری کارناموں اور اخباری صحافت کے علاوہ   فلم ، ریڈیو اور ٹیلی وژن   کی دنیا میں بھ...