گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
الحاد ایک شئے ہے اور مذہب دشمنی دوسری. ایک گہرے فکر و تحقیق کا نتیجہ ہے اور دوسرا سطحیت کے مارے لوگوں کا طریقہ. الحاد یہ ہے کہ زندگی پر پیغمبرانہ بلندی سے نظر ڈالی جائے اور صراط مستقیم کو چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کیا جائے جس پر چلنے والوں کو ضال و مضل کہا جاتا ہے. جبکہ مذہب دشمنی یہ ہے کہ مذہبی لوگوں یا خود مذہبی روایت کی ہر چھوٹی بڑی بات میں کیڑے نکالیں جائیں اور یہ ہرگز نہ دیکھا جائے کہ جس بات پر ہم آج تنقید کر رہے ہیں وہ مذہب کی تشکیل کے زمانے میں کیا حیثیت رکھتی تھی اور کیوں اس زمانے کے لوگ اس کو روا یا قابل برداشت سمجھتے تھے.
ملحد اپنی زندگی میں تنہائی کا شکار ہوتا ہے. اس کی فکر ابنائے زماں سے مختلف ہوتی ہے, وہ اپنی جگہ ایک تسلسل کے ساتھ سوچتا رہتا ہے کہ معاصر زندگی کے مسائل کیا ہیں اور چونکہ مذہب کے صراطِ مستقیم پر چل کر ان مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا, اس لیے دوسرے راستے کون سے ہیں جنہیں اختیار کیا جا سکتا ہے.
لیکن ایک مذہب دشمن مذہب کو نیچا دکھانا اور تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے کیونکہ اس کی نظر میں مذہب دنیا کی تمام تر برائیوں کی جڑ ہے. اس لیے, ایک مذہب دشمن کا رویہ ایک غالی مومن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہوتا جو مذہب کو دنیا کے تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے.
ملحد اپنے دور میں ادراک کے بلند ترین درجے پر فائز ہوتا ہے جبکہ مذہب دشمن کا ذہن انتقامی نہج پر سوچنے کے سبب رکاکت اور پستی کی انتہا پر. اس کو انسانی زندگی کے معمولی حقائق بھی نظر نہیں آتے.
ملحد تاریخ کے دھارے کو موڑنے میں ایک مثبت کردار ادا کرتا ہے جبکہ سخت گیر مذہب دشمن عناصر اور بنیاد پرست غالی مومنین دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بدکلامانہ پیش آکر دنیا کے اخلاقی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں اور لوگوں کی نظر سے گر جاتے ہیں. میں بھی ان دونوں قسم کے افراد کو جہلائے زمانہ میں شمار کرتا ہوں. اور وہ مومن اور وہ ملحد میری نظر میں محترم ہے جو زندگی اور کائنات کے مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے اور کج بحثی, کٹ حجتی اور یاوہ گوئی سے خود بھی محفوظ رہتا اور دوسروں کو بھی خبردار کرتا ہے.
ملحد اپنی زندگی میں تنہائی کا شکار ہوتا ہے. اس کی فکر ابنائے زماں سے مختلف ہوتی ہے, وہ اپنی جگہ ایک تسلسل کے ساتھ سوچتا رہتا ہے کہ معاصر زندگی کے مسائل کیا ہیں اور چونکہ مذہب کے صراطِ مستقیم پر چل کر ان مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا, اس لیے دوسرے راستے کون سے ہیں جنہیں اختیار کیا جا سکتا ہے.
لیکن ایک مذہب دشمن مذہب کو نیچا دکھانا اور تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے کیونکہ اس کی نظر میں مذہب دنیا کی تمام تر برائیوں کی جڑ ہے. اس لیے, ایک مذہب دشمن کا رویہ ایک غالی مومن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہوتا جو مذہب کو دنیا کے تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے.
ملحد اپنے دور میں ادراک کے بلند ترین درجے پر فائز ہوتا ہے جبکہ مذہب دشمن کا ذہن انتقامی نہج پر سوچنے کے سبب رکاکت اور پستی کی انتہا پر. اس کو انسانی زندگی کے معمولی حقائق بھی نظر نہیں آتے.
ملحد تاریخ کے دھارے کو موڑنے میں ایک مثبت کردار ادا کرتا ہے جبکہ سخت گیر مذہب دشمن عناصر اور بنیاد پرست غالی مومنین دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بدکلامانہ پیش آکر دنیا کے اخلاقی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں اور لوگوں کی نظر سے گر جاتے ہیں. میں بھی ان دونوں قسم کے افراد کو جہلائے زمانہ میں شمار کرتا ہوں. اور وہ مومن اور وہ ملحد میری نظر میں محترم ہے جو زندگی اور کائنات کے مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے اور کج بحثی, کٹ حجتی اور یاوہ گوئی سے خود بھی محفوظ رہتا اور دوسروں کو بھی خبردار کرتا ہے.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں