نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

خاکہ/ ادراک اور حواس

  ادراک اور حواس خاکہ: طارق صدیقی، رنگ آمیزی: چیٹ جی پی ٹی

خاکہ/ مشینِ ناطق

مشین ناطق [ اوریجنل خاکہ: طارق صدیقی، رنگ آمیزی: چیٹ جی پی ٹی ]

خاکہ/ انحطاط اور خروج

  انحطاط اور خروج [ رنگ آمیزی از چیٹ جی پی ٹی، اوریجنل خاکہ: طارق صدیقی ]

کچھ خاکے

  خاکے: طارق صدیقی،  رنگ آمیزی: چیٹ جی پی ٹی۔

نظام کیسے بنتا ہے؟

اشیا کا باہمی اختلاف انہیں افراد کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتا ہے۔ اور اشیا کی باہمی مشابہت انہیں گروہ کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتی ہے۔ جن اشیا میں باہمی اختلاف ہو انہیں افراد کے طور پر شناخت تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان میں باہمی مشابہت نہ ہو تو انہیں ایک گروہ یا جماعت کے طور پر شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی جماعت کے اندر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے مشابہت موجود ہو۔ درجِ ذیل اشیا پر غور کریں: آم، پتھر، طوطا، کمپیوٹر، لکڑی، خلا، آسمان، دنیا، جاہل، بلب، ختم، آب، تقسیم، دلیل، جملہ، مچھر بتی، تصویر، خیال، ذہن۔ ظاہر ہے، یہ سب افراد ہیں کیونکہ ان میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن ان میں اگر ایک نظام قائم کرنا مقصود ہو، تو ضروری ہوگا کہ ایک طرح کی اشیا کو ایک درجے میں اور دوسری کو دوسرے درجے میں رکھیں: پتھر، آب، لکڑی۔ بلب، مچھر بتی، کمپیوٹر۔ دنیا، آسمان، خلا۔ ختم، تقسیم۔ دلیل، جملہ۔ خیال، ذہن، تصویر۔ جاہل۔ اس درجہ بندی سے معلوم ہوا کہ نظام اشیا کی صرف باہمی تفریق یا اختلاف سے نہیں، بلکہ باہم مشابہ اشیا کے اختلاف سے قائم ہوتا ہے۔ یہ ...

لانگ - پارول اور مفاہیم اعظم و اصغر

مرزا سلطان احمد کے مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کے تصور پر غور کرتے وقت ذہن بے اختیار سوسیئر کے لانگ پارول ڈسٹنکشن کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ لانگ ایک مجرد نظام ہے جبکہ پارول اس کا واقعاتی اور انفرادی اظہار، لیکن مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کے ذریعے مرزا صاحب یہاں تمام تر علوم و فنون اور انسانی سرگرمی کے تمام شعبوں بلکہ تمام تر موجودات کے متعلق ایک قاعدے اور ضابطے کا ذکر کر رہے ہیں جس میں زبان بھی شامل ہے۔اس لحاظ سے یہاں مرزا صاحب کے "مفہوم اعظم" اور "مفہوم اصغر" کو بالترتیب سوسیئر کے لانگ اور پارول کے مقابلے پر لانا غیرموزوں نہیں۔  گوپی چند نارنگ  اپنی کتاب ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات میں کہتے ہیں کہ سوسیئر کے مطابق لسانی قواعد و ضوابط کا جامع ذہنی اور تجریدی نظام لانگ اور انفرادی تکلم پارول ہے۔اسی طرح ادب میں بھی انفرادی طور پر جو فن پارے وجود میں آتے ہیں، (یعنی ادبی پارول) وہ بھی ادب کے جامع تجریدی نظام (ادبی لانگ) سے ماخوذ ہیں۔(صفحہ 469-70) آگے انہوں نے خاصی کامیاب کوشش کی ہے کہ کس طرح لانگ اور پارول کے تصور کو مشرق کی ادبی روایت میں "ادبی لانگ ا...

مشینِ ناطق بمقابلہ حیوانِ ناطق

مشین ناطق اب بھی حیوان ناطق کے مقابلے کی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے ایک اعلی ماڈل کی تنقید کچھ اس طرح کی جسے میں نے باقاعدہ سبسکرائب کیا تھا: “آپ نے  اپنی تحریر میں کسی کد و کاوش سے کام نہیں لیا۔ اس مسئلے پر جامعیت کے ساتھ گفتگو کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ آپ اردو کے نقادوں کی ایک فہرست گنوا دیں، بلکہ آپ کو دراصل یہ بتانا تھا کہ اردو میں سب سے پہلے تنقید کس شکل میں ظاہر ہوئی، بالعموم کس قسم کی تحریروں میں اور بالخصوص کن شخصیات کا حوالہ اس سلسلے میں دیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بتانا تھا کہ  اردو میں باضابطہ تنقید کا آغاز کس نقطے کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، آپ کو چند سطروں میں اس پر بھی لکھنا چاہیے تھا، پھر اردو تنقید کے ارتقا کے اہم موڑ کیا رہے اور وہ کون لوگ  تھے جنہوں نے نئے راستے نکالے اور نئے موڑ لیے اور ان کی وجہہ سے اردو تنقید کیا سے کیا ہوتی چلی گئی۔ نیز معاصر اردو تنقید تک آتے آتے اس کا ارتقا کن رخوں پر ہو رہا ہے بالخصوص کن ناقدوں کے زیر قیادت۔۔۔  یہ ہے وہ بنیادی طریقہ جو ایک نقشہ بناتا ہے اور تنقیدی رجحانات اور ناقدوں کی شخصیات کے درمیان توازن بھی پیدا کرتا ہے۔ آپ نے اتن...

حقیقی اکائی ایک مفروضہ ہے

مادہ کے سادہ ترین تصور کی حیثیت سے ایٹم کا خاتمہ کب کا ہو چکا۔ یعنی اس جز لا یتجزی کا جو مزید قابل تقسیم نہیں۔ اور اگر اسی تعریف کو تسلیم کریں تو اب ایٹم نہیں بلکہ کوارک یا اسٹرنگ جز لا یتجزی کے کردار میں ہے۔ اصل میں اسٹرنگ ہو یا کوارک، یہ سب دیکھنے کی حدود ہیں۔ زمان، مکان، اور مادہ حقیقی ہے۔ انسان کے دیکھنے کا طریقہ حقیقی ہے۔ انسانی شعور حقیقت ہی کو دیکھتا ہے اور حقیقت کے ماورا دیکھنے کی کوشش غیر حقیقی ہے۔ حقیقت ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں یہاں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ ہمیشہ سے ہے اور رہے گا۔ یہ عمل اور یہ لمحہ جو وجود میں آ گیا اور وجود میں آ رہا ہے ایک دائمی حقیقت تھی۔ کائنات کی کوئی قوت اس ہونے کو ان ہوا نہیں کر سکتی۔جو ایک بار ہو گیا وہ ہمیشہ سے تھا اور رہے گا۔ سائنسداں یہ کہتے ہیں کہ دنیا دیکھنے کے عمل میں وجود میں آ جاتی ہے۔ تو حقیقت محض دیکھنا اور دکھائی دینا ہے۔ اور ہونا کیا ہے، اس کو آپ کسی طرح دیکھ نہیں سکتے کیونکہ آپ پہلے ہی اتنا دیکھ چکے ہیں جتنا کہ حقیقت ہے۔ اس سے زیادہ دیکھنے کی خواہش آپ کو مزید دکھا سکتی ہے لیکن وہ نہیں جو آپ چاہتے ہیں کہ وہ جو پہلے ہی موجود ہے ا...