نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

کچرے کا مستقبل

کچرے کے پاس مستقبل ہو نہ ہو، اس کا ایک ماضی ضرور ہوتا ہے۔ کبھی وہ شو کیس میں لذیذ بسکٹ کا پیکٹ ہوا کرتا تھا۔ جب بسکٹ ختم ہو گئی، تو اس کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ ایسے ہی تم بھی استعمال شدہ ہو۔ تمہیں بھی ڈسٹ بن میں پھینک دیا گیا۔ اور تم وہاں پڑے ہوئے بھج بھجا رہے ہو۔ تم وہاں سے اپنے سنہرے ماضی کی طرف دیکھتے ہو، اور اسی میں لوٹنا چاہتے ہو۔ اور تمہیں مستقبل کی فکر نہیں ہے۔ ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ کچرے کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا الا یہ کہ وہ سڑ گل جائے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ تم ایکوفرینڈلی کچرا نہیں ہو۔ تم پلاسٹک ہو۔ اور تمہیں صرف رسائکل کیا جا سکتا ہے۔
کچرا کبھی کہتا ہے کہ میں رسائیکل ہونا چاہتا ہوں؟ ہاں کچرے کی یہ تمنا ضرور ہوتی ہے کہ وہ واپس شو کیس میں پہنچ جائے۔ واپس چاکلیٹ کا ریپر، صابن کی ٹکیا کا چمکیلا کاغذ بن جائے۔ اس لیے وہ بار بار ذہن کو متوجہ کرتا کہ دیکھو، ہم بھی کبھی شو کیس میں سجے تھے، بلا سے تم مانو، نہ مانو، لیکن ہماری بھی کچھ شان و شوکت تھی۔ لوگ ہم کو خریدنے آتے تھے۔
کچرے کو رسائیکل ہونے کی تمنا نہیں ہوتی۔ وہ جہاں پڑا ہے وہیں پڑا ڈینگ مارتا رہتا کہ دیکھو ہم لکس، ہم سنتور، ہم ڈب شیمپو، اور یہ دیکھو، ہم شیمپین، ہم بیگ پائیپر، ہم فلاں ہم چلاں۔۔۔ کچرا اپنی جگہ آواز لگاتا رہتا، دعوتِ فکر دیتا رہتا، مگر کس کو فرصت، کون سنتا ہے؟ کون رکتا ہے ان پر لکھی ہوئی تحریر پڑھنے کو کہ ڈسٹ بن میں پڑے ریپر کا برانڈ نیم کیا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ وہ کچرا ہے۔ البتہ غریب غربا کے کچھ ندیدے بچے ایسے ہوتے ہیں جو پہلے تو کھیل کھیل میں کچرا جمع کرتے، پھر آہستہ آہستہ یہی ان کا کام ہو جاتا، وہ اپنے سنہرے ماضی پر نازاں ان کچروں کو بورے میں بند کر کے کباڑ خانے یا رسائیکل فیکٹری میں لے جاتے اور سو پچاس روپے میں فروخت کر دیتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی ایک کچرا فروش ہوں۔ پہلے کبھی بڑے غور سے پڑھتا تھا کہ کچرے پر کیا دعوے تحریر ہیں۔۔۔میں ہوں اصلی لائف بوائے صابن، لائف بوائے ہے جہاں تندرستی ہے وہاں۔ اب نہیں پڑھتا کہ کچرے پر کیا لکھا ہوا ہے۔ کچرا اپنی اصل حیثیت کے متعلق جتنا ہی چیخے میں اس کو بورے میں بند کر کے پیٹھ پر لادتا ، اور کباڑخانے میں پٹک آتا ہوں۔جہاں اس کے اوپر لکھے ہوئے دعوے کا وزن نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ خود کس قسم کی پلاسٹک سے بنا ہے۔ پھر وہ لاکھ شور مچائے، اس کو رسائیکل ہونا ہی ہے۔وما علینا الا البلاغ۔ و آخر دعونا ان الحمد للہ!۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

خدا خدا کیجے: مودودی اسلام پسندوں کا تصورِ ادب

11 جنوری 2014 کو میں نے عبدالحمید عدم کی درج ذیل نظم فیس بک پر پوسٹ کی تھی : شیخ صاحب خدا خدا کیجیے یہ حسیں عورتیں یہ تصویریں رحمت ایزدی کی تفسیریں جن کے ہونٹوں میں آب حیواں ہے جن کے چہروں کا نام قرآں ہے جن کے گیسو نگار خانے ہیں جن کے زیر نگیں زمانے ہیں جن کی ضو سے چراغ روشن ہیں زندگی کے ایاغ روشن ہیں جن کی آنکھوں سے مئے ٹپکتی ہے آب کوثر سی شئے ٹپکتی ہے یہ جہنم میں جانے والی ہیں آپ کی منطقیں نرالی ہیں شیخ صاحب خدا خدا کیجے یہ مغنی یہ دلربا ساحر یہ مصور یہ خوشنوا شاعر جن کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں زندگی کے اصول جھڑتے ہیں جو ستاروں کو نور دیتے ہیں طور کو برق طور دیتے ہیں نگہت گل ہے گفتگو جن کی موج دریا ہے ہاؤ ہو جن کی جن سے یزداں کلام کرتا ہے جن کو سورج سلام کرتا ہے یہ جہنم میں جانے والے ہیں آپ کے فلسفے نرالے ہیں شیخ صاحب خدا خدا کیجے یہ عبائیں یہ داڑھیاں یہ صفیں اجلی اجلی نظر فریب کفیں ! یہ نگاہوں کے سرمگیں ڈورے وعظ میں انگبیں کے ہلکورے عنبروعود کے لطیف غلاف ! نام یزداں پہ ہر گناہ معاف مغبچوں کی حسیں مناجاتیں ...