گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
[ چیٹ جی پی ٹی سے یہ گفتگو میں نے کوانٹم نظریہ اور ڈبل سلٹ تجربہ کو سمجھنے کے لیے شروع کی تھی لیکن بحث کا رخ کسی اور طرف مڑ گیا۔ لیکن اس عمل میں فائدہ یہ ہوا کہ متعدد امور میں میرے خیالات کسی قدر وضاحت سے نہ صرف یہ کہ سامنے آئے بلکہ خود دوران گفتگو ان کی تشکیل بھی ہوئی حالانکہ اس میں کوئی نکتہ ایسا نہیں ہے جسے میں نے مصنوعی ذہانت سے پایا ہو بلکہ ہر نکتہ میرے ذہن میں پہلے ہی کسی مخفی صورت میں موجود تھا جو اس بحث کے دوران سامنے آیا۔ میری اس بحث میں متعدد مقامات پر باہم متصادم نکات بھی مل سکتے ہیں لیکن اس گفتگو کا حاصل وہ مجموعی منشا ہے جو صرف میرے پرامپٹس میں دیکھا جا سکتا ہے اگر یہ ممکن ہو۔ انشا اللہ آگے بھی یہ بحثیں جاری رہیں گی تا کہ ایک زیادہ مکمل نقشہ وجود میں آئے۔ طارق احمد صدیقی] طارق احمد صدیقی: آپ نے میرے ایک جملے کو کوٹ کر کے اس پر تنقید کی تھی: // پہلا دعویٰ: “الیکٹران مشاہدہ کیے جانے پر اپنا رویہ بدلتے ہیں۔” اس میں ایک احتیاط ضروری ہے۔ مقبول انداز میں اکثر کہا جاتا ہے کہ “الیکٹران دیکھے جانے پر اپنا رویہ بدل لیتے ہیں”، لیکن کوانٹم طبیعیات میں “دیکھنا” سے مراد شعوری انسان کا د...