گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
مادہ کے سادہ ترین تصور کی حیثیت سے ایٹم کا خاتمہ کب کا ہو چکا۔ یعنی اس جز لا یتجزی کا جو مزید قابل تقسیم نہیں۔ اور اگر اسی تعریف کو تسلیم کریں تو اب ایٹم نہیں بلکہ کوارک یا اسٹرنگ جز لا یتجزی کے کردار میں ہے۔ اصل میں اسٹرنگ ہو یا کوارک، یہ سب دیکھنے کی حدود ہیں۔ زمان، مکان، اور مادہ حقیقی ہے۔ انسان کے دیکھنے کا طریقہ حقیقی ہے۔ انسانی شعور حقیقت ہی کو دیکھتا ہے اور حقیقت کے ماورا دیکھنے کی کوشش غیر حقیقی ہے۔ حقیقت ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں یہاں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ ہمیشہ سے ہے اور رہے گا۔ یہ عمل اور یہ لمحہ جو وجود میں آ گیا اور وجود میں آ رہا ہے ایک دائمی حقیقت تھی۔ کائنات کی کوئی قوت اس ہونے کو ان ہوا نہیں کر سکتی۔جو ایک بار ہو گیا وہ ہمیشہ سے تھا اور رہے گا۔ سائنسداں یہ کہتے ہیں کہ دنیا دیکھنے کے عمل میں وجود میں آ جاتی ہے۔ تو حقیقت محض دیکھنا اور دکھائی دینا ہے۔ اور ہونا کیا ہے، اس کو آپ کسی طرح دیکھ نہیں سکتے کیونکہ آپ پہلے ہی اتنا دیکھ چکے ہیں جتنا کہ حقیقت ہے۔ اس سے زیادہ دیکھنے کی خواہش آپ کو مزید دکھا سکتی ہے لیکن وہ نہیں جو آپ چاہتے ہیں کہ وہ جو پہلے ہی موجود ہے ا...