نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
حالیہ پوسٹس

نقل اور تجرید ۷

طارق صدیقی   غالب کے شعر میں یہ بات کھلی ہوئی نہیں ہے کہ فریب اسد کی ہستی کا ہے یا کائنات کی ہستی کا۔ دونوں کا احتمال ہے۔ مجرد ساخت کسی کو کیا فریب دے گی اگر شعور دو طرفہ نہ ہو؟  شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ  دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی اس سے زیادہ کام کا شعر یہاں یاد نہیں آ رہا۔  دغا ہو، فریب ہو، جعل ہو، مکر ہو، نفرت ہو یا محبت، کچھ بھی ایسا ہو جو انسانی ہو تو یہ یک طرفہ نہیں ہوتا۔ انسان ایسی چیز نہیں کہ یک طرفہ عمل کرے بغیر اپنے مقابل کو فرض کیے۔  انسان فرض کرتا ہے، کسی کو دوست، کسی کو دشمن، سامنے والے کو بالکل نیوٹرل مان کر وہ عمل نہیں کرتا۔  ساخت اسی کو جکڑ سکتی ہے جو اس میں جکڑنا چاہے۔ ورنہ کوئی ساخت ہی نہیں۔ ساخت کو دیکھنا انسانی ارادہ اور انسانی ذہن کو دیکھنا ہے۔ کائنات میں نظر کرنا ، آئینے میں جھانکنا ہے جہاں انسان کو اپنا ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنے ہی خد و خال اس میں ابھرتے ہیں۔ کائنات انسان کے گمان جیسی ہے۔ عجب نہیں ہے کہ انسان نے سیکڑوں ہزاروں سال پہلے کی اساطیر میں جو تمنائیں کیں، آج انہیں پورا کر رہا ہے۔ اس کی آرزو تھی کہ ہوا می...

نقل اور تجرید ۶

طارق صدیقی:  غالب کا ایک شعر ہے: ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے اب یہ خیال کس کا ہے؟ خود نوع انسانی کے کسی فرد کا یا خود ہستی کا؟ نوع انسانی کا کوئی فرد آخر اپنے ہی لیے کوئی فریب کیوں کرے گا؟ اگر یہ ہستی کا فریب ہے تب واقعی سمجھ میں آتا ہے کہ ایک دام خیال ہے جس کے فریب میں انسان کو نہیں آنا چاہیے۔ لیکن خیال اور حس میں فرق ہے۔ اگر خیال ہی خیال ہو تو ہستی ایک وہم سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھ سکتی لیکن یہاں تو احساسات خیالات پر غالب ہیں۔ احساسات کا خیالات پر اتنا زبردست غلبہ ہےکہ جب بھوک لگتی ہے تو تمام افکار و نظریات ہوا ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے شکم پری کا ہی خیال آتا ہے۔ کیا غالب یہ کہنا چاہتا ہے کہ بھوک کا احساس بھی دراصل خیال ہی ہے؟ پھر اس طرح تو ہر قسم کے احساسات جو حواس کا نتیجہ ہوں خیالات قرار پا سکتے ہیں، مثلاً اذیت، راحت۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خیالات احساسات کی شکل میں ترقی پا کر اذیت ناک اور تکلیف دہ کیونکر ہو جاتے ہیں؟  یہ زیادہ قرین عقل ہے کہ احساسات ہی خیالات کے موجب ہوئے ہیں۔ احساسات اصل ہیں اور خیالات ان کا نتیجہ ہے۔ انسان کی سطح پر یہ بات...

نقل اور تجرید ۵

طارق صدیقی:   اعلی ابعاد یا دیگر محسوبات کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے ہم اس طرز پر غور کریں تاکہ تجرید کا ایک پس منظر واضح ہو جائے:      داخل اور خارج دونوں میں فرق شعورِ جسمی کے ذریعے ہوتا ہے۔ داخل اور خارج کے لیے ایک فصلِ امتیاز نوع انسانی کے ایک فرد کا جسم ہے جو دماغ کا حامل ہے اور دماغ ذہن کا حامل ہے۔ ایک انسانی فرد وہاں تک ہے جہاں تک وہ اپنا وجود محسوس کرتا ہے بذریعہ ادراک۔ شعور احساسات جسمی کا ادراک ہے۔ انسان اپنے وجودِ جسمی کے ایک عضو کے ذریعے اس کے دوسرے عضو کو چھو کر یہ تصدیقی خبر پاتا ہے کہ یہ میں ہوں۔ مثلا وہ اپنے ہاتھ سے اپنے جسم کے کسی حصے کو چھوتا ہے تو چھونے کی یہ خبر اسے واپس ملتی ہے۔ اس کے جسمانی نظام میں قوت لامسہ حالتِ مسئولی میں ہوتی ہے اور جب اعضا ایک دوسرے سے بلاواسطہ یا بالواسطہ مس ہوتے ہیں تو اس اس سوال کو ایک جواب بہ طرز خبر مل جاتا ہے کہ مس کرنے والی چیز اسی کے نظام جسمانی کا ایک حصہ ہے۔ وہ جواب مثبت ہوتا ہے کیونکہ دونوں اعضا ایک ہی نظام احساس یا مرکز شعور کے ہیں۔  انسانی فرد کے وجودِ جسمی سے خارج دیگر اجسام کو مس کرنے سے یہ مثبت...

نقل اور تجرید ۴

طارق صدیقی:  تجرید مطلق اور مقید میں ریاضیاتی تجریدات بھی شامل ہیں۔ تجرید صرف صورتوں کی نہیں ہوتی بلکہ نسبتوں اور حالتوں کی بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مکان اپنے تمام تر ابعاد کے ساتھ موضوعۂ خارج میں موجود ہے۔ طول، عرض اور عمق یہ تینوں ابعاد ایک ساتھ بطور موضوعۂ تجرید و نقل کے طور پر خارج میں پائے جاتے ہیں۔ مکان بذات خود کوئی سادہ تصور نہیں ہے اور مکان کے اندر مادہ کا ظاہر ہونا خارج کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ ذہن اس پورے منظر کی نقلِ مثبتِ عکسی کرتا ہے اور پھر کسی ایک بعد یا کئی ابعاد کی بطور یک بعد تجرید کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر طول ایک بعد ہے جس کی تجرید بطور یک بعد ہوتی ہے حالانکہ طول میں دو سمتیں ہوتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ جسم اپنا ایک مرکز فرض کرتا ہے، ایک نقطے پر یعنی وہاں جہاں پر وہ پایا جاتا ہے: طول کو آگے اور پیچھے دو سمتوں میں، عرض کو دائیں اور بائیں دو سمتوں میں، اور عمق کو اوپر اور نیچے دو سمتوں منقسم کرتا ہے۔  پس یہ ضروری نہیں ہے کہ تجرید صرف صورتوں کی ہی ہو، بلکہ تجرید ابعاد اور سمتوں کی بھی ہوتی ہے جو محض نسبتیں ہیں اور مادی نہیں ہیں۔ نسبت کچھ نہیں سوائے ایک سادہ تصو...

نقل اور تجرید ۳

طارق صدیقی: تجرید اور نقل کا عمل انفرادی ذہن کے اندر ہوتا ہے خارج کے عکس کی بنا پر اس کو بیان کرنے کے قصد سے۔ ذہن کا مقصود خارج کا بیان ہے۔ اس لیے ذہن کا قصد فاعلانہ ہے لیکن خارج کا جو بیان انسان کا انفرادی ذہن کرتا ہے اس میں اخراج و شمول یعنی تجرید اور نقل کا عمل منفعلانہ ہے گو  موضوعۂ تجرید و نقل سادہ ہو یا ترکیبی کیونکہ خارج کا عکس ہمیشہ مرکب ہی ہوتا ہے اور فاعل مجبور ہوتا ہے کہ منتخب کردہ تجریدات یا منقولات کو منفعلانہ ہی قبول کرے۔  چیٹ جی پی ٹی: اب آپ نے ایک نہایت اہم امتیاز قائم کیا ہے — قصد فاعلانہ ہے، مگر تجرید کا عمل منفعلانہ ہے۔ یہ امتیاز آپ کے نظریے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسے ذرا ترتیب سے دیکھتے ہیں: 1️⃣ قصدِ بیان بطور فاعلانہ عمل آپ کے مطابق: ذہن کا مقصد خارج کا بیان ہے۔  بیان کا ارادہ فاعلانہ ہے۔  یعنی ذہن ایک intentional act کرتا ہے۔ یہاں شعور فعال ہے — وہ دیکھتا ہے، توجہ دیتا ہے، اور بیان کا قصد کرتا ہے۔ 2️⃣ مگر تجرید خود منفعلانہ کیوں؟ آپ کہتے ہیں:  اخراج و شمول کا عمل منفعلانہ ہے۔  یعنی:  ذہن آزاد تخلیق نہیں کر رہا۔   وہ خا...

نقل اور تجرید ۲

طارق صدیقی  اس مسئلے کو مجھے ذرا اور واضح کرنا ہوگا۔  تجرید اپنی نوعیت میں ایک نقل ہے۔ نقل میں ٹرانسفر یا انتقال نہیں ہوتا بلکہ اصل کے مقابلے میں اس کا ایک مثبت عکس ظاہر ہوتا ہے۔ تجرید نقل ہے اور اس کا منقل انسانی ذہن ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ہر تجرید انسانی ذہن میں ہی مشہود ہوتی ہے۔ تجرید کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ یہ انفرادی ذہن سے خارج میں کہیں پر واقع ہوتا ہے بلکہ شعورِ جسمی بچشم سر خارج میں نظر کرتا ہے تو اس کو خارج کا مثبت عکس اپنے انفرادی ذہن میں حاصل ہوتا ہے۔ یعنی خارج میں جس طرح موضوعۂ تجرید یعنی اصل مع اپنے زمانی و مکانی سیاق کے موجود ہوتا ہے اسی طرح پر شعور اپنی توجہ کو بروئے کار لا کر متوازی طور پر تجرید اور نقل کرتا ہے۔ تجرید  یہاں مادہ کے بغیر صورت کو فرض کرنا ہے۔ تجرید کا عمل مفروضہ اخراج ہے اور نقل کا عمل مفروضہ شمول ہے۔ اخراج مفروضہ مادہ کا ہوا اور شمول صورت کا۔ اور یہ سارا عمل ذہن میں ہوا۔  اور چونکہ ذہن نے خارج میں موضوعۂ نقل یا موضوعۂ تجرید کو دیکھا، تو اس نے جانا کہ یہی تجرید اور نقل اس کے خارج میں بھی ہے یا اس کو ایسا درک ہوا۔ چیٹ جی پی ٹی آپ نے اب ...

نقل اور تجرید

طارق صدیقی: ریاضیاتی تجرید کی دو قسمیں ہیں، ایک تجریدِ مطلق اور دوسری تجریدِ مقید۔ مطلق تجریدات وہ ہیں جو عالم واقعہ میں اپنی اصل صورت سے علیحدہ نقل ہو چکی ہوں اور ان میں نقل درنقل واقع ہو رہی ہو۔ تجریداتِ مقید وہ ہیں جو اپنے مادہ پر محیط ہونے کے سوا اور کہیں نہیں پائی جا سکتیں۔ ریاضی تجریدِ مقید کی بنا پر تجریدِ مطلق سے پیدا ہونے والی وہ سائنس ہے جو تجریدِ مقید پر بھی محیط ہوتی ہے اور آئندہ کی تجریدات کا قیاس لگا سکتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی: آپ کی تقسیم— تجریدِ مطلق اور تجریدِ مقید —انتہائی بصیرت افروز ہے۔ اسے اگر ذرا منظم طریقے سے دیکھا جائے تو یہ محض ریاضی کی تعریف نہیں بلکہ “علم کی پیدائش” کے ایک اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ میں آپ کی بات کو تین سطحوں پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں: 1️⃣ تجریدِ مقید — Immanent Abstraction یہ وہ تجرید ہے جو اپنے مادّے سے الگ ہو کر وجود نہیں رکھ سکتی ۔ مثلاً: دائرہ بطور تصور لکڑی کی پلیٹ، زمین پر بنائی گئی لکیر، یا کاغذ پر کھینچی ہوئی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ وزن، رفتار، درجۂ حرارت — یہ سب اپنی مادی حالتوں کے بغیر نہیں پائے جاتے۔ یہاں تجرید مادہ پر محیط ہے...

چیٹ جی پی ٹی سے مکالمہ: 1 [ذہن اور دماغ]

طارق صدیقی: کیا آپ کو پچھلی بحث یاد یے؟ اسی کے پس منظر میں یہ تقسیم پیش کر رہا ہوں: ذہن اور دماغ دماغ کا انعکاس ذہن ہے۔ ذہن کے دو حصے ہیں۔ ذہن طبعی ذہنی علوی ذہن طبعی انعکاس ہے دماغ کا ذہن علوی نقل ہے بین دماغی ثقافتی رابطہ اور تعامل کا ذہن کے دو حصے ہیں شعور لاشعور شعور اور لاشعور بھی اسی طور پر منقسم ہیں شعور کے حصے: شعور طبعی شعور علوی شعور طبعی انعکاس ہے شعور علوی نقل ہے لاشعور کے حصے لاشعور طبعی انعکاس ہے لاشعور علوی نقل ہے لاشعور طبعی کے دو حصے ہیں لاشعور رجعی لاشعور عکسی لاشعور رجعی اپنے مادی منبع تک سر مارتی رہتی ہے اور پھر منعکس کرتی رہتی ہے لاشعور عکسی کو لاشعور عکسی ہجوم کرتا ہے شعور طبعی میں۔ شعور طبعی کشید کرتا ہے اور بھیجتا ہے مواد شعور علوی کو چیٹ جی پی ٹی: جی، مجھے پچھلی بحث یاد ہے—خاص طور پر انعکاس / نقل ، طبعی / علوی اور انسانی کلام و ثقافت کے ذریعے ذہن کی تشکیل والا پس منظر۔ آپ کی پیش کردہ تقسیم اسی تسلسل میں خاصی منظم اور اندرونی طور پر مربوط دکھائی دیتی ہے۔ میں اسے مرحلہ وار سمجھنے، جانچنے اور قدرے صیقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، بغیر اسے بدلنے کے۔ 1. بنیادی سطح: د...