گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
اشیا کا باہمی اختلاف انہیں افراد کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتا ہے۔ اور اشیا کی باہمی مشابہت انہیں گروہ کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتی ہے۔ جن اشیا میں باہمی اختلاف ہو انہیں افراد کے طور پر شناخت تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان میں باہمی مشابہت نہ ہو تو انہیں ایک گروہ یا جماعت کے طور پر شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی جماعت کے اندر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے مشابہت موجود ہو۔ درجِ ذیل اشیا پر غور کریں: آم، پتھر، طوطا، کمپیوٹر، لکڑی، خلا، آسمان، دنیا، جاہل، بلب، ختم، آب، تقسیم، دلیل، جملہ، مچھر بتی، تصویر، خیال، ذہن۔ ظاہر ہے، یہ سب افراد ہیں کیونکہ ان میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن ان میں اگر ایک نظام قائم کرنا مقصود ہو، تو ضروری ہوگا کہ ایک طرح کی اشیا کو ایک درجے میں اور دوسری کو دوسرے درجے میں رکھیں: پتھر، آب، لکڑی۔ بلب، مچھر بتی، کمپیوٹر۔ دنیا، آسمان، خلا۔ ختم، تقسیم۔ دلیل، جملہ۔ خیال، ذہن، تصویر۔ جاہل۔ اس درجہ بندی سے معلوم ہوا کہ نظام اشیا کی صرف باہمی تفریق یا اختلاف سے نہیں، بلکہ باہم مشابہ اشیا کے اختلاف سے قائم ہوتا ہے۔ یہ ...