گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
پڑھو اے بی سی ڈی
جتنے مرد ہیں
اتنی عورتیں
یعنی برابر برابر
تو سنسد میں بھی ، فوج میں بھی
دونوں ہوں گے برابر برابر
نہ ایک کم نہ ایک زیادہ
بلکہ پردھان منتری بھی دو ہوں گے
ایک مرد ، ایک عورت
مرد مردوں کا پردھان منتری
عورت عورتوں کی پردھان منتری
مگر ایک میان میں دو تلواریں
نہیں رہ سکتیں
دو پردھان منتریوں سے
ایک دیش نہیں چل سکتا
اس لیے پارٹیشن بہتر ہے
مردوں کا دیش الگ
عورتوں کا دیش الگ
دونوں دیشوں کی اپنی سنسد
اپنی سرحد ، اپنی فوج
اور جہاں پر
دونوں دیشوں کی سیما ریکھا ملے گی
وہ نو مینس لینڈ ہوگا
—”اور ایچ آر ڈی کا کیا ہوگا بھین جی؟“
ایچ آر ڈی کا کیا ہوگا ، ا یچ آر ڈی کا کیا ہوگا !
ہم مشین نہیں عورتیں ہیں مردوادیو سمجھے
ایچ آر ڈی کا کام نومینس لینڈ میں ہوگا!
”تھینک یو بھین جی ، پاسپورٹ کے چکر سے تو نجات ملی !“
2006
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں