گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
ابھی نہیں مالک
ابھی نہیں مولا
ضعیفی میں
میں آسانی سے مرنا چاہتا ہوں
اپنی طبعی موت
اپنے بستر پر
رات کو سونے کے بعد
گہری نیند میں
مجھ سے پہلے
مر چکی ہو ماں
مجھ سے پہلے
مر چکا ہوباپ
جو سمجھتا ہے مجھے لاٹھی بڑھاپے کی
اور صفیہ
مجھ سے پہلے مر چکی ہو
اور نافرمان اولادیں مری زندہ رہیں
بدن پر کوڑھ کی مانند
اور انور بھی
مجھ سے پہلے مر چکا ہو
کٹ چکے ہوں دوستی کے سلسلے سارے
پرانے اور نئے
تاکہ تنہائی مقدر ہو مرا یہاں تک کہ
زندگی بوجھ بن جائے
اور پھر تیری ضرورت ہو
تب اٹھا لینا مجھے مشکل کشا
ابھی نہیں مالک
ابھی نہیں مولا
(2006)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں