گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
ہم تم
ترجمے ہیں دوست
ایک دوجے کے لیے
آج تک
جو بھی کہا میں نے تمہیں
جو بھی کہا تم نے مجھے
سب ترجمہ پن سے
کون سمجھا ہے کسی کو تہہ تلک
خوامخواہ جذبات کی رو میں
سنو
اوریجنل کچھ بھی نہیں ہمدم
تم وہی ہو ایو
میں وہی آدم
اسی ڈسکورس میں جینا
اسی ڈسکورس میں مرنا
کبھی اقرار کا چکر
کبھی انکار کا دھرنا
یہی اپنا مقدر ہے
یہی ہے زندگی کرنا
متن سے کھینچ لوں گا ایک دن بالجبر
نفس معنی کی طرح تم کو
توڑ ڈالوں گا کسی دن فن کی زنجیریں تمام
(2006)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں