گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
ناری تم لوک کتھا کی وہی پری ہو
دور گگن سے اس دھرتی پر
کریڑا کرنے جو آتی تھی
یہیں بس گئی
یہیں بس گئی ؟
نہیں نہیں
اک دانو نے پکڑ لیا تھا
جس کے جھلمل نبھ پنکھوں کو
دھر پوَرُش سے کتر دیا تھا
جس کے تن کو
تن کے من کو
اس دانو نے
بس اک چھن میں
رشتوں ناتوں سمبندھوں کے
کرُور جال میں جکڑ لیا تھا
پھر ُیگ جانے کتنے بیتے
پنکھ رَہِت اُن بیاکل ڈَینوں کی تڑپھن میں
سونا چاندی ، ہیرے موتی
لعل ، جواہر ، نیلم روبی
مٰخمل ،ریشم، خوشبو
سب نیوچھاور
سب نیوچھاور اس کے تن پر
پھر بھی من تھا چھٹ پٹ چھٹ پٹ
جیسے جل بن مچھلی
سورج، چندا اور ستارے
گنگا ،جمنا اور ہمالَے
آتی جاتی ساری رِتوئیں
کلی، پھول اور تتلی، بھونرے
سب روتے تھے
اس کے دکھ پر
یہ کہتے تھے
اڑ جا وپھرمُکت گگن میں
پنکھ لگا کر نقلی
او ری پگلی
2005
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں