گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
بلی ، کتے ، گدھے ، بندر، سور
پیارے پیارے اور بھیانک ، گندے
یا نالی کے کیڑے بھِن بھِن
یا مکھی مچھر، تتلی بھونرے بھَن بھَن
سب جیتے ہیں اوپر اوپر
عام سطح پر باہر باہر
اِس مایا سے اُس مایا پر
جا پڑتے ہیں جبری جبری بے خبری میں
نہیں جانتے سب کایا ہے فانی
جو ظاہر ہے سب چھایا ہے جانی
ظاہر باہِر کوئی حقیقت
نہیں ہے ایسی تیسی اس دنیا کی
چل بھیتر جا
فلس فلس فس
ہاں بھیتر جا
رینگ رینگ کر
سرک سرک کر
اپنے اندر
ڈوب خودی میں
اُب ڈُب اُب ڈُب
پھر باہر آ
کھول کے آنکھیں
دیکھ یہ دنیا، سندر اور بھیاوہ
ہے قدموں میں آنکھ بچھائے
لوٹ رہے ہیں کس شردھا سے سب دوپائے
جیت لیا نا آخر تو نے
بھیتر جا کر اس دنیا کو مردِ قلندر
مرد ِسکندر اس مایا کو، اس مدیرا کو
چھان لیا ناآخر
جی لینا ہے ٹھان لیا نا آخر!
2009
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں