گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
مولانا مودودی کے ہاں فاشزم، نازی ازم اور کمیونزم کے لیے نرم گوشہ کا پایا جانا ایک حقیقت ہے۔ میں آج اپنے اس دعوے کے حق میں کچھ تازہ اور ناقابل انکار ثبوت پیش کروں گا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر اپنی ایک بحث میں مولانا مودودی کی ایک کتاب سے من و عن ایک اقتباس نقل کر چکا ہوں جس کے مطابق ان کی نظر میں اسلامی ریاست ’’فاشستی اور اشتراکی حکومتوں سے ایک گونہ مماثلت‘‘ رکھتی ہے۔ بالفرض محال، اگر اسلام یا دیگر نظریات کے مابین بظاہر کچھ مماثلت ہے بھی (جیسا کہ مودودی فرماتے ہیں، نعوذباللہ ثم استغفراللہ! ) تو صرف ظاہری سطح کی بنا پر ایسا کوئی حکم لگانا ہرگز درست نہ تھا کیونکہ اول تو اسلام بنیادی طور پر جدید فاشزم سے تیرہ سو سال پہلے ایک بہت زیادہ مختلف سیاق میں وجود میں آیا، دوم یہ کہ اسلام خدا تعالی کے ذریعے عطا گیا دین ہے اور سوم یہ کہ فاشزم و کمیونزم جیسے نظریے انسانی ذہنوں کی پیداوار ہیں۔ پس، دینی و شرعی نقطہ نظر سے اسلام اور دیگر نظاموں میں کوئی قدر مشترک یا مماثلت ڈھونڈنا ایک سطحی اور غیرضروری بات ہے یہاں تک کہ بات سمجھانے کی غرض سے بھی ایسا کرنا ایک نازیبا فعل مانا جائے...