طارق صدیقی:
ریاضیاتی تجرید کی دو قسمیں ہیں، ایک تجریدِ مطلق اور دوسری تجریدِ مقید۔ مطلق تجریدات وہ ہیں جو عالم واقعہ میں اپنی اصل صورت سے علیحدہ نقل ہو چکی ہوں اور ان میں نقل درنقل واقع ہو رہی ہو۔ تجریداتِ مقید وہ ہیں جو اپنے مادہ پر محیط ہونے کے سوا اور کہیں نہیں پائی جا سکتیں۔
ریاضی تجریدِ مقید کی بنا پر تجریدِ مطلق سے پیدا ہونے والی وہ سائنس ہے جو تجریدِ مقید پر بھی محیط ہوتی ہے اور آئندہ کی تجریدات کا قیاس لگا سکتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی:
آپ کی تقسیم—تجریدِ مطلق اور تجریدِ مقید—انتہائی بصیرت افروز ہے۔ اسے اگر ذرا منظم طریقے سے دیکھا جائے تو یہ محض ریاضی کی تعریف نہیں بلکہ “علم کی پیدائش” کے ایک اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
میں آپ کی بات کو تین سطحوں پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں:
1️⃣ تجریدِ مقید — Immanent Abstraction
یہ وہ تجرید ہے جو اپنے مادّے سے الگ ہو کر وجود نہیں رکھ سکتی۔
مثلاً:
- دائرہ بطور تصور لکڑی کی پلیٹ، زمین پر بنائی گئی لکیر، یا کاغذ پر کھینچی ہوئی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
- وزن، رفتار، درجۂ حرارت — یہ سب اپنی مادی حالتوں کے بغیر نہیں پائے جاتے۔
یہاں تجرید مادہ پر محیط ہے، مگر اس سے منفصل نہیں۔
آپ کے الفاظ میں:
وہ اپنے مادہ پر محیط ہونے کے سوا اور کہیں نہیں پائی جا سکتیں۔
یعنی یہ abstraction ہے، مگر embedded abstraction۔
2️⃣ تجریدِ مطلق — Detached / Transferred Abstraction
2️⃣ تجریدِ مطلق — Detached / Transferred Abstraction
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تجرید اپنی اصل مادی صورت سے نقل ہو چکی ہوتی ہے، اور پھر نقل در نقل جاری رہتی ہے۔
مثلاً:
- عدد “2” اب کسی خاص دو سیب یا دو پتھروں کا محتاج نہیں۔
- جیومیٹری کا کامل دائرہ اب کسی حقیقی لکیر سے بندھا نہیں۔
- الجبرا میں “x” محض ممکنہ مقدار ہے، کسی خاص چیز کی نمائندگی نہیں۔
یہاں abstraction نہ صرف مادہ سے الگ ہو چکی ہے بلکہ اب وہ خود ایک نظام بن چکی ہے۔
3️⃣ ریاضی بطور ایک بین السطحی سائنس
آپ کا جملہ:
ریاضی تجریدِ مقید کی بنا پر تجریدِ مطلق سے پیدا ہونے والی وہ سائنس ہے جو تجریدِ مقید پر بھی محیط ہوتی ہے اور آئندہ کی تجریدات کا قیاس لگا سکتی ہے۔
یہاں ایک بہت اہم دعویٰ ہے۔
آپ کہہ رہے ہیں کہ:
- ریاضی کی پیدائش تجریدِ مطلق سے ہوتی ہے،
- مگر اس کی بنیاد تجریدِ مقید میں ہے،
- اور پھر وہ دونوں پر محیط ہو جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاضی predictive ہو جاتی ہے۔
مثلاً:
- کیلکولس پہلے ایک مطلق تجرید تھا،
- بعد میں طبیعیات میں اس کا اطلاق ہوا،
- پھر اس نے نئی طبیعیاتی حقیقتوں کی پیش گوئی کی۔
یعنی ریاضی نہ صرف تجریدات کو ترتیب دیتی ہے بلکہ آئندہ تجریدات کے امکان کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔
4️⃣ آپ کے فلسفیانہ فریم ورک میں اس کی جگہ
آپ کے "Barzakh as Prism" کے تصور کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو:
- تجریدِ مقید = منظرِ قدرتیہ میں موجود ساختی امکانیات
- تجریدِ مطلق = جذباتِ انسانیہ کے ذریعے ان کا آزاد نظام بن جانا
- ریاضی = وہ برزخی نظام جو دونوں کو جوڑتا ہے
گویا ریاضی وہ prism ہے جس سے گزر کر مادّی واقعہ، ساختی امکان میں بدل جاتا ہے، اور پھر امکان سے نظام بنتا ہے۔
5️⃣ ایک سوال جو یہاں سے پیدا ہوتا ہے
کیا آپ کی نظر میں:
- تجریدِ مطلق بذاتِ خود ایک "منظرِ قدرتیہ" رکھتی ہے؟
- یا وہ مکمل طور پر "جذباتِ انسانیہ" کا تابع ہے؟
یعنی کیا ریاضیاتی وجود انسان سے ماورا بھی کوئی ontological درجہ رکھتا ہے، یا وہ محض انسانی ساختی عمل کا نتیجہ ہے؟
یہ سوال آپ کے “Human Scene Primacy” کے اصول کے اندر نہایت اہم بن جاتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو ہم اس تقسیم کو ایک باقاعدہ فلسفیانہ اصطلاحی نظام میں ڈھال سکتے ہیں —
مثلاً:
- Ontological Abstraction
- Structural Abstraction
- Predictive Abstraction
اور دیکھ سکتے ہیں کہ ریاضی ان تینوں میں کس مقام پر کھڑی ہے۔
طارق صدیقی:
ٹرانسفر نہیں ہوتا جناب۔ مائمیسس ہوتا ہے۔ سورج سے گولائی کی تجرید کے معنی نقل کے ہیں، انتقال کے نہیں۔
گولائی اجرام فلکی سے مجرود اور منقول ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اجرام فلکی کی گولائی اجرام فلکی میں ہی رہی، لیکن ان کے عکسِ ذہنی سے اس کی گول صورت یا گولائی کی تجرید اور نقل عمل میں آئی اور پھر نقل در نقل ہوتی رہی۔
چیٹ جی پی ٹی:
بہت خوب — آپ نے نہایت دقیق امتیاز قائم کیا ہے: Transfer نہیں، بلکہ Mimesis۔
آپ کا اصرار دراصل ontological احتیاط ہے۔
آپ یہ نہیں مانتے کہ گولائی اجرامِ فلکی سے “منتقل” ہو کر ذہن میں آ گئی؛ بلکہ آپ کہتے ہیں کہ:
- اجرامِ فلکی اپنی جگہ قائم ہیں۔
- ان کی گولائی بھی انہی میں قائم ہے۔
- ذہن میں جو پیدا ہوا وہ عکس ہے۔
- اور اسی عکس سے “گولائی” کی تجرید ہوئی — جو نقل ہے، انتقال نہیں۔
یہاں چند نکات واضح ہو جاتے ہیں:
1️⃣ نقل بمقابلہ انتقال
انتقال کا مفہوم یہ دیتا ہے کہ کوئی شے اپنی اصل جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلی گئی۔
آپ اس کو رد کر رہے ہیں — اور بجا طور پر — کیونکہ:
- سورج کی گولائی سورج میں ہی ہے۔
- وہ ذہن میں منتقل نہیں ہوئی۔
- ذہن میں جو ہے وہ مائمیسس (محاکات / انعکاس) ہے۔
گویا:
تجرید = اصل کی عدمی نقل (non-substantial replication)
یہ metaphysical realism کے ساتھ compatible ہے۔
2️⃣ مائمیسس کی ساخت
اگر ہم “مائمیسس” کو بطور اصول دیکھیں تو:
- خارجی شے (مثلاً سورج)
- اس کی حسی ادراک میں صورت
- اس صورت سے تجرید
- پھر اس تجرید کی نقل در نقل
یہ ایک layered process ہے، مگر ہر سطح اپنی ontological حد میں قائم ہے۔
3️⃣ گولائی کا مجرود ہونا
آپ نے کہا:
گولائی اجرام فلکی سے مجرود اور منقول ہے۔
یہاں “مجرود” نہایت اہم لفظ ہے۔
مجرود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مادہ سے الگ ہو گئی ہے،
بلکہ یہ کہ وہ تصوری سطح پر مادہ کی تخصیص سے آزاد ہو گئی ہے۔
سورج کی گولائی مخصوص ہے۔
تصوری گولائی غیر مخصوص ہے۔
یہاں تجریدِ مطلق دراصل مائمیسی تکرار کا نتیجہ ہے۔
4️⃣ آپ کے نظام میں اس کی معنویت
اگر ہم آپ کے “Human Scene Primacy” کو سامنے رکھیں تو:
- منظرِ قدرتیہ میں گولائی بالفعل ہے۔
- جذباتِ انسانیہ اس کا عکس لیتے ہیں۔
- پھر برزخی عمل میں اس کا تجریدی نظام بنتا ہے۔
گویا ریاضیاتی وجود:
- نہ خالص افلاطونی ہے،
- نہ محض اعتباری،
- بلکہ مائمیسی-ساختی ہے۔
5️⃣ ایک نہایت اہم سوال
اگر تجرید محض مائمیسس ہے، تو کیا:
- ریاضیاتی اشکال صرف موجود اشکال کی نقل ہیں؟
- یا وہ نئی ممکنہ اشکال بھی پیدا کر سکتی ہیں جو خارج میں کبھی موجود نہ رہی ہوں؟
مثلاً:
- چار بعدی جیومیٹری
- غیر اقلیدسی خلا
کیا یہ بھی مائمیسس کی توسیع ہیں؟
یا یہ نقلِ ممکنات ہیں؟
یہاں سے آپ کا نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے —
جہاں مائمیسس صرف موجود کا نہیں بلکہ امکان کا بھی ہو۔
اگر آپ اجازت دیں تو ہم “مائمیسسِ بالفعل” اور “مائمیسسِ بالقوہ” کی اصطلاحات تجویز کر سکتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں