گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
مصنوعی ذہانت سے بحث کے دوران میری ایک تحریر (زبان کے لحاظ سے دوبارہ تدوین کی گئی):
اس میں کیا شک ہے کہ کسی لفظ کے معانی دیکھنے کے لیے جب ہم لغت سے رجوع کرتے ہیں تو واقعی معنی کا التوا پیش آتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رواج اور چلن سے اور کبھی لغتی اور تعبیری طور پر الفاظ کے جزیرے بحر معانی میں بہتے ہوئے اپنا محل وقوع بدلتے رہتے ہیں۔ مختلف الاقسام لسانی اتھارٹیاں اور رواج ڈالنے والی قوتیں اس صورتحال میں حَکَم کا کردار ادا کرتی ہیں۔ تفصیل میں نہ جا کر اجمال میں کہیں تو الفاظ کے نئے معانی پکڑنے یا معانی کے ذریعے الفاظ کو گردش دیتے رہنے پر مشتمل تغیرات اتنے غیر محسوس ہیں کہ ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ کب دوپہر کے بعد دن ڈھل گیا، کب شام ہوگئی اور کب اندھیرا اتنا گھنا ہو گیا کہ رات کہنا پڑا، معانی کا سمندر اس قدر وسیع و عریض، جوش و خروش سے لبریز اور موجزن ہے کہ اس میں الفاظ کے جزیروں کا ابھرنا، تیرنا، ڈوبنا سب جاری رہتا ہے۔ معانی نے یہ جزیرے اسی لیے پیدا کیے ہیں تا کہ سمندر کا جاہ و جلال اور حسن و جمال دونوں اپنی پوری وسعت کے ساتھ نمایاں ہو سکیں۔ لیکن اس صورتحال کو دیکھ کر ’’معنی کا کوئی مرکز نہیں ہے’’ کہنے سے زیادہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ لفظ کا کوئی مرکز نہیں ہے یا متن کا کوئی مرکز نہیں ہے۔ یعنی لفظ یا متن کسی مرکز کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں کیونکہ وہ بحر معانی میں رواں دواں ہیں۔ یہ اس لیے ایک زیادہ محتاط تعبیر ہے کیونکہ معنی کا ایک مرکز واقعی ہو سکتا ہے جیسے کسی دائرہ یا کرہ کا مرکز ہوتا ہے۔
نسبتِ مثبت یا نسبتِ متوحدہ کے تصور کے ساتھ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے۔ یہ نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پہلے ہمیں نسبتَ مثبت کا بحیثیت اصول ابطال کرنا پڑتا جو کہ ناممکن ہے۔ زبان محض افتراقات کے سبب نہ تو قائم ہوتی ہے اور نہ عمل آرا ہو سکتی جب تک کہ نسبت متوحدہ کا ٹانکا موجود نہ ہو، اور یہ ٹانکا کاغذ کی دو طرفوں کی طرح نہیں ہے جس کی ردتشکیل ممکن ہو کیونکہ پھر بہرحال یہ ثابت کرنا ہوگا کہ
متفرق لسانی مادے ہم نوع نہیں ہیں۔
ان میں کسی بھی اعتبار سے باہمی مشابہت نہیں ہے۔
ان کی باہمی تفریقات میں توحد سے لفظ نہیں بنتا ہے۔
لیکن یہ ناممکنات میں سے ہے۔
مادۂ لسانی یعنی انسانی آوازوں کی وحدت یا ان کی باہمی مشابہت کو زبان کے نظام کی ایک بنیاد کے طور پر تسلیم کر لینے کے بعد ہی ممکن تھا کہ ہم تفریقی رشتوں کی ایک صحیح سمجھ پر متوجہ ہو سکتے۔ پھرزیادہ نظم و ضبط کے ساتھ یہ سوچ سکتے کہ آخر زبان کیونکر عمل آرا ہوتی ہے؟ حالانکہ اس عہد میں مسئلہ لسانیات کی ابتدا ہی ایک غلط مفروضے کے ساتھ ہوئی، جو یہ تھا کہ آخر الفاظ میں ان سے مراد اشیا کے طبعی خواص کیوں نہیں ہیں؟ یعنی وہ سمجھتے تھے کہ لفظ اور معنی میں ایسے تعلق کا ہونا ضروری ہے جس سے لفظ سنتے ہی اس کے معنی معلوم ہو جائیں۔ پس، زبان کے الفاظ اور ان کے معانی میں ’’فطری تعلق’’ کیا ہونا چاہیے، اس کو بیسویں صدی کے علمائے لسانیات نے (بلکہ ان سے بھی قبل کے بعض حکما نے) تحقیق سے پہلے ہی فرض کر لیا۔ ظاہر ہے انہیں لفظ اور معنی میں ویسا ’’فطری تعلق یا رشتہ’’ دکھائی نہیں دیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ لفظ اور معنی یعنی سگنی فائر اور سگنی فائیڈ میں کوئی ’’ فطری تعلق’’ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر انہوں نے کہا کہ سگنی فائر اور سگنی فائیڈ میں آربٹریری تعلق ہے جو طبعی نوعیت کے متعدد سگنیفائرز کے لیے موزوں نہیں تھا۔ مثلاً آگ کے لیے آگ کی علامتی تصویر، ’’سگریٹ پینا منع ہے‘‘ کے معنی کو ظاہر کرنے کے لیے سگریٹ کا اسکیچ بنا کر اس پر کراس کر دینا، مارنے کے لیے گھونسہ دکھانے کا طبعی اشارہ، چوٹ لگنے پر چیخ کا نکلنا جو طبعی زبان کا حصہ ہے۔
علم کے میدان میں جراتوں کے بغیر کام نہیں چلتا۔ جراتوں کی وجہ سے خطرناک غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ژاک دریدا کی جو بصیرتیں ہم نے پائی ہیں وہ بھی انہیں جراتوں کا نتیجہ ہے۔
زبان کے الفاظ میں اپنے معنی سے طبعی خواص پر مبنی تعلق رکھنے کو فطری تعلق کی شرط سمجھنا ایک بنیادی غلطی تھی۔ لفظ اور معنی میں فطری تعلق ہے لیکن فطری تعلق کے معنی موادی تعلق نہیں۔ یعنی اگر ہم کہیں لوہا، تو مونہہ سے صوتی لفظ کی جگہ لوہے کا لفظ نکلے، ورنہ زبان فطری نہیں ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی دقت تھی اور یہ دکھاتی تھی کہ انہوں نے فطرت کا صحیح تصور قائم نہیں کیا تھا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں