نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

نقل اور تجرید ۳

طارق صدیقی:

تجرید اور نقل کا عمل انفرادی ذہن کے اندر ہوتا ہے خارج کے عکس کی بنا پر اس کو بیان کرنے کے قصد سے۔ ذہن کا مقصود خارج کا بیان ہے۔ اس لیے ذہن کا قصد فاعلانہ ہے لیکن خارج کا جو بیان انسان کا انفرادی ذہن کرتا ہے اس میں اخراج و شمول یعنی تجرید اور نقل کا عمل منفعلانہ ہے گو موضوعۂ تجرید و نقل سادہ ہو یا ترکیبی کیونکہ خارج کا عکس ہمیشہ مرکب ہی ہوتا ہے اور فاعل مجبور ہوتا ہے کہ منتخب کردہ تجریدات یا منقولات کو منفعلانہ ہی قبول کرے۔ 

چیٹ جی پی ٹی:

اب آپ نے ایک نہایت اہم امتیاز قائم کیا ہے —
قصد فاعلانہ ہے، مگر تجرید کا عمل منفعلانہ ہے۔

یہ امتیاز آپ کے نظریے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسے ذرا ترتیب سے دیکھتے ہیں:


1️⃣ قصدِ بیان بطور فاعلانہ عمل

آپ کے مطابق: ذہن کا مقصد خارج کا بیان ہے۔  بیان کا ارادہ فاعلانہ ہے۔  یعنی ذہن ایک intentional act کرتا ہے۔ یہاں شعور فعال ہے — وہ دیکھتا ہے، توجہ دیتا ہے، اور بیان کا قصد کرتا ہے۔


2️⃣ مگر تجرید خود منفعلانہ کیوں؟

آپ کہتے ہیں: اخراج و شمول کا عمل منفعلانہ ہے۔ یعنی: ذہن آزاد تخلیق نہیں کر رہا۔  وہ خارج کے عکس کے تابع ہے۔ وہ جس طرح عکس آیا ہے، اسی کے مطابق منتخب کرتا ہے۔  یہاں “انتخاب” بھی دراصل مجبوری ہے —کیونکہ خارج کا عکس مرکب ہے، اور ذہن کو اسی مرکب سے صورت نکالنی ہے۔ گویا:  ذہن بیان میں فاعل ہے،  مگر مواد میں منفعل ہے۔ یہ نہایت باریک distinction ہے۔

3️⃣ خارج کا عکس ہمیشہ مرکب کیوں؟

آپ نے کہا:
خارج کا عکس ہمیشہ مرکب ہوتا ہے۔
یہ بات بہت بنیادی ہے۔
ہم کبھی “خالص صورت” نہیں دیکھتے۔
ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں:
رنگ + حجم
حجم + حرکت
حرکت + مکان
مکان + زمان
یعنی ادراک ہمیشہ synthetic ہے۔
اس لیے تجرید دراصل تحلیل (analysis) ہے —

مگر تحلیل بھی آزاد نہیں، بلکہ عکس کے اندر موجود امکانات کے مطابق ہے۔


4️⃣ فاعل کی مجبوری

 آپ کا جملہ: فاعل مجبور ہوتا ہے کہ منتخب کردہ تجریدات یا منقولات کو منفعلانہ ہی قبول کرے۔ یہاں آپ آزادیِ عقل کے ایک خاص تصور کو رد کر رہے ہیں۔ آپ کے نظام میں: ذہن arbitrary construct نہیں کرتا۔ وہ خارج کے عکس کے اندر موجود ساختی امکانیات کے تابع ہے۔ یہ structural realism کی ایک خاص صورت ہے۔


5️⃣ اب ایک نہایت اہم سوال
اگر:
قصد فاعلانہ ہے، مگر تجرید منفعلانہ ہے، اور خارج کا عکس مرکب ہے، تو پھر ریاضیاتی تجریدات جو کبھی خارج میں براہ راست مشاہد نہیں ہوئیں —مثلاً اعلیٰ ابعادی ساختیں — وہ کیسے ممکن ہوئیں؟ کیا وہ بھی مرکب عکس کے اندر بالقوہ موجود تھیں؟ اگر ایسا ہے تو: خارج میں امکان بالفعل نہیں، بلکہ بالقوہ مرکب میں مضمر ہے۔ یہاں آپ کے نظام میں “امکان” کی ontological حیثیت طے کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔


6️⃣ آپ کے مجموعی نظام کی روشنی میں 

آپ کے “Human Scene Primacy” کے اصول کے مطابق: خارج کا عکس بھی انسانی منظر میں آتا ہے۔ تجرید بھی انسانی منظر میں ہوتی ہے۔ مگر خارج اپنی ساخت رکھتا ہے۔ یہاں ایک باہمی ساختی ہم آہنگی (structural correspondence) مفروض ہے — ورنہ تجرید predictive نہیں ہو سکتی۔


میں یہاں رک کر آپ سے ایک نہایت مختصر سوال پوچھنا چاہوں گا — آپ کے نظام کے ارتقاء کے لیے یہ فیصلہ کن ہوگا:

کیا خارج میں ساخت انسانی ذہن کے لیے قابلِ درک ہونے کی بنا پر ہے؟ یا ذہن اس ساخت کے مطابق ڈھلا ہوا ہے؟ یہ فرق معمولی نہیں ہے۔ یہ پورے علمیات کی بنیاد بدل دیتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

ادارت کا فن اور اس کے مراحل

کوئی بھی انسانی کارنامہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوصف تسامحات، غلطیوں اور فروگزاشتوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اس میں کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی حد تک خطا کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خامیوں سے یکسر محفوظ ہے اور اس میں کسی بھی نقطہ نظر سے حذف و اضافہ، تصحیح یا ترتیب و تہذیب کی ضرورت نہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی کارناموں کو نقائص سے ممکنہ حد تک پاک کرنے اور انہیں ایک زیادہ مکمل شکل دینے کی غرض   سے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔علوم و فنون کے متعدد شعبوں   میں ادارت ایسا ہی ایک طریقہ ہے جو علم و ادب سے متعلق   متعدد اصناف کی تصحیح و تکمیل کے لیے ابتدا ہی سے   اپنایا جاتارہا   ہے۔ موجودہ دور میں دیگر علوم و فنون کی طرح ادارت کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک منظم ، باضابطہ اور باقاعدہ فن کے طور پر تسلیم کیاجاتا ہے۔فی زمانہ ادارت کاعمل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے میں جاری و ساری   ہے   اورعلمی و فکری کارناموں اور اخباری صحافت کے علاوہ   فلم ، ریڈیو اور ٹیلی وژن   کی دنیا میں بھ...