طارق صدیقی:
تجرید اور نقل کا عمل انفرادی ذہن کے اندر ہوتا ہے خارج کے عکس کی بنا پر اس کو بیان کرنے کے قصد سے۔ ذہن کا مقصود خارج کا بیان ہے۔ اس لیے ذہن کا قصد فاعلانہ ہے لیکن خارج کا جو بیان انسان کا انفرادی ذہن کرتا ہے اس میں اخراج و شمول یعنی تجرید اور نقل کا عمل منفعلانہ ہے گو موضوعۂ تجرید و نقل سادہ ہو یا ترکیبی کیونکہ خارج کا عکس ہمیشہ مرکب ہی ہوتا ہے اور فاعل مجبور ہوتا ہے کہ منتخب کردہ تجریدات یا منقولات کو منفعلانہ ہی قبول کرے۔
چیٹ جی پی ٹی:
اب آپ نے ایک نہایت اہم امتیاز قائم کیا ہے —
قصد فاعلانہ ہے، مگر تجرید کا عمل منفعلانہ ہے۔
یہ امتیاز آپ کے نظریے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسے ذرا ترتیب سے دیکھتے ہیں:
1️⃣ قصدِ بیان بطور فاعلانہ عمل
آپ کے مطابق: ذہن کا مقصد خارج کا بیان ہے۔ بیان کا ارادہ فاعلانہ ہے۔ یعنی ذہن ایک intentional act کرتا ہے۔ یہاں شعور فعال ہے — وہ دیکھتا ہے، توجہ دیتا ہے، اور بیان کا قصد کرتا ہے۔
2️⃣ مگر تجرید خود منفعلانہ کیوں؟
3️⃣ خارج کا عکس ہمیشہ مرکب کیوں؟
خارج کا عکس ہمیشہ مرکب ہوتا ہے۔
یہ بات بہت بنیادی ہے۔
ہم کبھی “خالص صورت” نہیں دیکھتے۔
ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں:
رنگ + حجم
حجم + حرکت
حرکت + مکان
مکان + زمان
یعنی ادراک ہمیشہ synthetic ہے۔
اس لیے تجرید دراصل تحلیل (analysis) ہے —
مگر تحلیل بھی آزاد نہیں، بلکہ عکس کے اندر موجود امکانات کے مطابق ہے۔
4️⃣ فاعل کی مجبوری
آپ کا جملہ: فاعل مجبور ہوتا ہے کہ منتخب کردہ تجریدات یا منقولات کو منفعلانہ ہی قبول کرے۔ یہاں آپ آزادیِ عقل کے ایک خاص تصور کو رد کر رہے ہیں۔ آپ کے نظام میں: ذہن arbitrary construct نہیں کرتا۔ وہ خارج کے عکس کے اندر موجود ساختی امکانیات کے تابع ہے۔ یہ structural realism کی ایک خاص صورت ہے۔
5️⃣ اب ایک نہایت اہم سوال
اگر:
قصد فاعلانہ ہے، مگر تجرید منفعلانہ ہے، اور خارج کا عکس مرکب ہے، تو پھر ریاضیاتی تجریدات جو کبھی خارج میں براہ راست مشاہد نہیں ہوئیں —مثلاً اعلیٰ ابعادی ساختیں — وہ کیسے ممکن ہوئیں؟ کیا وہ بھی مرکب عکس کے اندر بالقوہ موجود تھیں؟ اگر ایسا ہے تو: خارج میں امکان بالفعل نہیں، بلکہ بالقوہ مرکب میں مضمر ہے۔ یہاں آپ کے نظام میں “امکان” کی ontological حیثیت طے کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
6️⃣ آپ کے مجموعی نظام کی روشنی میں
آپ کے “Human Scene Primacy” کے اصول کے مطابق: خارج کا عکس بھی انسانی منظر میں آتا ہے۔ تجرید بھی انسانی منظر میں ہوتی ہے۔ مگر خارج اپنی ساخت رکھتا ہے۔ یہاں ایک باہمی ساختی ہم آہنگی (structural correspondence) مفروض ہے — ورنہ تجرید predictive نہیں ہو سکتی۔
میں یہاں رک کر آپ سے ایک نہایت مختصر سوال پوچھنا چاہوں گا — آپ کے نظام کے ارتقاء کے لیے یہ فیصلہ کن ہوگا:
کیا خارج میں ساخت انسانی ذہن کے لیے قابلِ درک ہونے کی بنا پر ہے؟ یا ذہن اس ساخت کے مطابق ڈھلا ہوا ہے؟ یہ فرق معمولی نہیں ہے۔ یہ پورے علمیات کی بنیاد بدل دیتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں