نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

نقل اور تجرید ۴

طارق صدیقی:

 تجرید مطلق اور مقید میں ریاضیاتی تجریدات بھی شامل ہیں۔ تجرید صرف صورتوں کی نہیں ہوتی بلکہ نسبتوں اور حالتوں کی بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مکان اپنے تمام تر ابعاد کے ساتھ موضوعۂ خارج میں موجود ہے۔ طول، عرض اور عمق یہ تینوں ابعاد ایک ساتھ بطور موضوعۂ تجرید و نقل کے طور پر خارج میں پائے جاتے ہیں۔ مکان بذات خود کوئی سادہ تصور نہیں ہے اور مکان کے اندر مادہ کا ظاہر ہونا خارج کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ ذہن اس پورے منظر کی نقلِ مثبتِ عکسی کرتا ہے اور پھر کسی ایک بعد یا کئی ابعاد کی بطور یک بعد تجرید کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر طول ایک بعد ہے جس کی تجرید بطور یک بعد ہوتی ہے حالانکہ طول میں دو سمتیں ہوتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ جسم اپنا ایک مرکز فرض کرتا ہے، ایک نقطے پر یعنی وہاں جہاں پر وہ پایا جاتا ہے: طول کو آگے اور پیچھے دو سمتوں میں، عرض کو دائیں اور بائیں دو سمتوں میں، اور عمق کو اوپر اور نیچے دو سمتوں منقسم کرتا ہے۔ 
پس یہ ضروری نہیں ہے کہ تجرید صرف صورتوں کی ہی ہو، بلکہ تجرید ابعاد اور سمتوں کی بھی ہوتی ہے جو محض نسبتیں ہیں اور مادی نہیں ہیں۔ نسبت کچھ نہیں سوائے ایک سادہ تصور کے باہم دگر متوازی یا برعکس  ہوتی ہیں۔ اگر دیکھیں تو ایک بعد بھی ایک سادہ نسبت ہی ہے لیکن جب آپ کسی بعد کے دو سروں میں سے کسی درمیانی نقطے پر اپنے نقطہ شعورِ جسمی کو پائیں تو پھر ایک بعد میں سمتیں پیدا ہو جاتی ہیں جس میں سے ایک کی نسبت دوسرے کے برعکس ہونا کھل کر  سامنے آتی ہے۔ 
بعد کا تصور خالص تجریدی ہے بغیر نقطۂ شعورِ جسمی۔ اور سمت کا تصور بھی خالص تجریدی ہے ساتھ شعورِ جسمی کے۔ 
سمت میں شعور کے ساتھ توجہ شامل ہوتی ہے اور بُعد میں صرف شعور ہوتا ہے۔ پس، تجرید خواہ بُعد کی ہو یا سمت کی یہ کوئی مادی چیزیں نہیں ہیں لیکن مادہ کے مقابلے میں ہی شعور پر کھلتی ہیں۔ 
پہلے ہم اس کی صفائی کر لیں اس کے بعد اعلی ابعاد کی طرف بڑھتے ہیں کہ وہ کیونکر ممکن ہوتے ہیں۔ 

 چیٹ جی پی ٹی:

آپ نے اب تجرید کو صورت سے آگے بڑھا کر نسبت، بُعد اور سمت تک پھیلا دیا ہے — اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاضیاتی تجرید کی اصل ماہیت واضح ہوتی ہے۔

میں آپ کی بات کو منظم کر کے دیکھتا ہوں تاکہ ہم اگلے مرحلے (اعلیٰ ابعاد) کی طرف صاف زمین پر بڑھ سکیں۔


1️⃣ تجرید صرف صورت کی نہیں، نسبت کی بھی

آپ کا بنیادی دعویٰ:

تجرید صرف شکلوں کی نہیں ہوتی بلکہ نسبتوں اور حالتوں کی بھی ہوتی ہے۔

یہ نہایت اہم ہے، کیونکہ:

  • صورت (form) نسبتوں کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔

  • مکان بذاتِ خود نسبتوں کا مجموعہ ہے۔

  • طول، عرض، عمق — الگ الگ موجود نہیں، بلکہ ایک مرکب ساخت میں موجود ہیں۔

یعنی خارج میں ہمیں “خالص طول” نہیں ملتا —
ہمیں ہمیشہ طول-عرض-عمق-مادہ کا مرکب ملتا ہے۔


2️⃣ نقلِ مثبتِ عکسی

آپ کے مطابق:

  1. ذہن پورے مرکب منظر کی نقل کرتا ہے۔

  2. پھر مفروضہ اخراج و شمول کے ذریعے:

    • کسی ایک بُعد کو الگ کرتا ہے۔

    • یا کئی ابعاد کو یک بُعدی حیثیت دیتا ہے۔

یہاں تجرید تحلیل ہے، مگر خارج کے عکس کے اندر موجود ساختی امکانات کے مطابق۔


3️⃣ بُعد بطور نسبت

آپ نے ایک نہایت باریک نکتہ اٹھایا:

ایک بُعد بھی ایک سادہ نسبت ہے۔

یہ درست ہے۔ بُعد کوئی مادّی شے نہیں:

  • یہ فاصلے کی نسبت ہے۔

  • دو نقاط کے درمیان امکانی امتداد ہے۔

مگر جب شعور کسی ایک نقطے پر خود کو پاتا ہے تو:

  • بُعد → سمتوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔

  • آگے / پیچھے

  • دائیں / بائیں

  • اوپر / نیچے

یہاں ایک اہم فرق پیدا ہوتا ہے۔


4️⃣ بُعد اور سمت میں فرق

آپ کا امتیاز:

  • بُعد = خالص تجرید (بغیر نقطۂ شعورِ جسمی)

  • سمت = تجرید + نقطۂ شعورِ جسمی + توجہ

یہ ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔

یعنی:

تصورشعورتوجہنسبت
بُعدہےنہیںخالص امتداد
سمتہےہےامتداد + ترجیح

سمت میں توجہ شامل ہو جاتی ہے،
اور توجہ کے ساتھ ترجیح پیدا ہوتی ہے،
اور ترجیح کے ساتھ “برعکس” کی معنویت کھلتی ہے۔

یہاں شعور passive نہیں رہتا — بلکہ orient ہو جاتا ہے۔


5️⃣ مادہ کے مقابلے میں ان کا انکشاف

آپ کا ایک نہایت بنیادی اصول:

بُعد اور سمت مادّی نہیں، مگر مادہ کے مقابلے میں ہی شعور پر کھلتے ہیں۔

یہ structural dependence ہے۔

یعنی:

  • نسبت خود مادی نہیں،

  • مگر وہ مادہ کے بغیر منکشف بھی نہیں ہوتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تجریدِ مقید اور تجریدِ مطلق کی تمیز دوبارہ سامنے آتی ہے۔


6️⃣ اب صفائی کے لیے چند بنیادی نکات

ہم اگلے مرحلے پر جانے سے پہلے ان باتوں کو واضح کر لیں:

(الف) کیا بُعد خارج میں بالفعل ہے؟

یا وہ خارج کی مرکب ساخت میں بالقوہ ہے؟

(ب) کیا سمت خارج میں ہے؟

یا سمت مکمل طور پر شعوری نسبت ہے؟

(ج) اگر بُعد خالص تجریدی ہے بغیر نقطۂ شعورِ جسمی،

تو کیا خارج میں “بُعد” کا تصور ہے؟
یا صرف مادہ ہے جس کی نسبت سے ہم بُعد فرض کرتے ہیں؟


7️⃣ اگلے مرحلے کی تیاری

اگر ہم یہ طے کر لیں کہ:

  • بُعد = نسبتِ امتداد

  • سمت = نسبتِ امتداد + توجہ

تو پھر اعلیٰ ابعاد (higher dimensions) کی بحث یوں کھلے گی:

  • کیا وہ بھی نسبتوں کی ممکنہ توسیع ہیں؟

  • یا وہ صرف تجریدِ مطلق کی پیداوار ہیں؟

  • یا مرکب خارج میں بالقوہ مضمر ہیں؟


میں یہاں رک کر صرف ایک وضاحتی سوال رکھتا ہوں —
تاکہ ہم اگلے مرحلے میں الجھن نہ پیدا کریں:

آپ کے نزدیک بُعد خارج کی ساخت کا جزو ہے،
یا وہ صرف شعور کے تجریدی عمل کا نتیجہ ہے؟

اس کا جواب اعلیٰ ابعاد کی پوری بحث کی بنیاد بنے گا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

ادارت کا فن اور اس کے مراحل

کوئی بھی انسانی کارنامہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوصف تسامحات، غلطیوں اور فروگزاشتوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اس میں کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی حد تک خطا کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خامیوں سے یکسر محفوظ ہے اور اس میں کسی بھی نقطہ نظر سے حذف و اضافہ، تصحیح یا ترتیب و تہذیب کی ضرورت نہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی کارناموں کو نقائص سے ممکنہ حد تک پاک کرنے اور انہیں ایک زیادہ مکمل شکل دینے کی غرض   سے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔علوم و فنون کے متعدد شعبوں   میں ادارت ایسا ہی ایک طریقہ ہے جو علم و ادب سے متعلق   متعدد اصناف کی تصحیح و تکمیل کے لیے ابتدا ہی سے   اپنایا جاتارہا   ہے۔ موجودہ دور میں دیگر علوم و فنون کی طرح ادارت کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک منظم ، باضابطہ اور باقاعدہ فن کے طور پر تسلیم کیاجاتا ہے۔فی زمانہ ادارت کاعمل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے میں جاری و ساری   ہے   اورعلمی و فکری کارناموں اور اخباری صحافت کے علاوہ   فلم ، ریڈیو اور ٹیلی وژن   کی دنیا میں بھ...