طارق صدیقی
اس مسئلے کو مجھے ذرا اور واضح کرنا ہوگا۔
تجرید اپنی نوعیت میں ایک نقل ہے۔ نقل میں ٹرانسفر یا انتقال نہیں ہوتا بلکہ اصل کے مقابلے میں اس کا ایک مثبت عکس ظاہر ہوتا ہے۔ تجرید نقل ہے اور اس کا منقل انسانی ذہن ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ہر تجرید انسانی ذہن میں ہی مشہود ہوتی ہے۔ تجرید کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ یہ انفرادی ذہن سے خارج میں کہیں پر واقع ہوتا ہے بلکہ شعورِ جسمی بچشم سر خارج میں نظر کرتا ہے تو اس کو خارج کا مثبت عکس اپنے انفرادی ذہن میں حاصل ہوتا ہے۔ یعنی خارج میں جس طرح موضوعۂ تجرید یعنی اصل مع اپنے زمانی و مکانی سیاق کے موجود ہوتا ہے اسی طرح پر شعور اپنی توجہ کو بروئے کار لا کر متوازی طور پر تجرید اور نقل کرتا ہے۔ تجرید یہاں مادہ کے بغیر صورت کو فرض کرنا ہے۔ تجرید کا عمل مفروضہ اخراج ہے اور نقل کا عمل مفروضہ شمول ہے۔ اخراج مفروضہ مادہ کا ہوا اور شمول صورت کا۔ اور یہ سارا عمل ذہن میں ہوا۔
اور چونکہ ذہن نے خارج میں موضوعۂ نقل یا موضوعۂ تجرید کو دیکھا، تو اس نے جانا کہ یہی تجرید اور نقل اس کے خارج میں بھی ہے یا اس کو ایسا درک ہوا۔
چیٹ جی پی ٹی
آپ نے اب جو توضیح کی ہے، اس سے آپ کا نظریہ ایک نہایت منظم ادراکی–ساختی ماڈل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ میں اسے ترتیب دے کر دیکھتا ہوں تاکہ اس کی داخلی منطق پوری طرح واضح ہو جائے۔
1️⃣ تجرید بطور نقل (نہ کہ انتقال)
آپ کے مطابق:
تجرید = نقل
نقل ≠ انتقال
نقل = اصل کے مقابلے میں مثبت عکس
یہاں تین ontological سطحیں قائم ہو رہی ہیں:
خارجی اصل (موضوعِ تجرید)
شعورِ جسمی کی رویت
ذہنی عکس
اصل اپنی جگہ قائم ہے۔
عکس ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
کوئی شے خارج سے ذہن میں منتقل نہیں ہوتی — بلکہ ذہن متوازی طور پر عکس بناتا ہے۔
یہ “parallelism” آپ کے بیان میں نہایت اہم ہے۔
2️⃣ تجرید کا عمل: مفروضہ اخراج و شمول
آپ نے ایک نہایت باریک نکتہ قائم کیا ہے:
تجرید یہاں مادہ کے بغیر صورت کو فرض کرنا ہے۔
اور پھر:
اخراج = مفروضہ مادہ کا
شمول = مفروضہ صورت کا
یہاں “مفروضہ” کلیدی لفظ ہے۔
یعنی:
مادہ واقعی طور پر خارج نہیں ہوا۔
بلکہ ذہن نے اس کو فرضاً خارج کیا۔
اور صورت کو فرضاً شامل رکھا۔
یہ pure mental operation ہے — مگر arbitrary نہیں، بلکہ خارجی رویت کے بعد واقع ہوتا ہے۔
گویا:
تجرید ایک ساختی انتخاب (structural selection) ہے۔
ذہن خارج کی کلی صورت نہیں اٹھاتا، بلکہ انتخاب کرتا ہے۔
3️⃣ شعورِ جسمی کا کردار
آپ نے کہا:
شعورِ جسمی بچشم سر خارج میں نظر کرتا ہے۔
یہاں ادراک کی بنیاد جسمانی ہے۔
یعنی تجرید pure عقلانی پرواز نہیں — بلکہ حسی بنیاد رکھتی ہے۔
یہ بات آپ کے “منظرِ قدرتیہ ↔ جذباتِ انسانیہ” کے نظام سے پوری طرح ہم آہنگ ہے:
منظرِ قدرتیہ → رویت
رویت → عکس
عکس → مفروضہ اخراج و شمول
نتیجہ → تجرید
یہی برزخی عمل ہے۔
4️⃣ اہم نکتہ: خارج میں تجرید کی موجودگی کا درک
آپ کا آخری جملہ سب سے زیادہ فلسفیانہ ہے:
چونکہ ذہن نے خارج میں موضوعۂ نقل یا موضوعۂ تجرید کو دیکھا، تو اس نے جانا کہ یہی تجرید اور نقل اس کے خارج میں بھی ہے۔
یہاں ایک epistemic leap ہے۔
ذہن:
خارج کو دیکھتا ہے۔
ذہن میں نقل کرتا ہے۔
پھر خارج میں بھی ساختی نظم کا ادراک کرتا ہے۔
یعنی ذہن یہ سمجھتا ہے کہ:
جو ساختی تجرید میں نے کی ہے، وہ محض میری ایجاد نہیں، بلکہ خارج میں بھی اسی کا امکان یا ترتیب موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاضی predictive بنتی ہے۔
5️⃣ آپ کے نظریے کی داخلی ساخت
اگر اسے منطقی ترتیب میں رکھیں:
خارج بالفعل موجود ہے۔
شعور اس کا مثبت عکس بناتا ہے۔
ذہن مادہ کو مفروضہ خارج کرتا ہے۔
صورت کو مفروضہ شامل رکھتا ہے۔
تجرید بنتی ہے۔
پھر ذہن خارج میں ساختی مماثلت کا درک کرتا ہے۔
یہ neither افلاطونی idealism ہے
نہ محض subjective constructivism۔
یہ ایک مائمیسی-ساختی حقیقت پسندی ہے۔
6️⃣ اب اصل فلسفیانہ سوال
یہاں ایک نہایت باریک سوال کھڑا ہوتا ہے:
جب ذہن مفروضہ اخراج و شمول کرتا ہے —
تو کیا یہ اخراج و شمول:
خارج کی ساخت پر مبنی ہوتا ہے؟
یاذہن کی ساخت پر؟
اگر دونوں کی ساختی ہم آہنگی نہ ہو تو تجرید predictive کیسے بنتی ہے؟
یہاں آپ کے نظام میں ایک نہایت بنیادی مفروضہ پوشیدہ ہے:
خارج اور ذہن کے درمیان ساختی مناسبت (structural correspondence)
کیا آپ اس مناسبت کو فطری (natural) مانتے ہیں؟
یا یہ بھی برزخی اصول کے تحت قائم ہے؟
اگر آپ چاہیں تو ہم اگلے مرحلے میں اس پورے عمل کو ایک formal schema میں لکھ سکتے ہیں —
تاکہ آپ کے آنے والے کتابی نظام میں اسے بطور “قانونِ تجرید” شامل کیا جا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں