مشین ناطق اب بھی حیوان ناطق کے مقابلے کی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے ایک اعلی ماڈل کی تنقید کچھ اس طرح کی جسے میں نے باقاعدہ سبسکرائب کیا تھا:
“آپ نے اپنی تحریر میں کسی کد و کاوش سے کام نہیں لیا۔ اس مسئلے پر جامعیت کے ساتھ گفتگو کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ آپ اردو کے نقادوں کی ایک فہرست گنوا دیں، بلکہ آپ کو دراصل یہ بتانا تھا کہ اردو میں سب سے پہلے تنقید کس شکل میں ظاہر ہوئی، بالعموم کس قسم کی تحریروں میں اور بالخصوص کن شخصیات کا حوالہ اس سلسلے میں دیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بتانا تھا کہ اردو میں باضابطہ تنقید کا آغاز کس نقطے کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، آپ کو چند سطروں میں اس پر بھی لکھنا چاہیے تھا، پھر اردو تنقید کے ارتقا کے اہم موڑ کیا رہے اور وہ کون لوگ تھے جنہوں نے نئے راستے نکالے اور نئے موڑ لیے اور ان کی وجہہ سے اردو تنقید کیا سے کیا ہوتی چلی گئی۔ نیز معاصر اردو تنقید تک آتے آتے اس کا ارتقا کن رخوں پر ہو رہا ہے بالخصوص کن ناقدوں کے زیر قیادت۔۔۔
یہ ہے وہ بنیادی طریقہ جو ایک نقشہ بناتا ہے اور تنقیدی رجحانات اور ناقدوں کی شخصیات کے درمیان توازن بھی پیدا کرتا ہے۔ آپ نے اتنی مغزماری نہیں کی اور سیدھے ایک فہرست جیسی چیز مرتب کر دی۔ تنقید ذاتی نوعیت کی ترجیحات کے ساتھ ایک سائنٹفک کام بھی ہے، خواہ ادب ہی کی تنقید کیوں نہ ہو، اور اس میں اسباب و علل کی وضاحت اور پورے منظر نامے کو ایک مجتمع اور منظم شکل میں دیکھے بغیر کام نہیں چلتا۔ اتنا اعلیٰ درجہ کا مضمون لکھنے کے لیے آپ کو اس پورے مواد کو تجزیاتی و تحلیلی طور پر پڑھنا پڑتا جو میں نے آپ کو فراہم کیا ہے۔ اگر آپ محنت سے جی نہ چراتے تو خاصا بہتر مواد تیار کر سکتے تھے۔ “
حقیقت یہ ہے کہ مشینی ذہانت ایک میکانیکی چیزہے، اس میں تخلیقیت ضرور ممکن ہے لیکن اس کے لیے ایک نہایت اعلیٰ درجے کی انتخابی حس اور ذاتی ترجیح کے ساتھ الفاظ کے استعمال کاایک موضوعی ، غیر معروضی اور حکیمانہ شعور ہونا بھی ضروری ہے تا کہ کسی ممکنہ موضوع پر جست لگا یا جا سکے۔ مشین ناطق کے لیے ، سابقہ مواد کی بنا پر انسانی درجہ کی تخلیقیت تک پہنچنا ایسا ہے جیسے ہم میڈک تولنا چاہیں بغیر اس کو مارے۔ تخلیق کار اپنے پس منظر اور گرد و پیش کے مناظر کے درمیان کون سی تخلیقی جست لگائے گا اور کہاں سے کہاں پہنچے گا اس کا علم تو خود اسے بھی نہیں ہوتا۔ مشین محض متن پر مشتمل سابقہ مواد کے ساتھ کہاں تک اس کی برابری کر سکتی ہے؟ البتہ رپورٹ جنریٹ کرنے، پیرافریزنگ، خلاصہ تیار کرنے، اور منطق پیش کرنے میں یہ ماہر ہے۔ لیکن حقیقی دنیا میں تخلیقی شعور تک وہ نہیں پہنچ سکتی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں