نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

مشینِ ناطق بمقابلہ حیوانِ ناطق

مشین ناطق اب بھی حیوان ناطق کے مقابلے کی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے ایک اعلی ماڈل کی تنقید کچھ اس طرح کی جسے میں نے باقاعدہ سبسکرائب کیا تھا:

“آپ نے  اپنی تحریر میں کسی کد و کاوش سے کام نہیں لیا۔ اس مسئلے پر جامعیت کے ساتھ گفتگو کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ آپ اردو کے نقادوں کی ایک فہرست گنوا دیں، بلکہ آپ کو دراصل یہ بتانا تھا کہ اردو میں سب سے پہلے تنقید کس شکل میں ظاہر ہوئی، بالعموم کس قسم کی تحریروں میں اور بالخصوص کن شخصیات کا حوالہ اس سلسلے میں دیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بتانا تھا کہ  اردو میں باضابطہ تنقید کا آغاز کس نقطے کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، آپ کو چند سطروں میں اس پر بھی لکھنا چاہیے تھا، پھر اردو تنقید کے ارتقا کے اہم موڑ کیا رہے اور وہ کون لوگ  تھے جنہوں نے نئے راستے نکالے اور نئے موڑ لیے اور ان کی وجہہ سے اردو تنقید کیا سے کیا ہوتی چلی گئی۔ نیز معاصر اردو تنقید تک آتے آتے اس کا ارتقا کن رخوں پر ہو رہا ہے بالخصوص کن ناقدوں کے زیر قیادت۔۔۔ 

یہ ہے وہ بنیادی طریقہ جو ایک نقشہ بناتا ہے اور تنقیدی رجحانات اور ناقدوں کی شخصیات کے درمیان توازن بھی پیدا کرتا ہے۔ آپ نے اتنی مغزماری نہیں کی اور سیدھے ایک فہرست جیسی چیز مرتب کر دی۔ تنقید ذاتی نوعیت کی ترجیحات کے ساتھ ایک سائنٹفک کام بھی ہے، خواہ ادب ہی کی تنقید کیوں نہ ہو، اور اس میں اسباب و علل کی وضاحت اور پورے منظر نامے کو ایک مجتمع اور منظم شکل میں دیکھے بغیر کام نہیں چلتا۔ اتنا اعلیٰ درجہ کا مضمون لکھنے کے لیے آپ کو اس پورے مواد کو تجزیاتی و تحلیلی طور پر پڑھنا پڑتا جو میں نے آپ کو فراہم کیا ہے۔ اگر آپ محنت سے جی نہ چراتے تو خاصا بہتر مواد تیار کر سکتے تھے۔ “

حقیقت یہ  ہے کہ مشینی ذہانت ایک میکانیکی چیزہے، اس میں تخلیقیت ضرور ممکن ہے لیکن اس کے لیے  ایک نہایت اعلیٰ درجے کی انتخابی حس اور ذاتی ترجیح کے ساتھ الفاظ کے استعمال کاایک موضوعی ، غیر معروضی اور حکیمانہ شعور ہونا بھی ضروری ہے تا کہ کسی ممکنہ موضوع پر جست لگا یا جا سکے۔ مشین ناطق کے لیے ، سابقہ مواد کی بنا پر انسانی درجہ کی تخلیقیت تک پہنچنا ایسا ہے جیسے ہم میڈک تولنا چاہیں بغیر اس کو مارے۔ تخلیق کار  اپنے پس منظر  اور  گرد و پیش کے مناظر کے درمیان کون سی تخلیقی جست لگائے گا اور کہاں سے کہاں پہنچے گا اس کا علم تو خود اسے بھی نہیں ہوتا۔ مشین محض متن پر مشتمل سابقہ مواد کے ساتھ کہاں تک اس کی برابری کر سکتی ہے؟ البتہ رپورٹ جنریٹ کرنے، پیرافریزنگ، خلاصہ تیار کرنے، اور منطق پیش  کرنے میں یہ ماہر ہے۔ لیکن حقیقی دنیا میں تخلیقی شعور تک وہ نہیں پہنچ سکتی۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

ادارت کا فن اور اس کے مراحل

کوئی بھی انسانی کارنامہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوصف تسامحات، غلطیوں اور فروگزاشتوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اس میں کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی حد تک خطا کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خامیوں سے یکسر محفوظ ہے اور اس میں کسی بھی نقطہ نظر سے حذف و اضافہ، تصحیح یا ترتیب و تہذیب کی ضرورت نہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی کارناموں کو نقائص سے ممکنہ حد تک پاک کرنے اور انہیں ایک زیادہ مکمل شکل دینے کی غرض   سے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔علوم و فنون کے متعدد شعبوں   میں ادارت ایسا ہی ایک طریقہ ہے جو علم و ادب سے متعلق   متعدد اصناف کی تصحیح و تکمیل کے لیے ابتدا ہی سے   اپنایا جاتارہا   ہے۔ موجودہ دور میں دیگر علوم و فنون کی طرح ادارت کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک منظم ، باضابطہ اور باقاعدہ فن کے طور پر تسلیم کیاجاتا ہے۔فی زمانہ ادارت کاعمل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے میں جاری و ساری   ہے   اورعلمی و فکری کارناموں اور اخباری صحافت کے علاوہ   فلم ، ریڈیو اور ٹیلی وژن   کی دنیا میں بھ...