مرزا سلطان احمد کے مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کے تصور پر غور کرتے وقت ذہن بے اختیار سوسیئر کے لانگ پارول ڈسٹنکشن کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ لانگ ایک مجرد نظام ہے جبکہ پارول اس کا واقعاتی اور انفرادی اظہار، لیکن مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کے ذریعے مرزا صاحب یہاں تمام تر علوم و فنون اور انسانی سرگرمی کے تمام شعبوں بلکہ تمام تر موجودات کے متعلق ایک قاعدے اور ضابطے کا ذکر کر رہے ہیں جس میں زبان بھی شامل ہے۔اس لحاظ سے یہاں مرزا صاحب کے "مفہوم اعظم" اور "مفہوم اصغر" کو بالترتیب سوسیئر کے لانگ اور پارول کے مقابلے پر لانا غیرموزوں نہیں۔
گوپی چند نارنگ اپنی کتاب ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات میں کہتے ہیں کہ سوسیئر کے مطابق لسانی قواعد و ضوابط کا جامع ذہنی اور تجریدی نظام لانگ اور انفرادی تکلم پارول ہے۔اسی طرح ادب میں بھی انفرادی طور پر جو فن پارے وجود میں آتے ہیں، (یعنی ادبی پارول) وہ بھی ادب کے جامع تجریدی نظام (ادبی لانگ) سے ماخوذ ہیں۔(صفحہ 469-70) آگے انہوں نے خاصی کامیاب کوشش کی ہے کہ کس طرح لانگ اور پارول کے تصور کو مشرق کی ادبی روایت میں "ادبی لانگ اور پارول" کے طور پر پہلے سے موجود ثابت کریں اور باب کے آخر میں فرمایا ہے کہ ان کا مقصد "کھینچ تان سے کوئی بات ثابت کرنا نہ تھا بلکہ غور و فکر کی کھلی دعوت دینا تھا۔" (صفحہ 484) حالانکہ کتاب مراۃ الشعر سے ابن رشیق کا جو اقتباس انہوں نے مشرقی روایت میں ادبی لانگ اور ہیرول کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اس میں براہ راست ادبی لانگ اور پارول کی کوئی تفریق نہیں ملتی:
" شعر کو مثالا بیت سمجھو، فرش اس کا شاعر کی طبیعت، ہے اور عرش حفظ و روایت (یعنی اساتده کے کلام پر نظر ہونا) دروازہ اس کا مشق و ممارست اور ستون اس کے علم و معرفت ہیں۔صاحب خانہ معانی ہیں، مکان کی شان مکین سے ہوا کرتی ہے۔وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اوزان و قوافی قالب و مثال کے مانند ہیں، یا خیمہ میں چوب و طناب کی جگہ جن پر خیمہ تنتا اور کھڑا ہوتا ہے۔" (مراۃ الشعر ص 10) (صفحہ 470-71)
یہ اقتباس براہ راست ادبی لانگ اور پارول کے متعلق کچھ نہیں کہتا بلکہ نارنگ اپنی طرف سے اس کی منطقی تحلیل یہاں تک کرتے ہیں کہ گوہر مقصود ہاتھ آ جاتا ہے جو یہ ہے کہ عرش یعنی حفظ و روایت کو ادبی لانگ اور شاعر کی طبیعت کو پارول قرار دیا جائے۔(صفحہ 470-73)
اسی طرح نارنگ نے لسانیات میں لانگ و پارول کی تفہیم کے لیے سوسیئر کے ذریعے دی گئی شطرنج والی مثال کو شعر و سخن میں حالی کی شطرنج والی مثال سے جا ملایا ہے تاکہ اردو ادب میں ادبی لانگ اور پارول کے تصور کو ثابت کریں حالانکہ حالی کا مدعا بنیادی طور پر یہ تھا کہ جس طرح شطرنج سے فطری مناسبت رکھنے والا ایک شخص چند ہی دنوں میں باریک اور گہری چالیں چلنے لگتا ہے جبکہ جس شخص کو اس سے مناسبت نہیں ہوتی وہ عمر بھر بھی شطرنج کھیلے تو اس کے کھیل میں کوئی ترقی نہیں دیکھی جاتی۔حالی کی اس مثال کے برعکس سوسیئر نے ادبی لانگ و پارول کی تفہیم کی جو مثال دی ہے اس کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ جس طرح شطرنج کے کھیل کے اصول و ضوابط متعین ہیں اسی طرح زبان بحیثیت محموعی اپنے کچھ اصول و ضوابط رکھتی ہے جسے لانگ کہیں گے، اور جس طرح شطرنج کی ہر کھیلی جانے والی بازی ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتی ہے اسی طرح کسی زبان کے انفرادی تکلم یا اظہار بھی علیحدہ ہوتے ہیں جسے پارول کہیں گے۔(صفحہ 480)
اس طرح، سوسیئر اور حالی کی شطرنج کی مثالوں میں بنیادی فرق ہے مگر نارنگ صاحب اس کو مزے کی بات کے طور پر بیان کرتے ہیں۔(حوالہ سابق) لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی مماثلتیں مزے کی بات ہوں یا نہ ہوں لیکن جو شخص بھی زندگی اور کائنات کے مظاہر میں غور و فکر کرے گا وہ آزادانہ طور پر بھی ان نتائج تک پہنچ سکتا ہے جن کا سلسلہ مشرق کی قدیم تہذیب سے جوڑا جاتا ہے یا جنہیں مغرب کی جدید ترین ترقیات میں سے قرار دے کر مرعوب کیا جاتا ہے۔
مرزا سلطان احمد کے ہاں مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ کائنات کے جملہ مظاہر کے علمی پہلو سے متعلق ہے اور اس لیے ان کے مخصوص فلسفہ زبان سے بھی متعلق ہے گو ہم ان کو تکنیکی وجوہ سے لسانیات کے میدان کی اصطلاحات نہ کہیں۔
اب مرزا صاحب کے تصور مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر کو نقل کرتا ہوں تاکہ لانگ اور پارول سے اس کی اصولی مماثلت واضح ہو جائے:
"(الف) مفہوم اعظم
(ب) مفہوم اصغر یا مفہوم ماتحتی
مفہوم اعظم سے وہ مفہوم عامہ اور مفہوم جامع مراد ہے جس میں تمام دیگر مفہومات متفرعہ یا مفہومات جزیہ باعتبار نسبت قریبہ داخل اور شامل ہوتے ہیں اور جن پر وہ مفہوم اعظم یا مفہومی جامع حاوی ہوتا ہے یا یہ کہ اس سے کوئی ماتحتی جزئی یا ماتحتی مفہوم باہر نہیں نکل سکتا۔
مفہوم اصغر یا مفہوم ماتحتی سے وہ مفہوم مراد ہے جو بہ اعتبار اجتہادات جدیدہ یا کیفیات متفرعہ تو ایک جداگانہ صورت رکھتا ہے اور بادی النظر میں وہ بجائے خود ایک علیحدہ کیفیت یا علیحدہ اجتہاد ہی ہوتا ہے لیکن اصولی نسبت سے وہ مفہوم اعظم یا مفہوم جامع سے ایک نسبت یا ایک الحاق رکھتا ہے اور جب اس کا سلسلہ تفریعی بقاعدہ واپسی چلایا جائے تو اس کا مرکز یا حد رجعی وہی نکلتی ہے جو مفہوم اعظم یا مفہوم جامع کی ہوتی ہے۔" (اساس الاخلاق۔صفحہ 23 تا 25)
یہاں کھینچ تان کر ثابت کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کہ 1۔یہ دونوں اصطلاحات مظاہر ہستی کے ہر شعبے سے متعلق ہیں اور 2۔ان کے دائرے میں زبان کی کلی اور جزئی حیثیتیں بھی آ جاتی ہیں اور 3۔اس نسبت سے سوسیئر کے لانگ اور پارول سے اصولی اور قطعی مماثلت رکھتی ہیں۔ اس میں صرف ایک اختلاف ہے، وہ یہ کہ مفہوم اعظم اور مفہوم اصغر دونوں یکساں مفہومی سطح پر مراد لیے گئے ہیں جبکہ سوسیئر کے ہاں پارول انفرادی، واقعاتی اظہار ہے جبکہ لانگ مجرد قوانین کا مجموعہ ہے۔ لیکن اصول میں مماثلت اتنی واضح بات ہے کہ خود بخود یہ سمجھ میں آتا چلا جاتا ہے کہ مفہوم اعظم سے مراد ہے وہ مفہوم جامع جس میں تمام دیگر مفہومات متفرعہ یا جزئیہ داخل و شامل ہیں اور مفہوم اصغر سے مراد وہ جداگانہ اور علیحدہ صورتیں اور کیفیات ہیں جن کا تفریعی سلسلہ بقاعدہ واپسی چلایا جائے تو اس کا مرکز یا حد رجعی وہی نکلتی ہے جو مفہوم اعظم یا مفہوم جامع کا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں بھی ایک مزے کی بات عرض کرتا چلوں۔مرزا سلطان احمد کے اسی اقتباس میں یہ تصریح بھی ہے کہ مفہوم اعظم یا مفہوم جامع سے "کوئی ماتحتی جزئی یا ماتحتی مفہوم باہر نہیں نکل سکتا۔" ٹھیک یہی بات نارنگ سوسیئر کی ترجمانی کرتے ہوئے اور ادبی لانگ و پارول کی تفہیم کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
"ادب کی جملہ روایت، اساتذہ کا کلام، جملہ شہہ پارے، سرمایہ نظم و نثر اور کلی شعریات کا جامع تجریدی نظام جو ادبی معاشرہ کے ذہن و شعور میں ہمہ وقت جاری و ساری رہتا ہے، ادب کی لانگ ہے اور ہر ہر متن (فن پارہ) جو وقوع پذیر ہوتا ہے یا وجود میں آتا ہے (جو پارول کی مثال ہے) ادب کے اسی جامع تجریدی نظام کی رو سے اور اس کے حوالے سے ہے۔گویا ادب میں جو کچھ ہے ادب کی لانگ سے ہے اور اس کے باہر کچھ بھی نہیں۔" (صفحہ 470)
کوئی متن (فن پارہ) اپنے ثقافتی اور ادبی نظام سے باہر آج تک نہ لکھا گیا ہے نہ لکھا جا سکتا ہے۔(ص 476)
اسی تناظر میں نارنگ نے اس مشہور قول کا ذکر کیا ہے جسے بقول ان کے قائم کیا ہائیڈیگر نے اور قول محال کی شکل دی بارتھ نے:
LANGUAGE SPEAKS NOT MAN
یعنی زبان بولتی ہے، انسان نہیں، اور اسی سے مماثل دوسرا قول محال بارتھ نے اپنے شہرہ آفاق مضمون مصنف کی موت میں بیان کیا ہے جسے بارتھ خود ملارمے سے ماخوذ بتاتا ہے:
WRITING WRITES NOT AUTHORS
یعنی تحریر لکھتی ہے، مصنف نہیں۔(صفحہ 475)
نارنگ آگے کہتے ہیں:
"یہاں WRITING سے مراد تحریر محض نہیں بلکہ صدیوں کی ادبی روایت یا جامع ادبی روایت بشمول کلی شعری نظام یعنی شعریات و مافوق الشعریات ہے جس سے اخذ و استفادے پر زور دیا گیا ہے اور جس پر قدرت اساتذہ کے مطالعے اور مشق و مزادلت ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔'تحریر لکھتی ہے، مصنف نہیں' سے مراد یہی ہے کہ ادب خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔شاعر لاکھ کہے کہ 'آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں' یا ۔۔۔'صریر خامہ نوائے سروش ہے' لیکن اگر پہلے سے تحریر (ادب کے ذہنی تجریدی نظام) کا وجود نہ ہو تو کوئی کتنا زور مارے کچھ بھی نہیں لکھ سکتا۔" (صفحہ 475)
جب مرز سلطان احمد یہ کہتے ہیں کہ مفہوم اعظم یا مفہوم جامع سے "کوئی ماتحتی جزئی یا ماتحتی مفہوم باہر نہیں نکل سکتا۔" تو کیا بارتھ اور ملارمے کے یہ دو اقوال بھی مرزا صاحب کے قول کی بنا پر درست ثابت نہیں ہوتے؟ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ نارنگ نے اپنی کتاب میں مرزا سلطان احمد کے افکار کا ذکر کیوں نہ کیا حالانکہ اس سے ان کا کام مزید آسان ہو جاتا اور وہ ان کے افکار میں زبان کے الفاط کی آربٹریری نوعیت اور لانگ و پارول کی تفریق سے بعینہ مماثل نکات کو ثابت کر سکتے اور ان جدید ترین نظریات کی اتنی مخالفت نہ ہوتی۔آج نئی تھیوری سے متعلق ان اقوال پر بعض اردو ادبا و شعرا احتجاج کرتے ہیں اور معترض ہیں کہ نارنگ نے مصنف کو منہا کر دیا ہے یا یہ کہ وہ ایک مغربی سازش کو اردو ادب میں داخل کرنا چاہتے ہیں کیا وہ مرزا سلطان احمد کے ان افکار پر جو کم و بیش سو سال پہلے منظر عام پر آئے، غور و خوض کرنے کے لیے تیار ہیں؟
زبان بولتی ہے، انسان نہیں، یا تحریر لکھتی ہے مصنف نہیں، اس سے قطعی اور بعینہ نہیں تو بہت ملتے جلتے لیکن زیادہ مبنی بر حقیقت نکات مرز سلطان احمد کے ہاں پائے جاتے ہیں لیکن یہ نکتہ ان کے فلسفہ زبان میں نہ آ کر ان کے اخلاقیاتی افکار میں ظاہر ہوا ہے۔
اساس الاخلاق میں فرماتے ہیں:
"قانون قدرت کا نظم و نسق دو پہلو رکھتا ہے۔1۔قدرت بذاتہ 2۔قدرت بغیرہ۔شق اول میں وہ تمام نظم و نسق داخل ہیں جو قدرت براہ راست خود انجام دے رہی ہے اور جس نظم و نسق میں کسی دوسرے کا دخل نہیں۔۔۔
شق دویم قدرت بغیرہ سے وہ امور اور وہ تصرفات مراد ہیں کہ جو قدرت کی جانب سے علی قدر مراتب و علی قدر ضرورت ہر نوع خلقت کے حیطہ اختیار میں رکھے گئے ہیں اور جن سے ہر نوع خلقت کام لے رہی ہے۔(دیباچہ 7-8)
ہر نوع خلقت چند ایسے ضوابط کی پابند ہے یا پابند کی گئی ہے کہ اگر ان ضوابط سے سر موئے انحراف کیا جایے تو آسائش اور راحت زندگی میں بہت کچھ انقلاب آنے کا خدشہ رہتا ہے جو دلیل اس بات کی ہے کہ خود قانون قدرت ایسے ضوابط کا موید اور حامی ہے۔(دیباچہ 8)
اس لیے ہر نوع خلقت کسی نہ کسی پابندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ہر نوع خلقت میں کسی نہ کسی رنگ کا رسن پابندی پڑا ہوا ہے۔لوگ آزاد ہونا چاہتے ہیں مگر قدرت انہیں آزاد نہیں ہونے دیتی۔جو قومیں ساری قوموں سے بڑھ چڑھ کر آزادی کی شیدائی ہیں وہ بھی اپنے اپنے رنگ میں پابند ہیں۔(دیباچہ 8-9)
بعض وقت لوگ اس غلطی میں رہتے ہیں کہ دنیا میں جو بعض حکمران حکومت کر رہے ہیں یہ خود ان کی اپنی تدابیر اور ہمتوں کا نتیجہ ہے، یہ ایک فریب دہ خیال ہے۔ دنیا میں جس قدر حکومتیں اور سیاستیں وقتا فوقتا حکمراں رہتی ہیں ان سب کی بنیادی اینٹ خود قدرت اپنے ہاتھ سے رکھتی ہے۔قدرت خود قوموں کی حکومتوں اور حکمرانوں کا براہ راست انتخاب اور انتظام کرتی ہے اور موقع بموقع اس نظم و نسق میں یہ دیکھتی ہے کہ کسی ملک یا کسی قوم کے واسطے کس کس سیاست اور کن کن حکمرانوں کی ضرورت ہے اور کوئی قوم کس کس کام کے قابل ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف اپنی طاقت یا اپنی شورش سے ہی عنان حکومت ہاتھ میں آ جاتی ہے محض ایک دھوکہ ہے۔اگر یہی خیال درست ہے تو ماننا پڑے گا کہ قدرت ان معاملات اور ان انقلابات سے محض نابلد اور بے بصیرت ہے جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کچھ اس کی دست برد سے دور تر ہے۔(دیباچہ 9-10)
اوپر کے اقتباس سے ظاہر ہےقانون قدرت نظم و نسق دو پہلو رکھتا ہے، جسے مرزا سلطان احمد قدرت بذاتہ اور قدرت بغیرہ سے موسوم کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ قدرت بذاتہ بمنزلہ مفہوم اعظم کے ہے۔اور قدرت بغیرہ مفہوم اصغر کے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ
(1) اگر قدرت بذاتہ کے اندر وہ تمام نظم و نسق آتے ہیں جن کو قدرت خود اپنے ہاتھوں انجام دے رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ کون ساکام ہے؟ میں نے بہت غور کیا کہ اس کی کوئی مثال ڈھونڈوں لیکن نہ ملی۔ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی واسطے اور وسیلے سے ہوتا ہے،آفتاب و ماہتاب اور دیگر سیاروں اور ستاروں، زمین و آسمان، پیڑ پودوں ندیوں اور پہاڑوں اور سمندروں سب کا نظم و نسق قدرت خود اپنے ہاتھ سے کرتی ہے۔
(2) جب قدرت بذاتہ ان تصرفات کا نام ہے جن کو قدرت خود اپنے ہاتھوں سے انجام دے رہی ہے اور قدرت بغیرہ ان تصرفات کا جو ہر نوع اپنے حیطہ اختیار میں انجام دے رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ ایک نوع کے اپنے حیطہ اختیار میں کیے گئے تصرفات کا جو اثر دیگرانواع پر پڑے گا وہ قدرت بذاتہ کی طرف سے ہوگا یا قدرت بغیرہ کی طرف سے؟ ظاہر ہے ایک نوع جن انواع کے تصرفات سے متاثر ہوتی ہے وہ تصرفات اس نوع پر اپنے اثرات کے اعتبار سے قدرت بذاتہ کی جانب سے پیدا کردہ سمجھے جائیں گے۔جس طرح بہت سے مفاہیم اصغر سے ایک مفہوم جامع پیدا ہوتا ہے، اسی طرح بہت سی انواع کے اپنے اپنے انفرادی حیطہ ہائے اختیار میں کیے گئے تصرفات یعنی قدرت ہائے بغیرہ کے جمع ہونے سے ایک قدرت بذاتہ کا تصور پیدا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ قدرت ایک ہی ہے۔ آفتاب و ماہتاب اور دیگر ستاروں اور سیاروں کا اپنے اپنے کام میں لگا ہوا ہونا انسان کے واسطے قدرت بذاتہ کی طرف سے ہے لیکن خود آفتاب یا ماہتاب یا دیگر ستاروں اور سیاروں کا اپنے حیطہ اختیار میں کارفرما ہوناانفرادی طور پر خود ان کو حاصل شدہ قدرت ہے یعنی قدرت بغیرہ ۔ اسی طرح دنیا میں جس قدرزندہ و غیرزندہ چیزیں ہیں سب اپنے اپنے حیطہ اختیار میں کارفرما یا متصرف ہیں اور کسی ایک چیز مثلا انسان یا درخت کے لیے قدرت بذاتہ کی جانب سےہیں۔ انسان اپنے قریب و بعید کی اشیا سے جو فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس کی اپنی قدرت یعنی اس کا اپنا اختیار ہے۔ اس طرح قدرت بذاتہ بہ باطن مفہوم جامع ہے اور قدرت بغیرہ مفہوم اصغر۔ اب چونکہ کوئی مفہوم اصغر مفہوم اعظم سے باہر نہیں اس لیے قدرت بغیرہ، قدرت بذاتہ سے باہر نہیں۔چنانچہ مرزا سلطان احمد یہ نتیجہ نکالنے میں درست ہیں کہ ہر نوع خلقت کسی نہ کسی پابندی میں جکڑی ہوئی ہیں اور وہ حکمراں جن کے متعلق غلط طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تدابیر اور ہمتوں کی بدولت حکومت کر رہے ہیں دراصل انہیں بھی قانون قدرت ہی کی رو سے یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی حکومتیں قائم کریں۔
پس، کیا یہ بات اصولا اسی قسم کے اقوال جیسی نہیں ہے جو سوسیئر کے لانگ اور پارول کے نکتے کی بنیاد پر رولاں بارتھ سے منسوب ہے کہ انسان نہیں، زبان بولتی ہے اور مصنف نہیں تحریر لکھتی ہے۔مرزا سلطان احمد اس کے سوا اور کیا کہہ رہے ہیں کہ حکمراں اپنے بل بوتے نہیں، بلکہ قدرت کے قانون یا قدرت بذاتہ (یا مفہوم) کی بدولت حکمرانی کرتا ہے؟ بہ الفاظ دیگر، اصل حکمراں قانون قدرت ہے۔ظاہر ہے مرزا سلطان احمد اگر یہاں حکمراں کے عزم و ہمت اور تدبیر کی تغلیط نہیں کر رہے ہیں اور نہ رولاں بارتھ مصنف کی لیاقت و صلاحیت کی بلکہ دونوں یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی انفرادی تصرف خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، اپنے قواعد و ضوابط کے جامع نظام سے باہر نہیں جا سکتا۔کوئی لاکھ کہہ لے کہ فلاں قوم بڑی آزاد طبع ہے اور فلاں حکمراں اپنی ہمت اور تدبیروں کہ بدولت حکمرانی کر رہا ہے، لیکن حقیقت کہ ہے کہ وہ قوم اور وہ حکمراں قدرت بذاتہ کے دائرہ سے باہر نہیں ہیں۔
غرض ساختیات کا یہ پہلو جو قول محال سے عبارت ہے اور لانگ اور پارول کے نظامی طریق میں دکھائی دیتا ہے، اردو کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن محض اصولی اور معنوی سطح پر۔ اور یہ نکتہ میں نے پہلے ہی بیان کر دیا ہے کہ قطعی مماثلت نہیں پائی جاتی اور نہ اس کو تلاش کرنا چاہیے۔ لیکن یہ نکتہ اصل اہمیت رکھتا ہے اور ہمارے یہاں جانا بوجھا ہوا ہے کہ انفرادیت کی نفی ساخت میں آ کر ہی ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کی تحریروں میں ساخت کا بہ تکرار زیر بحث آنا یہی دکھاتا ہے۔ "مصنف نہیں تحریر لکھتی ہے"، اپنی حرکی و منطقی سطح پر اس خیال سے ہم آہنگ ہے کہ محض انفرادی طاقت یا شورش سے عنان حکومت ہاتھ نہیں آتی۔ یہی بات اپنے اصل ساخت یا ڈھانچے کے ساتھ اقبال کے ہاں بھی موجود ہے:
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں