اشیا کا باہمی اختلاف انہیں افراد کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتا ہے۔ اور اشیا کی باہمی مشابہت انہیں گروہ کی حیثیت سے قابلِ شناخت اور قابلِ بیان بناتی ہے۔ جن اشیا میں باہمی اختلاف ہو انہیں افراد کے طور پر شناخت تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان میں باہمی مشابہت نہ ہو تو انہیں ایک گروہ یا جماعت کے طور پر شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی جماعت کے اندر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے مشابہت موجود ہو۔
درجِ ذیل اشیا پر غور کریں:
آم، پتھر، طوطا، کمپیوٹر، لکڑی، خلا، آسمان، دنیا، جاہل، بلب، ختم، آب، تقسیم، دلیل، جملہ، مچھر بتی، تصویر، خیال، ذہن۔
ظاہر ہے، یہ سب افراد ہیں کیونکہ ان میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن ان میں اگر ایک نظام قائم کرنا مقصود ہو، تو ضروری ہوگا کہ ایک طرح کی اشیا کو ایک درجے میں اور دوسری کو دوسرے درجے میں رکھیں:
پتھر، آب، لکڑی۔
بلب، مچھر بتی، کمپیوٹر۔
دنیا، آسمان، خلا۔
ختم، تقسیم۔
دلیل، جملہ۔
خیال، ذہن، تصویر۔
جاہل۔
اس درجہ بندی سے معلوم ہوا کہ نظام اشیا کی صرف باہمی تفریق یا اختلاف سے نہیں، بلکہ باہم مشابہ اشیا کے اختلاف سے قائم ہوتا ہے۔
یہ نظام کا محض ایک پہلو ہے۔ اس کے دیگر پہلو بھی ہیں۔ جس چیز کو ہم مشابہت یا مطابقت کہتے ہیں وہ کئی طرح کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آگ اور پانی؛ یہ دونوں اشیا ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لیکن ان میں بہت سی صفات ہیں جو انہیں ایک ہی نوع میں داخل کر سکتی ہیں؛ جیسے آگ اور پانی دونوں میں کوئی نہ کوئی مواد ہے، یعنی یہ قوت کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں، اور اس اعتبار سے یہ دونوں ایک ہی نوع، یعنی قابلِ پیمائش مواد کے افراد ہیں۔ اسی طرح دونوں علیحدہ علیحدہ فاعل حیثیت میں ہوتے ہیں، جیسے آگ جلاتی ہے، پانی ڈبوتا ہے، اس لیے یہ فاعل انواع کے دائرے میں آنے والے افراد ہیں۔ اسی طرح، دونوں ایک ساتھ فاعل اور مفعول کی حیثیت میں بھی ہوتے ہیں یعنی اگر آگ اور پانی کو باہم ملایا جائے تو متوقع ہے کہ یا تو آگ بجھ جائے، یا پانی گرم ہو کر بھاپ بن جائے، اور یہ واقعہ ایک نظمِ عمل کو دکھاتا ہے، چنانچہ اس لحاظ سے یہ ایک نظمِ عمل کے ارکان ہیں۔ چونکہ آگ اور پانی جیسی مختلفُ النوع چیزوں میں بعض اعتبارات سے مشابہت اور/یا مطابقت ہے، اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان میں بھی ایک وحدت موجود ہے اور یہ ایک نظام بننے کے اہل ہیں۔
پس، نظام کا قائم ہونا موقوف ہے مختلف، متضاد یا متبائن اشکال/ افراد میں پہلے ہی ایک مطابقت یا مشابہت کے پائے جانے پر۔
انسانی ذہن کے مقتضیات کی رو سے نظام بننے کے معنی کیا ہیں؟
نظام قائم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ایک مفروض یا موجود جماعت کے افراد کے درمیان کوئی نظمِ عمل قابلِ مشاہدہ ہو۔ اور اسی کے برعکس، بے نظمی کے معنی یہ ہیں کہ مفروض یا موجود جماعت کے افراد کے اندر نظمِ عمل دیکھنے کی کوشش کی جائے لیکن اس کا مفروض یا واقع ہونا ممکن نہ ہو۔ درجِ ذیل صورت پر غور کریں:
تصورِ آوازِ 'چ'۔
شئے طوطا۔
یہ دونوں ایک ہی سطح پر ایک ساتھ مل کر کوئی متلفظہ لفظ (منہ سے بولا جانے والا لفظ) نہیں بناتے، اس لیے اس جہت سے یہ لغو اور لایعنی یا بے نظمی یا نظم کا فقدان ہے۔ لیکن ایک اور جہت سے ایک ہی سطح پر ان میں مطابقت کا امکان ہے۔ فرض کیجیے ہم تصورِ آوازِ 'چ' کریں اور اس سے مراد شئے طوطا لیں، تو ایک نظمِ عمل مفروض اور مشاہد ہو سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں پہلے ذہن میں شئے طوطا کا ذہنی تصور موجود تسلیم کرنا ہوگا۔ اور پھر ذہن خارج میں واقعہ لسانی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
یہاں نظم اور بے نظمی میں ایک اہم فرق سامنے آیا۔ باہم مختلف افراد کے درمیان کوئی نظمِ عمل یا تو مفروض ہو یا قابلِ مشاہدہ ہو، تبھی نظام بنتا ہے۔
مزید:
جیسے اوپر واضح ہوا کہ ذہنی تصورِ آوازِ 'چ' اور شے طوطا ایک ساتھ مل کر منہ سے بولا جانے والا لفظ نہیں بنا سکتے، کیونکہ یہ ایک قطعی ناممکن بات ہے، اور اسی عدمِ امکان کو بے نظمی یا لایعنیت کہنا چاہیے، یعنی نظم کا فقدان۔ بہ الفاظ دیگر، بعض مفروضہ یا حقیقی ارکان/ اجزا/ افراد کی ایسی مفروضہ جماعت جو مختلف سطحوں پر تو اپنا انفرادی وجود رکھتی ہو لیکن عالم واقعہ میں ایک ساتھ کسی نئی صورت میں وجود میں نہ آ سکے۔ اس کے برعکس نظم یہ ہے کہ کم از کم ایک نظمِ عمل کسی نہ کسی جہت سے دو ارکان/ اجزا/ افراد کے درمیان دیکھا جا سکے۔ ذہنی تصورِ آوازِ 'چ' سے شے طوطا مراد لینا کم از کم ذہنی سطح پر فرض کیا جا سکتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ عالم واقعہ کی سطح پر سگنی فکیشن کے کام آ سکتا ہے، اس لیے ایک نظمِ عمل ان دونوں افراد میں موجود ہے۔
پس، افراد کے درمیان نظمِ عمل ممکن ہونا یہ ہے کہ وہ ایک ہی سطح پر قائم افراد ہوں، گو نوعی طور پر مختلف ہوں یا نہ ہوں۔ جیسے: ذہنی تصورِ آوازِ 'چ'، اور ذہنی آوازِ 'چ'، یا تلفیظی/ خارجی سطح پر آوازِ چ اور اس کی مدد سے دکھائی جانے والی کوئی بھی شئے۔
یہاں ایک اور بات کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ جو دعاوی یا مفروضات عملاً ناممکن ہیں، جیسے تصورِ آوازِ 'چ' اور شے طوطا کا مُتَلَفَّظَہ لفظ بننا، یا سوئی کے ناکے سے ہاتھی کا نکلنا؛ اگر ایک شخص کامل یقین و اِذعان کے ساتھ ایسی بات کہتا ہو، تو وہ بات قَولی سطح پر اُسی کے یقین و اِذعان کے لیے بطور ایک مفروضہ کے نادرست نہیں ہوگی کیونکہ اس کا تعلق اس کے نقطۂ نظر سے ہے، لیکن واقعات کی دنیا میں یہ کسی بھی شخص کے لیے ایک صحیح دعویٰ نہ ہوگا کیونکہ اس کا فی الوقت ناممکن ہونا از خود واضح ہے، حالانکہ وہ ایک بامعنیٰ دعویٰ ضرور ہوگا، کیونکہ جملے میں اس کے معنیٰ نکلتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں