گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
کیا اسلام میں سرشماری کے بعد کثرت آرا پر مبنی شورائیت قرآن سے ثابت
ہوتی ہے؟ یعنی صدر حکومت اس کو چنا جائے جس کے حق میں زیادہ ووٹ پڑیں؟ اور
ریاست کے معاملات میں صدر ریاست اپنے مشیروں کی اکثریت کی رائے ماننے کا
پابند ہو؟ فرض کیجیے، اگر مشیر پانچ ہوں اور چھٹا خود صدر ریاست ہو تو پانچ
مشیر مل کر صدر کو تگنی کا ناچ نچا دیں گے، اور اگر مشیر چار ہوں تو ان
میں سے تین اگر آپس میں مل جائیں تو صدر صاحب کو ناکوں چنے چبوا دیں۔ اسی
لیے اسلام میں اکثریت کی حاکمیت پر مبنی
شورائی نظام نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب لوگ مشورے میں
شریک ضرور ہوں لیکن چلے وہی بات جو حق ہو، اور حق وہ ہے جو طاقت کی بنیاد
پر واقع ہو۔ اور طاقت وہ ہے جس کا لوہا طوعا و کرہاً سب کو ماننا پڑے۔
قرآن اگر کوئی بین کتاب ہے تو اس میں یقینا یہ بات آنی چاہیے کہ تم آپس میں مشورہ کرو اور پھر سرشماری کے بعد کثرت کو دیکھو کہ کس رائے کی طرف ہے، پھر جس رائے کے حق میں سب سے زیادہ افراد ہوں، انہیں کی رائے کو نافذ کرنا حق ہے۔ اتنی صاف بات نہ قرآن میں کہیں ہو سکتی ہے اور نہ حدیث میں۔ کیونکہ عقلا یہ ایک کمزور بات ہے، اور قرآن یا حدیث عقلاً کمزور باتیں نہیں کہتے۔ کثرتِ تعداد ایسی چیز ہے کہ کسی کٹھ پتلی کو امیر بنا دے اور پھر اسے اکثریت کے مشورے کا پابند یعنی کاٹھ کا الو بنا کر چھوڑ دے۔ اسی لیے قرآن میں صریحا کہیں پر اکثریت کی رائے کو تسلیم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ صرف یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ شاورھم فی الامر۔اس سے کثرتِ آرا کو ماننے کا حکم نہیں نکلتا۔ کیا امرھم شوری بینھم سے کثرتِ آرا کو ماننے کا حکم نکلتا ہے؟
(27 ستمبر2018عیسوی)
قرآن اگر کوئی بین کتاب ہے تو اس میں یقینا یہ بات آنی چاہیے کہ تم آپس میں مشورہ کرو اور پھر سرشماری کے بعد کثرت کو دیکھو کہ کس رائے کی طرف ہے، پھر جس رائے کے حق میں سب سے زیادہ افراد ہوں، انہیں کی رائے کو نافذ کرنا حق ہے۔ اتنی صاف بات نہ قرآن میں کہیں ہو سکتی ہے اور نہ حدیث میں۔ کیونکہ عقلا یہ ایک کمزور بات ہے، اور قرآن یا حدیث عقلاً کمزور باتیں نہیں کہتے۔ کثرتِ تعداد ایسی چیز ہے کہ کسی کٹھ پتلی کو امیر بنا دے اور پھر اسے اکثریت کے مشورے کا پابند یعنی کاٹھ کا الو بنا کر چھوڑ دے۔ اسی لیے قرآن میں صریحا کہیں پر اکثریت کی رائے کو تسلیم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ صرف یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ شاورھم فی الامر۔اس سے کثرتِ آرا کو ماننے کا حکم نہیں نکلتا۔ کیا امرھم شوری بینھم سے کثرتِ آرا کو ماننے کا حکم نکلتا ہے؟
(27 ستمبر2018عیسوی)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں