گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
افراد کے درمیان جدل پر مبنی بحث اور مکالمہ پر مبنی بحث میں فرق ہے۔ جدل میں ہر ایک فریق آخر تک اپنے موقف پر اڑا رہتا ہے اور مکالمہ میں اپنے موقف کو کسی نہ کسی حد تک بدلتا ہے۔
حق و صداقت کو جدل اور مکالمہ دونوں کے ذریعے پایا جا سکتا ہے۔ فریقین کو تلاش حق میں کبھی جدل سے کامیابی ملتی ہے اور کبھی مکالمہ سے بشرطیکہ جدل ہو یا مکالمہ اسے پورے شعور کے ساتھ تلاش حق سے مشروط کر کے شروع کیا جائے اور حسب ضرورت بحث کے طریقے کو جدل سے مکالمہ میں یا مکالمہ سے جدل میں بدل لیا جائے۔
لیکن اگر فریقین اپنی نیت کی سطح پر یا باہمی طور پر یہ طے کر لیں کہ خواہ کیسی ہی دلیل کیوں نہ پیش کر دی جائے وہ آخر آخر تک جدل کے طریقے سے ہی بحث کریں گے اور گفتگو کے کسی مرحلے میں مکالمہ کا طریق نہ اپنائیں گے تو حق پر پردا پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر فریقین مکالمہ کے طریقے سے کام لے کر بحث کریں اور بحث کے کسی مرحلے میں کوئی فریق جدل سے کام نہ لے بلکہ "کچھ ہم مانیں کچھ تم مانو" کے اصول پر کار بند رہے تو ایک فریق کے غالب آنے کا خطرہ ہوتا ہے اور بعید نہیں کہ مکالمہ بھی ایسے نتائج کی طرف لے جائے جو غیرحق ہو۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ بحث کامیاب ہو اور ہر ایک فریق بحث کے اختتام پر تلاش حق کے اپنے مقصد میں خود کو کامیاب محسوس کرے؟ دراصل یہ نہایت سنجیدہ آرٹ ہے اور وسیع علم کے ساتھ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہنگامی حالات میں نہ علم کی توسیع کی جا سکتی ہے اور نہ بہت دور اور دیر تک سوچا جا سکتا ہے۔ البتہ جب ہنگامی حالات گزر جائیں تو گہرا علم بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور جو کچھ حاصل کیا، اس پر غور و فکر بھی، اور ان دونوں کی بنیاد پر نئی صورتحال کی تخلیق کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں آزادانہ طور پر نہ حصول علم کی طرف توجہ دی گئی اور نہ غور و فکر کی ترغیب۔ صرف یہ کہا جاتا رہا کہ مقدس متن میں غوطہ زن ہو، اس کی رو سے غور و فکر کرو۔ بلاشبہ مقدس کتابیں اس دنیا کا حصہ ہیں اور ان میں بھی غور و فکر کرنا، ان کی رو سے بھی غور و فکر کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ مقدس کتب زندگی کے لیے یوزر مینوئل نہیں ہیں، بلکہ کائنات میں اور بھی بہت سے مظاہر ہیں جن کا علم حاصل کرنے اور جن پر غور کرنے کی غیر محدود گنجائش ہے۔ انسان کے پاس اپنی عقل، دل و دماغ، اور الفاظ ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ کسی بھی صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دوسروں کی عقلیں، دل و دماغ اور افکار تک بھی اس کی رسائی ہوتی ہے، جن کا وہ گہرائی سے مطالعہ کر سکتا ہے۔ کوئی بھی مذہبی، سماجی، معاشی یا تہذیبی مسئلہ جامع، مشترکہ اور شمولیتی فکری عمل کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنی انفرادی اوراجتماعی دونوں حیثیتوں میں کوئی تنہا وجود نہیں ہے۔ اس کا سابقہ لازما دوسروں سے پڑتا ہے۔ افراد کا افراد سے اور جماعتوں کا جماعتوں سے، قوموں کا قوموں سے اور تہذیبوں کا تہذیبوں سے۔ اور بین افرادی، بین جماعتی اور بین قومی و تہذیبی معاملات میں کشمکش کی صورتحال بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہ کشمکش بہت سے معاملوں میں ایک طرفہ نہیں ہوتی۔ دنیا کی اکثر بڑی کشمکشیں نظری اور عملی اعتبار سے ایسی نہیں ہوتیں جس میں ایک فریق بالکل حق پر ہو اور دوسرا بالکل باطل پر۔ بہت سی کشمکشیں عقائد کی بنا پر واقع ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کا کوئی عقیدہ مکمل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ سب عقائد کو ایک ساتھ ساختیاتی طریقے سے ملا دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے، اور اس کے کچھ تقاضے ہوں گے، مثلا یہ کہ پھر کسی عقیدے کا ابطال نہیں کرنا ہوگا اور نہ ان کے ماننے والوں پر کوئی طعن درست ہوگی۔ حالانکہ طعن اور ملامت کوئی نیک یا جائز رویہ نہیں۔
حق و صداقت کو جدل اور مکالمہ دونوں کے ذریعے پایا جا سکتا ہے۔ فریقین کو تلاش حق میں کبھی جدل سے کامیابی ملتی ہے اور کبھی مکالمہ سے بشرطیکہ جدل ہو یا مکالمہ اسے پورے شعور کے ساتھ تلاش حق سے مشروط کر کے شروع کیا جائے اور حسب ضرورت بحث کے طریقے کو جدل سے مکالمہ میں یا مکالمہ سے جدل میں بدل لیا جائے۔
لیکن اگر فریقین اپنی نیت کی سطح پر یا باہمی طور پر یہ طے کر لیں کہ خواہ کیسی ہی دلیل کیوں نہ پیش کر دی جائے وہ آخر آخر تک جدل کے طریقے سے ہی بحث کریں گے اور گفتگو کے کسی مرحلے میں مکالمہ کا طریق نہ اپنائیں گے تو حق پر پردا پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر فریقین مکالمہ کے طریقے سے کام لے کر بحث کریں اور بحث کے کسی مرحلے میں کوئی فریق جدل سے کام نہ لے بلکہ "کچھ ہم مانیں کچھ تم مانو" کے اصول پر کار بند رہے تو ایک فریق کے غالب آنے کا خطرہ ہوتا ہے اور بعید نہیں کہ مکالمہ بھی ایسے نتائج کی طرف لے جائے جو غیرحق ہو۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ بحث کامیاب ہو اور ہر ایک فریق بحث کے اختتام پر تلاش حق کے اپنے مقصد میں خود کو کامیاب محسوس کرے؟ دراصل یہ نہایت سنجیدہ آرٹ ہے اور وسیع علم کے ساتھ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہنگامی حالات میں نہ علم کی توسیع کی جا سکتی ہے اور نہ بہت دور اور دیر تک سوچا جا سکتا ہے۔ البتہ جب ہنگامی حالات گزر جائیں تو گہرا علم بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور جو کچھ حاصل کیا، اس پر غور و فکر بھی، اور ان دونوں کی بنیاد پر نئی صورتحال کی تخلیق کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ہاں آزادانہ طور پر نہ حصول علم کی طرف توجہ دی گئی اور نہ غور و فکر کی ترغیب۔ صرف یہ کہا جاتا رہا کہ مقدس متن میں غوطہ زن ہو، اس کی رو سے غور و فکر کرو۔ بلاشبہ مقدس کتابیں اس دنیا کا حصہ ہیں اور ان میں بھی غور و فکر کرنا، ان کی رو سے بھی غور و فکر کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ مقدس کتب زندگی کے لیے یوزر مینوئل نہیں ہیں، بلکہ کائنات میں اور بھی بہت سے مظاہر ہیں جن کا علم حاصل کرنے اور جن پر غور کرنے کی غیر محدود گنجائش ہے۔ انسان کے پاس اپنی عقل، دل و دماغ، اور الفاظ ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ کسی بھی صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دوسروں کی عقلیں، دل و دماغ اور افکار تک بھی اس کی رسائی ہوتی ہے، جن کا وہ گہرائی سے مطالعہ کر سکتا ہے۔ کوئی بھی مذہبی، سماجی، معاشی یا تہذیبی مسئلہ جامع، مشترکہ اور شمولیتی فکری عمل کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنی انفرادی اوراجتماعی دونوں حیثیتوں میں کوئی تنہا وجود نہیں ہے۔ اس کا سابقہ لازما دوسروں سے پڑتا ہے۔ افراد کا افراد سے اور جماعتوں کا جماعتوں سے، قوموں کا قوموں سے اور تہذیبوں کا تہذیبوں سے۔ اور بین افرادی، بین جماعتی اور بین قومی و تہذیبی معاملات میں کشمکش کی صورتحال بھی دیکھی جاتی ہے۔ یہ کشمکش بہت سے معاملوں میں ایک طرفہ نہیں ہوتی۔ دنیا کی اکثر بڑی کشمکشیں نظری اور عملی اعتبار سے ایسی نہیں ہوتیں جس میں ایک فریق بالکل حق پر ہو اور دوسرا بالکل باطل پر۔ بہت سی کشمکشیں عقائد کی بنا پر واقع ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کا کوئی عقیدہ مکمل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ سب عقائد کو ایک ساتھ ساختیاتی طریقے سے ملا دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے، اور اس کے کچھ تقاضے ہوں گے، مثلا یہ کہ پھر کسی عقیدے کا ابطال نہیں کرنا ہوگا اور نہ ان کے ماننے والوں پر کوئی طعن درست ہوگی۔ حالانکہ طعن اور ملامت کوئی نیک یا جائز رویہ نہیں۔
اس نکتے کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی زاویہ مثلا 90 ڈگری، 45 ڈگری، 10 ڈگری وغیرہ، اپنی جگہ مکمل نہیں ہے لیکن اگر تمام زاویوں کو ملا کر سوچا جائے تو تین سو ساٹھ ڈگری کا زاویہ وجود میں آ جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر زاویہ قائمہ یعنی 90 ڈگری اپنی حقانیت کا دعوی یہ کہہ کر کرے کہ میں حق ہوں تو اس کا دعوی درست ہے۔ لیکن اس کا وجود تو تین سو ساٹھ ڈگری کے تصور پر ہی قائم ہے۔ تین سو ساٹھ ڈگری کے تصور کے بغیر کیا زاویہ قائمہ کا تصور قائم ہو سکتا ہے؟ لیکن اگر زاویہ قائمہ یہ کہے کہ میں ہی تین سو ساٹھ ڈگری ہوں تو یہ خود اپنی تغلیط ہوگی۔ اسی طرح اگر زاویہ قائمہ یہ کہے کہ دنیا میں صرف ایک زاویہ قائمہ ہی ہے اور کسی دوسرے زاویے کا کوئی وجود ہی نہیں تو یہ بھی صحیح نہیں۔ دنیا میں بہت سارے زاویے اور نقطہ ہائے نظر ہیں اور بنیادی طور پر کوئی زاویہ اور نقطہ نظر غلط یا باطل نہیں ہوتا البتہ جب ایک فرد یا جماعت یہ چاہتی ہے کہ صرف اسی کا زاویہ یا نقطہ نظر باقی رہے اور بقیہ سب کے سب فنا ہو جائیں تو یہاں سے خرابی شروع ہوتی ہے۔ کسی بھی ایک زاویہ یا نقطہ نظر میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر دنیا کا سارا کاروبار چلا سکے۔ وہ جس کو 360 ڈگری کا زاویہ کہتے ہیں یہ اس کے بس کی بات بھی نہیں۔ جس طرح انسان جن چیزوں اور اوزاروں سے کام لیتا ہے ان کی بناوٹ کے زاویے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی عقائد کے زاویے بھی مختلف ہوتے ہیں، اور ان سے بھی دنیا کا کاروبار چلتا ہے۔ حالانکہ جس طرح ریاضی میں زاویہ ایک خیالی اور مجرد چیز ہے اسی طرح مذہب میں عقائد بھی خیالی اور مجرد ہیں۔ ہم نے تو عقائد کو زاویوں کی طرح بس مان لیا ہے۔ بت پرستی اور خدا پرستی دو مذہب کے دو زاویے ہیں۔ اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک بت پرست عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچ سکتا ہے اور ایک خدا پرست عشق حقیقی سے عشق مجازی تک۔ اقبال تو بڑا خدا پرست شاعر تھا تو اس نے آخر یہ کیوں کہا:
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
لباس مجاز میں کسی اوتار کے نظر آنے اور سجدہ ریز ہونے کی تمنا کیا شرک جلی نہیں؟ ایک تنگ نظر علامہ اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ ایسا کہنے والا دین سے خارج ہوگیا اور اس کی بیوی نکاح سے نکل گئی۔ لیکن جن لوگوں کی نظر حقیقت پر ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا دین تین سو ساٹھ ڈگری کامل ہو گیا، صرف اسی ایک شعر کی وجہ سے۔
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
لباس مجاز میں کسی اوتار کے نظر آنے اور سجدہ ریز ہونے کی تمنا کیا شرک جلی نہیں؟ ایک تنگ نظر علامہ اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ ایسا کہنے والا دین سے خارج ہوگیا اور اس کی بیوی نکاح سے نکل گئی۔ لیکن جن لوگوں کی نظر حقیقت پر ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا دین تین سو ساٹھ ڈگری کامل ہو گیا، صرف اسی ایک شعر کی وجہ سے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں