گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
خدا کے عدم اور وجود پر آج ہی یوٹیوب پر ایک بحث دیکھی۔ پلڑا مجھے خدا کے وجود کے حق میں بھاری ہوتا ہوا لگا—
جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ خدا کے وجود کے حق میں دلائل زیادہ وزنی ہیں جن سے کام لیا گیا یا اس کے عدم کے حق میں دلائل زیادہ کمزور ہیں جنہیں پیش کیا گیا۔ بلکہ اس لیے کہ بحث کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ مسئلہ واضح ہونے کے بجائے مزید الجھتا چلا گیا۔
یہ مناظرہ یا مکالمہ دو افراد کے درمیان تھا: ایک شاعر صفت بزرگ، جو خدا کے عدم کے قائل تھے، اور ایک دینی عالم، جنہوں نے کچھ فلسفہ بھی پڑھ رکھا تھا اور جن کی بعض دلیلیں براہِ راست فلسفے سے اخذ کردہ تھیں۔
میں یہاں اس مناظرے میں پیش کیے گئے دلائل کی صحت یا عدمِ صحت پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا، بلکہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے عدم اور وجود پر ہونے والی ایسی بیشتر بحثیں اس لیے بے نتیجہ رہتی ہیں کہ ابتدا ہی میں یہ طے نہیں کیا جاتا کہ آخر کس مفہوم کے خدا پر بات ہو رہی ہے۔
خدا کے عدم اور وجود پر جب بھی بحث کی جائے، سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ خدا کو ہست سمجھا جا رہا ہے یا نیست۔ بعض احمقانِ بے بصیرت فوراً یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو لازماً ہست ہی ہوگا؛ وہ نیست کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ سوال دراصل مفہوم کی سطح پر ایک بڑی غلط فہمی پر قائم ہے۔ خدا کے لیے ہست کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا زمان و مکان سے ماورا نہیں، بلکہ زمان و مکان کے اندر ہے۔ لفظ ہست کا مفہوم ہی کسی شے کے کسی زمان و مکان میں ہونے سے وابستہ ہے۔ ہست یعنی ہے، ہستی یعنی ہونا، اور ہے یا ہونا زمان و مکان سے الگ ہو ہی نہیں سکتا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ خدا ہے، تو یہ جملہ ساخت کے اعتبار سے اسی نوعیت کا ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں: پانی ہے، ہوا ہے، زمین ہے، امریکہ ہے۔ یہ تمام بیانات کسی شے کے کسی مخصوص زمانی و مکانی نظام میں ہونے کی خبر دیتے ہیں۔
اسی بنا پر، خدا کے لیے نیست کا لفظ نہ صرف استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ زیادہ موزوں بھی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا نیست ہے، تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ خدا اس زمان و مکان میں نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ خدا اس زمان و مکان سے ماورا کسی سطح پر موجود نہیں ہو سکتا۔
یہاں ایک بنیادی امتیاز واضح ہو جاتا ہے:
خدا کا نیست ہونا ایک بات ہے، اور خدا کا وجود ہونا دوسری بات۔
خدا اس نظامِ ہستی میں نیست ہو سکتا ہے، لیکن اس نظامِ ہستی سے باہر اس کا وجود ممکن مانا جا سکتا ہے۔
اسی مقام پر لفظ وجود اور عدم کے مفہوم کو واضح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے، ورنہ کوئی بھی بحث بارآور نہیں ہو سکتی۔
عدم کے معنی نفی کے ہیں، اور وجود کے معنی اثبات کے۔ اثبات اور نفی—یعنی ہاں اور نہیں—ایک دوسرے کے بغیر قابلِ فہم ہی نہیں۔ تاہم ہاں اور نہیں کے لیے زمان و مکان شرط نہیں، جب کہ ہست اور نیست کے لیے زمان و مکان لازمی شرط ہے۔
اب اگر خدا کے عدم اور وجود کے قائلین کے درمیان بحث ہو تو دونوں فریق کم از کم اس نکتے پر متفق ہوتے ہیں کہ کائنات کی ایک ابتدا اور ایک انتہا ہے۔ جب دونوں اس ابتدا کو مانتے ہیں تو سوال لازماً یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابتدا سے پہلے کیا تھا؟
ابتدا سے پہلے یا تو کچھ تھا، یا کچھ نہیں تھا۔
اگر کہا جائے کہ کچھ نہیں تھا، تو اس کچھ نہیں سے مراد اس کائنات کے اندر کسی شے کا نہ ہونا ہے—اور یہی خدا کے عدم کے قائل کا اصل دعویٰ ہے۔ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ زمان و مکان کی ابتدا سے پہلے مطلقاً کچھ بھی نہیں تھا، بلکہ وہ صرف اس کائنات کے اندر خدا کے ہونے کی نفی کرتا ہے۔
اور اگر کہا جائے کہ کائنات کی ابتدا سے پہلے کچھ تھا، تو یہ اس کائنات جیسی کسی شے کے ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ اس کائنات سے باہر—یعنی زمان و مکان کی ابتدا سے پہلے—کسی حقیقت کے ہونے کا بیان ہے، اور خدا کے وجود کا قائل اسی حقیقت کو خدا کا نام دیتا ہے۔
یوں واضح ہو جاتا ہے کہ اصل اختلاف خدا کے عدم اور وجود پر نہیں، بلکہ خدا کے ہست یا نیست ہونے پر ہے۔ ایک فریق خدا کو اس نظامِ زمان و مکان میں ہست مانتا ہے، دوسرا اسے اسی نظام میں نیست قرار دیتا ہے—اور دونوں اپنے اپنے مقام پر درست ہیں۔
اسی بنا پر یہ دونوں بیانات دراصل ایک ہی حقیقت کے دو مختلف بیانیے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں:
گلاس آدھا خالی ہے۔
گلاس آدھا بھرا ہے۔
انسان کا ہر بیان اسی کائنات، اسی نظامِ زمان و مکان کے اندر رہ کر ممکن ہوتا ہے۔ اس نظام سے باہر کے متعلق وہ نہ عملی طور پر کوئی بات کہہ سکتا ہے، نہ عقلی طور پر کوئی حتمی بیان دے سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفیانہ گفتگو اپنی حد کو پہنچتی ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خدا کا سوال تبھی پیدا ہوتا ہے جب کوئی بندہ بھی موجود ہو۔ اگر بندہ ہی نہ ہو تو “خدا ہے” کہنا بے معنی ہو جاتا ہے۔ خالق کا تصور بھی تبھی معنی رکھتا ہے جب مخلوق موجود ہو۔ مخلوق کے بغیر خالق کا تصور قائم ہی نہیں ہوتا۔
خالق اور مخلوق کی دوئی کے قائم ہوتے ہی خالق کا مفہوم پیدا ہوتا ہے؛ اور اس دوئی کے قائم ہونے سے پہلے خالق کا تصور بے معنی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ زمان و مکان کی ابتدا سے پہلے خدا یا خالق موجود تھا، ایک فلسفیانہ اعتبار سے غیر معنی دار بات ہے—اس لیے کہ ابتدا سے پہلے نہ مخلوق تھی، نہ وہ دوئی جس پر خالق کا تصور قائم ہوتا ہے۔
البتہ اگر کوئی یہ کہے کہ زمان و مکان کی ابتدا سے پہلے کچھ تھا، اور وہ اس کچھ کو خدا کا نام دیتا ہے، تو اس پر کوئی منطقی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی اس کچھ کو کوئی نام نہ دے، یا اسے خدا کہنے سے انکار کرے، تو وہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔
پس، یہ سارا اختلاف دراصل حقیقت کا نہیں، نام کا اختلاف ہے—ایک ظاہری جھگڑا کہ آپ کس نام کے ساتھ ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں