مرزا سلطان احمد کے نظام علوم و فنون کی تفہیم کے لیے ان کی دو بنیادی اصطلاحات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ پہلا ہے منظرِ قدرتیہ اور دوسرا ہے جذباتِ انسانیہ۔ ان دونوں اصطلاحوں کو سمجھنے کے بعد ہی علوم و فنون کی کثرت میں وحدت کا نظارا کیا جا سکتا ہے۔
منظرِقدرتیہ سے مراد وہ تمام تر مناظر – یعنی ہر قسم کی مادی اور غیرمادی موجودات اور ان سے متعلق حالات، کیفیات، تغیرات و تبدلات، تصرفات، واقعات، معلومات وغیرہ ہیں جو انسان کے انفرادی و اجتماعی علم و ادراک میں موجود تھے، ہیں اور آئندہ ہوں گےخواہ انسانی علم میں کسی بھی جہت سے ارتقا ئی یا انحطاطی عمل پایا جاتاہو۔ ظاہر ہے اس میں موجودات کی مادی و غیر مادی ہر نوع کے مجموعی و انفرادی اشکال، ہیئتیں، حالتیں، کیفیتیں اور/ یا تصرفات شامل ہیں۔ مثلاً اس میں جمادات کی ہر نوع سے متعلق ہر قسم کے مناظر کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، ا س میں حیوانات کی ایک نوع انسان کے متعلق ہر قسم کے مناظر شامل ہیں یا کیے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس میں ماورائے انسان مناظر و مظاہر کے سلسلے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس میں شامل ہیں یا نہیں ہیں۔ بلکہ منظر قدرتیہ کے تحت انسانی شعور اور انسانی ادراک و احساس کے دائرے کے تحت آنے والے مناظر و مظاہر ہی رکھے جا سکتے ہیں اور ان مناظر و مظاہر سے کوئی سروکار نہیں رکھا جا سکتا جو انسان کے لیے بہرصورت ناقابل ادراک و احساس ہیں۔کیونکہ انسان کے لیے ناقابل ادراک مناظر و مظاہر کے عدم اور وجود پر کوئی حکم لگانا ہی ممکن نہیں ہے۔
جذباتِ انسانیہ سے بھی بالکلیہ وہی مراد ہے جو منظر قدرتیہ سے ہے فرق صرف یہ ہے کہ منظر قدرتیہ کی اصطلاح کی مدد سے: موجودات پر انسان کے ذریعے قدرت کے زاویے سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس روشنی میں تمام تر قدرتی مناظر و مظاہر کے ساتھ ساتھ خود انسان اور اس کے جملہ اجتہادات اور کارنامے بھی بحیثیت جدا جدا انواع کے دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ جذباتِ انسانیہ کی اصطلاح کی مدد سے: خود انسانی زاویے سے تمام تر مناظرِ قدرتیہ پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں انسان بحیثیت ایک نوع کے خود اپنے کارناموں کو قدرتی مناظر سے علیحدہ بھی دیکھ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ انسانی نقطۂ نظر سے قدرتی مناظر میں وہ تمام تر مناظر شامل ہیں جو وہ مختلف سلسلۂ موجودات میں دیکھتا ہے۔ مثلاً بیا کا گھونسلہ (جو نوعِ حیوانی کے ایک فرد کا کارنامہ ہے) یا پہاڑ (جو جمادات کی ایک شکل ہے) قدرتی مناظر ہیں۔ حالانکہ خود انسان کے اپنے کارنامے بھی وسیع تر مفہوم میں قدرتی نوعیت ہی رکھتے ہیں لیکن بحیثیت ایک نوع کے اپنے کارناموں کو دیگر انواعِ موجودات کے کارناموں سے علیحدہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس لیے وہ دیگر قدرتی مناظر اور اپنے کارناموں یا اجتہادات میں فرق کرتا ہے۔منظر قدرتیہ اور جذبات انسانیہ کو ہم روشنی کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ گرد و پیش کی اشیا کا مشاہدہ کراتی ہے بلکہ خود اپنے آپ کو بھی دکھاتی ہے۔
پس، مرزا صاحب کے نزدیک قدرت کا ایک وسیع تر مفہوم ہے جس میں موجودات کا ہر سلسلہ، ہر نوع اور اس کی شکلیں، ہیئتیں اور/ یا تصرفات شامل ہیں۔ وہ خود بھی قدرت کا ایک حصہ ہے اور جب بات دیگر انواعِ موجودات کے مناظرسے خود اپنے مناظر کو علیحدہ کرنے کی ہوتی ہے تو اس کے لیے قدرتی مناظر اور انسانی اجتہادات کی اصطلاحیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ منظر قدرتیہ اور جذبات انسانیہ دونوں جملہ مظاہر ہست ونیست کو اس کی وحدت میں دیکھنے کے محض دو زاویے ہیں جنہیں مظاہر ہست و نیست کے مطالعہ کی غرض سے نہایت واقعیت کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔
جس قدر مظاہر سے انسان کا سامنا ہوتا ہے اگر وہ اس کو دو حصوں میں تقسیم کرے، یعنی ایک حصہ وہ جس میں بے شمار سلسلۂ انواعِ موجودات کے اندر وہ خود ایک نوع ہے اور دیگر انواعِ موجودات پر یا تو اثر انداز ہوتا ہے یا ان کے متعلق علم حاصل کرتا ہے۔ اس حصے کا ادراک انسان قدرت (یا فطرت) کے زاویے سے کرتا ہے۔ اور اپنے آپ کو قدرت کی جگہ پر رکھ کر جملہ مظاہر کا تماشا کرتا ہے (جتنا کہ کرنا ممکن ہے)۔ یہ منظر قدرتیہ میں شامل ہے۔
اور دوسرا حصہ وہ جس میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ مظاہر کا جس قدر علم اس کو ہو رہا ہے وہ اسے اپنے اجتہادات کے ماتحت لائے یا نہ لائے، یعنی وہ اس علم کو پا کر فطرت یا قدرتی عمل میں تصرف کرے یا نہ کرے یہ بہرحال اس کی اپنی نظر ہے جو اس کو مظاہر کا تماشا دکھا رہی ہے۔ یہ جذبات انسانیہ میں شامل ہے۔
یعنی منظر قدرتیہ جذبات انسانیہ ہے اور جذبات انسانیہ منظر قدرتیہ ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سلسلۂ مناظر ومظاہر کے تماشے پر مبنی دو نام ہیں۔ اور اسے دو علیحدہ ناموں سے پکارنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف تمام تر مظاہر ہست و نیست کو بحیثیت مجموعی انسانی نظر سے جس قدر بلند ہو کر دیکھنا ممکن ہو دیکھا جائے اور دوسری طرف انسان اور اس کا علم اور کارنامے حتی الامکان دیگر انواعِ موجودات سے متمیز ہو جائیں۔
جس چیز کو انسان قدرت یا فطرت (نیچر) کہتا ہے وہ انسانی نظر اور انسانی علم کی رو سے ہی انسان پر ظاہر ہوتی ہے، اور آزادانہ وہ اپنے کو انسان پر ظاہر نہیں کر سکتی۔ انسان خوب سمجھتا ہے کہ قدرت یا نیچر کی یہ اصطلاح خود اس کی وضع کردہ ہے ورنہ خود نیچر میں یہ اصطلاح اپنے تصورِ کے ساتھ انسان سے خارج کسی اور ہستی میں انسان کے نزدیک ثابت نہیں۔ پس، نیچر کا جو تصور انسان کے ذہن میں کارفرما ہے وہ خود انسان کا اپنا زائیدہ تصور ہے اور اس لیے یہ ایک انسانی تصور ہے اوراس نسبت سے نیچر کا یہ تصور ’’جذبات انسانیہ‘‘ کے ماتحت رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ انسان بحیثیت ایک نوع کے دیکھتا ہے کہ اس کائنات میں صرف وہی کارفرما و متصرف نہیں بلکہ دیگر انواع موجودات بھی اپنے اپنے حیطہ وجود میں کارفرما و متصرف پائے جاتے ہیں، پس انسان اور دیگر سب انواعِ موجودات جن قوانین کے ماتحت پائے جاتے ہیں انہیں ایک نام قدرت یا نیچر کا دینا ضروری ہے۔ اور اس لحاظ سے انسان اور دیگر انواع موجودات کے اپنے اپنے حیطہ وجود؍حیطۂ عمل میں پائے جانے کے مناظر کو منظر قدرتیہ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
غرض ہم دیکھ سکتے ہیں کہ منظر قدرتیہ اور جذبات انسانیہ کے تصورات میں ایک وحدت ہے جس کو فرضی طور پر منقسم کر کے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس کو بالکلیہ ایک دوسرے سے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ مظاہر ہست و نیست میں منظر قدرتیہ اور جذبات انسانیہ کی وحدت کا یہ تماشا ذہنی سطح پر وحدت وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے (خواہ وہ تماشا بالذات کوئی وحدت ہو یا نہ ہو)۔ (اس سیکشن میں میں نے جو کچھ درج کیا ہے وہ مرزا صاحب کی تحریروں کے مطالعے کی بنا پر کیا گیا میرا ایسا قیاس ہے جس کے اکثر نکات پر میں کوئی براہ راست حوالہ پیش نہیں کر سکتا۔ ہو سکتا ہے اس میں میرے ذاتی خیالات کی آمیزش ہو گئی ہو۔)
تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں