گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
احتجاجی ادب بھی پسند و ناپسند
کا معاملہ ہے اور یہ بھی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوتا ہے۔ معاملہ احتجاج کے
ادب کا ہو یا ادب کے احتجاج کا، اگر ایک شخص ہماری آئیڈیالوجی کے دائرے
میں لکھتا ہے یعنی کہیں نہ کہیں ہمارے حق میں اس کی دم ہلتی رہتی، وہی بڑا
ادیب اور ایکٹیوسٹ۔ جیسے ہی دم کا ہلنا بند ہوا، کہ وہ برادری سے ہی نہیں
بلکہ انسانیت کے دائرے سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ جو دم ہے وہ مالک
کے اقتدار کی علامت ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ادیب پہلے بنے، دم بعد میں ہلایا اور کچھ نے ابتدا ہی سے دم ہلایا، اور ادیب قرار پا گئے۔ اس میں شک نہیں کہ پہلی قسم کا ادیب زیادہ باصلاحیت ہوتا ہے لیکن جوں ہی کہ اس نے دم ہلانا شروع کیا، اس کی صلاحیتوں میں زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ مگر وہ اپنی زندگی کے آخر تک یہ محسوس نہیں کر پاتا کہ اس نے جس آئیڈیالوجی کے حق میں دم ہلانا شروع کیا ہے، اس کی صلاحیتوں کو پیدا کرنے میں اس آئیڈیالوجی کا کوئی خاص ہاتھ نہیں ہے۔ یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ادبی زندگی کی ابتدا میں وہ آئیڈیالوجیکل نہیں تھا، لیکن جوں ہی کہ اس کو شہرت ملی، اور وہ مقبولِ خاص و عام ہوا، اس کو خود بخود دم ہلانے کی ضرورت محسوس ہونے لگی اور وہ اس نے اسے عین انسانی فطرت کا تقاضا خیال کیا۔
مقبولِ خاص و عام بن جانے کے بعد ادیب ایک پورا دارالافتا بن جاتا ہے۔ لوگ اس سے پوچھنے لگتے ہیں کہ آپ فلاں معاملے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں اگر وہ دم ہلانے سے چوکا تو قبولِ عام و شرفِ دوام کی نعمتِ عظمی سے محروم ہوا۔ کیا پوچھنے والا نہیں جانتا کہ ایک حساس مسئلے میں صحیح رائے کیا ہو سکتی ہے؟ شہرۂ آفاق ادیب سے رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اس کو پیغمبر سمجھتے اور اس سے رہنمائی کے طالب ہیں بلکہ اس کا ایک ہی مفہوم ہے کہ تم کس طرف ہو؟ حق کی طرف یا باطل کی طرف؟ حق و باطل کی پرسش کا جواب شاعر اپنی تخلیقات میں بھی فراہم کرتا ہے اور انٹرویو کی شکل میں بھی۔
جون ایلیا سے جب پوچھا جاتا ہے تو ایک مقام پر یہ جواب ملتا ہے:
میں تو خدا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟
ہر لمحہ ‘لا’ کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟
لیکن میر ایسی پرسش کا یہ جواب دیتا ہے
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا
کہنے کی ضرورت نہیں کہ دم یہاں مذکورہ بالا دونوں میں سے کسی شعر میں نہیں ہل رہی، لیکن ایک میں تصوفانہ حکمت کا پیچ ہے اور دوسرے میں لہجہ نرم تو ہے لیکن احتجاج کی تکمیل ہو گئی ہے۔ ادبیت کس شعر میں زیادہ ہے، یہاں مجھے اس سے غرض نہیں ہے اور نہ اس سے غرض ہے کہ کسی خاص معاملے میں میر یا ایلیا کا فکری موقف کیا ہے، البتہ میر کے اس شعر کو اس کے درجِ ذیل شعر کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے، تب جا کر بات واضح ہو گی۔
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اُس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ادیب پہلے بنے، دم بعد میں ہلایا اور کچھ نے ابتدا ہی سے دم ہلایا، اور ادیب قرار پا گئے۔ اس میں شک نہیں کہ پہلی قسم کا ادیب زیادہ باصلاحیت ہوتا ہے لیکن جوں ہی کہ اس نے دم ہلانا شروع کیا، اس کی صلاحیتوں میں زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ مگر وہ اپنی زندگی کے آخر تک یہ محسوس نہیں کر پاتا کہ اس نے جس آئیڈیالوجی کے حق میں دم ہلانا شروع کیا ہے، اس کی صلاحیتوں کو پیدا کرنے میں اس آئیڈیالوجی کا کوئی خاص ہاتھ نہیں ہے۔ یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ادبی زندگی کی ابتدا میں وہ آئیڈیالوجیکل نہیں تھا، لیکن جوں ہی کہ اس کو شہرت ملی، اور وہ مقبولِ خاص و عام ہوا، اس کو خود بخود دم ہلانے کی ضرورت محسوس ہونے لگی اور وہ اس نے اسے عین انسانی فطرت کا تقاضا خیال کیا۔
مقبولِ خاص و عام بن جانے کے بعد ادیب ایک پورا دارالافتا بن جاتا ہے۔ لوگ اس سے پوچھنے لگتے ہیں کہ آپ فلاں معاملے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں اگر وہ دم ہلانے سے چوکا تو قبولِ عام و شرفِ دوام کی نعمتِ عظمی سے محروم ہوا۔ کیا پوچھنے والا نہیں جانتا کہ ایک حساس مسئلے میں صحیح رائے کیا ہو سکتی ہے؟ شہرۂ آفاق ادیب سے رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اس کو پیغمبر سمجھتے اور اس سے رہنمائی کے طالب ہیں بلکہ اس کا ایک ہی مفہوم ہے کہ تم کس طرف ہو؟ حق کی طرف یا باطل کی طرف؟ حق و باطل کی پرسش کا جواب شاعر اپنی تخلیقات میں بھی فراہم کرتا ہے اور انٹرویو کی شکل میں بھی۔
جون ایلیا سے جب پوچھا جاتا ہے تو ایک مقام پر یہ جواب ملتا ہے:
میں تو خدا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟
ہر لمحہ ‘لا’ کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟
لیکن میر ایسی پرسش کا یہ جواب دیتا ہے
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا
کہنے کی ضرورت نہیں کہ دم یہاں مذکورہ بالا دونوں میں سے کسی شعر میں نہیں ہل رہی، لیکن ایک میں تصوفانہ حکمت کا پیچ ہے اور دوسرے میں لہجہ نرم تو ہے لیکن احتجاج کی تکمیل ہو گئی ہے۔ ادبیت کس شعر میں زیادہ ہے، یہاں مجھے اس سے غرض نہیں ہے اور نہ اس سے غرض ہے کہ کسی خاص معاملے میں میر یا ایلیا کا فکری موقف کیا ہے، البتہ میر کے اس شعر کو اس کے درجِ ذیل شعر کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے، تب جا کر بات واضح ہو گی۔
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اُس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں