نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

علامہ ارشدالقادری کی ایک دلیل

علامہ ارشد القادری کی کتاب جماعت اسلامی سے درج ذیل اقتباس پڑھیں, پھر یا تو ان کے زور قلم کی داد دیں یا قیل و قال شروع کر دیں. داد کی توقع ان سے ہے جو غیر جانبدار اور انصاف پسند ہوں اور قیل و قال کی توقع ان سے جو فکر مودودی کے اسیر ہیں:

"... مولانا مودودی انبیا و اولیا کے ان عقیدت مند مسلمانوں کو جو ظاہر سے باطن تک زندگی کے تمام مراحل میں مومن ہیں, موحد ہیں, کلمہ گو ہیں, بے دریغ مشرک سمجھتے ہیں. 
...
ثبوت کے لیے مولانا کی مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں:
[انبیا علیہ السلام کی تعلیم کے اثر سے جہاں لوگ اللہ واحد و قہار کی خدائی کے قائل ہو گئے. وہاں سے خداؤں کی دوسری اقسام تو رخصت ہو گئیں مگر انبیا, اولیا, شہدا, صالحین, مجاذیب, اقطاب, ابدال, علما, مشائخ اور ظل اللہوں کی خدائی پھر بھی کسی نہ کسی طرح عقائد میں اپنی جگہ نکالتی رہی. جاہل دماغوں نے مشرکین کے خداؤں کو چھوڑ کر ان نیک بندوں کو خدا بنالیا (تجدید و احیائے دین از مولانا مودودی ص 11)] 
آگے چل کر پوری وضاحت کے ساتھ اس مشرک طبقے کی نشاندہی ان الفاظ میں کی گئی ہے. ملاحظہ ہو: 
[مشرکانہ پوجا پاٹ کی جگہ فاتحہ, زیارت, نیاز, نذر, عرس, صندل, چڑھاوے, نشان, علم, تعزیے اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی اعمال کی ایک نئی شریعت تصنیف کر لی گئی. (حوالہ سابق ص 11)] 
دوسرے مقام پر اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ گل افشانی فرماتے ہیں: 
[جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستہ سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا. ایک صریح بت پرستی تو نہ ہو سکی, باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے مسلمانوں میں رواج نہ پایا. 
پرانی جاہلی قوم کے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ بہت سے مشرکانہ تصورات لئے چلے آئے اور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانے معبودوں کی جگہ بزرگان اسلام میں سے کچھ معبود تلاش کریں, پرانے معبدوں (بت خانوں) کی جگہ مقابر اولیا سے کام لیں. (حوالہ سابق ص 25) ]
... 
دنیا کا کون مسلمان ہے جو انبیا و اولیا کو اپنا معبود سمجھتا ہے اور اصنام کی جگہ قبروں کی پرستش کرتا ہے؟ اس طرح کا کوئی فرضی مسلمان مولانا مودودی کی دنیائے خیال میں ہو تو ہو, واقعات کی دنیا میں ہرگز نہیں ہے. 
خدا کا محبوب اور مقرب بندہ سمجھ کر بزرگوں کے مقابر کی زیارت و روحانی استفاضہ اور مقدس ہستیوں کے آثار کا تحفظ اگر مولانا کے تئیں بت پرستی ہے تو میں عرض کروں گا کہ ذرا پیچھے پلٹ کر دیکھیے! یہ جاہلیت مشرکانہ کی نہیں خود عہد اسلام کی یادگار ہے. خود قرآن نے مقام ابراہیم کو سجدہ گاہ اور صفا و مروہ کو مسعٰی بنانے کا حکم دے کر تعظیم آثار کے عقیدہ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے. 
پھر جن مزارات و مقابر کو مولانا مودودی صنم خانے سے تعبیر کرتے ہیں, ان کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ آئے کہاں سے؟ ظاہر ہے کہ روضہ رسول پاک ہو یا مزارات اہل بیت و صحابہ, اولیائے عرب کے مقابر شریفہ ہوں یا یا عجم کے, یہ کچھ آج نہیں بنا لیے گئے ہیں. بلکہ عہد صحابہ سے لے کر ائمہ مجتہدین, مشائخ و محدثین, اور فقہائے اسلام کے دور تک جس دن کسی مقرب خداوندی کو سپرد خاک کیا گیا, اسی دن سے اس کے مدفن کی حفاظت شروع ہو گئ, اس کی تربت کے نشانات کو باقی رکھنے کے لیے ارد گرد صالحین کا پہرہ بیٹھ گیا, یہاں تک کہ اس مزار کی رونق و آبادی کا اہتمام قرن اول سے شروع ہو کر بعد میں آنے والے صلحائے امت تک ہر قابل اعتماد دور میں ہوتا رہا. 
... 
پھر "جاہلیت مشرکانہ" کہہ کر ان روایات پر جو حملہ آور ہوتا ہے اس کا حملہ عوام پر نہیں خواص پر ہے. دینی تاریخ کے لاکھوں بکھرے ہوئے اوراق پر آج بھی ائمہ حق اور اسلام کے مقتدر پیشواؤں کی ... طویل فہرست ہمارے سامنے موجود ہے جنہوں نے مزارات انبیا و اولیا کی زیارتیں کیں اور ان سے روحانی استفاضہ کیا.
اگر اسی کا نام شرک ہے تو مجھے کہنے دیا جائے کہ اسلامی تاریخ کے تمام طبقات کو مشرک تسلیم کرنے کی نسبت یہ تسلیم کرنا زیادہ آسان اور قرین عقل ہے کہ مولانا مودودی کا ذہن ہی مشرک ساز اور کافر گر ہے." 
(حوالہ: کتاب "جماعت اسلامی", مصنف: علامہ ارشد القادری, ناشر: مکتبہ جام نور, دہلی, صفحہ 82 تا 85)

تو یہ طویل اقتباس آپ نے پڑھا. یہاں علامہ ارشد القادری نے بھی اپنی دلیل قرآن ہی سے فراہم کی ہے کہ اللہ تعالی نے "مقام ابراہیم کو سجدہ گاہ اور صفا و مروہ کو مسعٰی بنانے کا حکم دے کر تعظیم آثار کے عقیدہ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے." علامہ ارشد القادری کی یہ دلیل بھی توجہ طلب ہے کہ اگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت کا مفہوم رسول کو معبود بنانا نہیں ہے تو خدا کے مقدس اور برگزیدہ بندوں کے مزارات کی زیارت ان برگزیدہ بندوں کو معبود بنا لینے کا ثبوت کیونکر ہو سکتا ہے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

خدا خدا کیجے: مودودی اسلام پسندوں کا تصورِ ادب

11 جنوری 2014 کو میں نے عبدالحمید عدم کی درج ذیل نظم فیس بک پر پوسٹ کی تھی : شیخ صاحب خدا خدا کیجیے یہ حسیں عورتیں یہ تصویریں رحمت ایزدی کی تفسیریں جن کے ہونٹوں میں آب حیواں ہے جن کے چہروں کا نام قرآں ہے جن کے گیسو نگار خانے ہیں جن کے زیر نگیں زمانے ہیں جن کی ضو سے چراغ روشن ہیں زندگی کے ایاغ روشن ہیں جن کی آنکھوں سے مئے ٹپکتی ہے آب کوثر سی شئے ٹپکتی ہے یہ جہنم میں جانے والی ہیں آپ کی منطقیں نرالی ہیں شیخ صاحب خدا خدا کیجے یہ مغنی یہ دلربا ساحر یہ مصور یہ خوشنوا شاعر جن کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں زندگی کے اصول جھڑتے ہیں جو ستاروں کو نور دیتے ہیں طور کو برق طور دیتے ہیں نگہت گل ہے گفتگو جن کی موج دریا ہے ہاؤ ہو جن کی جن سے یزداں کلام کرتا ہے جن کو سورج سلام کرتا ہے یہ جہنم میں جانے والے ہیں آپ کے فلسفے نرالے ہیں شیخ صاحب خدا خدا کیجے یہ عبائیں یہ داڑھیاں یہ صفیں اجلی اجلی نظر فریب کفیں ! یہ نگاہوں کے سرمگیں ڈورے وعظ میں انگبیں کے ہلکورے عنبروعود کے لطیف غلاف ! نام یزداں پہ ہر گناہ معاف مغبچوں کی حسیں مناجاتیں ...