گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
وجود کلی میں شعور کلی ہے جو حقیقت کی ایک اصل ہے۔ جو سرسبز اور باحیات ہے مثلا ایک برگ یا سرسبز پتا۔ لیکن جب وہی پتہ سوکھ کر جالدار رہ جاتا ہے تو اس کی ساخت ابھر آتی ہے۔ یہ وجود کلی کا دوسرا پہلو نظامِ کلی ہے۔ ابتدا میں اور کچھ نہیں تھا سوائے شعور کے ۔ اس نے چاہا کہ کچھ ہو تو نظام کلی وجود میں آیا۔ پس جب شعور اس پر دوڑا تو زمان و مکاں و مادہ فرض کیے گئے۔ شعور کلی جب آفاقی شعور میں منقسم ہو کر مقامی بنا تو وحدت پارہ پارہ ہو کر کثرت میں مبدل ہوئی اور اپنی ابتدائی وحدت کی صورت پر سوائے زمانہ حال کے اور کچھ نہ دیکھ سکا، الا یہ کہ جو کچھ مادہ پر مر تسم ہو گیا۔ چنانچہ نظام کلی میں شعور کی رو کو اپنا ماضی ہی یاد رہتا ہے اور وقت ایک جلتی ہوئی پھلجھڑی کی مانند ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس یہ وقت ہو یا وقت کا شعور، وہی ہے جو نظام کے اندر ایک رو بن کر دوڑتا ہے اور سوائے وقت واحد و حاضر کے اس کو کسی اور وقت کا شعور نہیں ہوتا۔
جب ہم نظام کے اندر غور و فکر کرتے ہیں تو چاہنا مفروض ہوتا ہے۔انسان کا انفرادی شعور جب مظاہر میں خوض کرتا ہے تب ابتدا اور انتہا کے تصورات پیدا ہوتے ہیں، اور پھر اسی کے اقتضا سے چاہنا مفروض ہوتا ہے جو کچھ اور نہیں شعور ہی کا نتجہ ہے، یا شعور خود ہے۔ ِسوچنے کی غایت اگر یہ ہو کہ وحدت کثرت میں کیونکر ظاہر ہوئی تو اسی کے اقتضا سے خواہش یا چاہنے کا علم ہوتا ہے۔ یا خواہش یا چاہنے کو فرض کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے کوئی یہ پوچھے کہ چاہنا تم کہاں سے لے آئے؟ کیا دلیل ہے کہ شعور نے چاہا، یا کوئی شعور تھا، یا اس شعور میں خواہش تھی، تو اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہ اقتضائے نظم و ضبط نفس انسانی پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ انسان میں خواہش تھی اس لیے انسان نے شعور کلی کو بھی خواہش میں مبتلا دیکھا۔ بلکہ یہ انسان میں نظم و ضبط کو پکڑنے کی صلاحیت تھی اور حسبِ اقتضائے نظم و ضبط، شعور کلی کو فرض کیا گیا، اور شعور کلی کی ابتدا ایک شعور خالص سے ہوئی اور شعور خالص میں جب خواہش پیدا ہوئی، یعنی خواہش کو فرض کیا انسان کے شعور انفرادی نے تو دوئی قائم ہوئی لیکن چونکہ ابتدا میں شعور تھا اور ایک ہی شعور خود اپنے ہی مقابل ہوا تو آئینہ بنا واسطے دوسرے کے اور پھر جوں ہی کہ مقابل آئے دونوں، لاتعداد عکس بنے۔
لیکن خالص وحدت شعور تھی اور شعور میں خواہش تھی تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نہ خالص وحدت تھی، اور نہ شعور تھا بس صرف خواہش یا چاہنا تھا۔ اسی کو دوسرے لفظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف اقتضا تھا اور اقتضا کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اور یہ اقتضا جب اپنے ہی اقتضا سے مقتضی ہوا اپنے ہی جیسے ایک اور سے تو اقتضا کے اقتضا سے مفروض ہوا وہ سب کچھ جس کو ہم شعور، زمان، مکان اور مادہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک بیانی ترتیب ہے تاکہ بات سمجھ میں آئے ورنہ جو کچھ تھا وہ ہمیشہ سے تھا اور جو کچھ رہے گا وہ ہمیشہ تک رہے گا، اور درمیان میں جو کچھ ہوگا وہ صرف شعورِ کلی کے آفاقی اور مقامی مظاہر ہوں گے۔ شعور کلی پر آفاق و نفوس سب کے سب ظاہر ہیں اور شعور مقامی پر محض شعور مقامی ظاہر ہے اور شعورِ کلی کا محض ادراکِ غیبی ہے۔
جب ہم نظام کے اندر غور و فکر کرتے ہیں تو چاہنا مفروض ہوتا ہے۔انسان کا انفرادی شعور جب مظاہر میں خوض کرتا ہے تب ابتدا اور انتہا کے تصورات پیدا ہوتے ہیں، اور پھر اسی کے اقتضا سے چاہنا مفروض ہوتا ہے جو کچھ اور نہیں شعور ہی کا نتجہ ہے، یا شعور خود ہے۔ ِسوچنے کی غایت اگر یہ ہو کہ وحدت کثرت میں کیونکر ظاہر ہوئی تو اسی کے اقتضا سے خواہش یا چاہنے کا علم ہوتا ہے۔ یا خواہش یا چاہنے کو فرض کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے کوئی یہ پوچھے کہ چاہنا تم کہاں سے لے آئے؟ کیا دلیل ہے کہ شعور نے چاہا، یا کوئی شعور تھا، یا اس شعور میں خواہش تھی، تو اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہ اقتضائے نظم و ضبط نفس انسانی پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ انسان میں خواہش تھی اس لیے انسان نے شعور کلی کو بھی خواہش میں مبتلا دیکھا۔ بلکہ یہ انسان میں نظم و ضبط کو پکڑنے کی صلاحیت تھی اور حسبِ اقتضائے نظم و ضبط، شعور کلی کو فرض کیا گیا، اور شعور کلی کی ابتدا ایک شعور خالص سے ہوئی اور شعور خالص میں جب خواہش پیدا ہوئی، یعنی خواہش کو فرض کیا انسان کے شعور انفرادی نے تو دوئی قائم ہوئی لیکن چونکہ ابتدا میں شعور تھا اور ایک ہی شعور خود اپنے ہی مقابل ہوا تو آئینہ بنا واسطے دوسرے کے اور پھر جوں ہی کہ مقابل آئے دونوں، لاتعداد عکس بنے۔
لیکن خالص وحدت شعور تھی اور شعور میں خواہش تھی تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نہ خالص وحدت تھی، اور نہ شعور تھا بس صرف خواہش یا چاہنا تھا۔ اسی کو دوسرے لفظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف اقتضا تھا اور اقتضا کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اور یہ اقتضا جب اپنے ہی اقتضا سے مقتضی ہوا اپنے ہی جیسے ایک اور سے تو اقتضا کے اقتضا سے مفروض ہوا وہ سب کچھ جس کو ہم شعور، زمان، مکان اور مادہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک بیانی ترتیب ہے تاکہ بات سمجھ میں آئے ورنہ جو کچھ تھا وہ ہمیشہ سے تھا اور جو کچھ رہے گا وہ ہمیشہ تک رہے گا، اور درمیان میں جو کچھ ہوگا وہ صرف شعورِ کلی کے آفاقی اور مقامی مظاہر ہوں گے۔ شعور کلی پر آفاق و نفوس سب کے سب ظاہر ہیں اور شعور مقامی پر محض شعور مقامی ظاہر ہے اور شعورِ کلی کا محض ادراکِ غیبی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں