نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

جیمنی سے گفتگو 97: ذہن، دماغ، شعور، لاشعور

طارق صدیقی: اب تک ہم نے بہت سے نکات پر گفتگو کی ہے۔ ہم نے بحث کی ہے کہ انسان کی براہ راست رسائی اس کے دماغ تک نہیں ہے، ایسا محض قیاس ہوتا ہے کہ انسانی ذہن کا مقام انسانی دماغ ہے لیکن دماغ میں چل رہے ذہنی عمل کو ہم براہ راست محسوس نہیں کر سکتے۔ یعنی ہم اپنے دماغ کے اس پروسیس کو نہیں چھو سکتے اور نہ دماغ کا ذہنی عمل ہم کو یہ بتا سکتا ہے کہ ہمارے شعور اور لاشعور کا مرکز فی الواقع اسی مکان میں ہے جس میں ہمارا دماغ ہے جو جسم کا ایک حصہ ہے یا سارے جسم میں پھیلا ہوا ہے۔  البتہ ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ ذہن ہمارے دماغ میں ہے۔ اور یہ بھی کہ ذہن محض انفرادی دماغ تک محدود نہیں بلکہ دماغ سے متجاوز بھی ہے یعنی دیگر دماغوں سے بھی وابستہ ہے۔ نہ صرف دیگر دماغوں سے بلکہ دیگر انسانی و غیر انسانی مظاہر سے بھی۔ اس دماغ میں فطرت کا عکس یا نقل پایا جاتا ہے۔، اسی میں لسانی و غیر لسانی ہر نوعیت کے مظاہر پائے جاتے ہیں۔  غرض ذہنوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جو ایک طرف قیاس طور پر انسانی انفرادی دماغ سے وابستہ ہے اور دوسری طرف دیگر انفرادی ذہنوں سے۔  تمام انفرادی اذہان مل کر بھی یہ براہ راست معلوم نہیں کر سک...

جیمنی سے مکالمہ 98: لاشعور میں اسٹرکچر ڈرل

طارق صدیقی: دماغ جب تک زندہ ہے تب تک فعال رہتا ہے۔ ذہن دماغ کا متحرک و فعال نتیجہ ہے۔ اس لیے زندگی کے ساتھ ہی دماغ بھی متحرک و فعال رہتا ہے اور ذہن بھی۔ پس، اگر ابتدا مین ذہن کے صرف دو حصے کیے جائیں، مطالعے کی سہولت کے لیے، شعور اور لاشعور، تو یہ دونوں حصے تازندگی متحرک و فعال رہنے چاہئیں بلکہ رہتے ہیں۔ دماغ ہمہ وقت حیاتیاتی طور پر کار فرما و متصرف رہتا ہے اور اسی نسبت سے ذہن بھی۔  انسان کی دماغی صلاحیتیں محدود ہوتی ہیں اور انفرادی سطح پر ہر فرد میں یکساں صلاحیت اور فعالیت نہیں ہوتی۔ بالخصوص یادداشت اور اس میں بھی بالخصوص فعال حافظہ کے معاملے میں۔ پس، جس قدر فعال حافظہ ایک شخص میں پایا جائے گا اتنا ہی اس کا شعور احاطہ کرے گا گرد و پیش اور دور و نزدیک کے مظاہر کا۔ اور جس قدر وہ ترک کرتا جائے گا بذریعہ انسداد و تجاوز اسی قدر اس کا لاشعور بھی متشکل ہوتا جائے گا۔ یہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ لاشعور میں نقطہ ادخال محض انسداد نہیں بلکہ تجاوز یا اوورفلو بھی ہے۔  تجاوز یا اوورفلو بھی ذہن میں لاشعور کے لیے ایک انٹری پوائنٹ ہے۔  لاشعور میں جب کوئی خیال گر جاتا ہے تو وہ ساکت نہیں ر...

جیمنی سے مکالمہ 99: ذہن و دماغ کا تقابل

طارق صدیقی: اب ہم ذہن بالخصوص شعور اور لاشعور کی ساخت کے بارے میں بات کریں گے۔ لیکن اس کے لیے پہلے انسان کے دماغ کی ساخت پر ابتدائی مفروضات بیان کرنا ضروری ہیں۔  جس طرح ہر انسان دوسرے سے الگ چہرہ رکھتا ہے لیکن باوجود علیحدگی کے ان میں ایک یکسانیت بھی ہوتی ہے۔ اگر سوسیئری ساخت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ محال ہے کہ دو اشیا میں بیک وقت مشابہت بھی ہو اور اختلاف بھی۔ یعنی دونوں ایک دوسرے سے بیک وقت مشابہ بھی ہوں اور مختلف بھی۔ سوسئیری ساخت ان میں صرف تفریقی رشتہ ہی دیکھ سکتی ہے۔ جیسے انسانی آوازوں کے نظام میں دیکھا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے دو انسانی آوازیں ہوں یا دو انسانی چہرے، ان میں بیک وقت اختلاف اور مشابہت دونوں کا پایا جانا ثابت ہے۔ اور اس کی بنا ہے نسبت متکثرہ اور نسبت متوحدہ۔ پہلی نسبت ایک ہی نوع کے افراد کو باہم جدا کرتی ہے اور دوسری نسبت اسی نوع کے افراد میں توحد و یکرنگی کو دکھاتی ہے۔ اسی طرح دو انسانی دماغ ہوتے ہیں کہ دونوں مثل انسانی چہرے کے مختلف بھی ہوتے ہیں اور مشابہ بھی۔ یہ تشابہ اور توحد ساری دنیا کے دماغوں میں ایک جیسا ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ انسانی دماغوں کا تشابہ...

جیمنی سے مکالمہ 100: براہ راست کی تعبیرات

طارق صدیقی: دماغ کے مشتملات اور ذہن کے مشتملات میں بھی بڑا فرق ہے۔ گو دماغ اور ذہن کی حقیقت ایک ہی ہے یعنی جہاں دماغ ہے وہیں ذہن ہے اور جہاں ذہن ہے وہیں دماغ ہے، ایسا قیاسی طور پر کہا جا سکتا ہے، کیونکہ صورت کچھ بھی ہو سکتی ہے، لیکن جو صورتحال ہے اس میں ہم ذہن تک براہ راست تو رسائی نہیں رکھتے۔  یہاں براہ راست کی تعبیر ضروری ہے۔  تعبیر کی ابتدا ہم یوں کر سکتے ہیں۔  0. براہ راست یا بلاواسطہ یا ڈائرکٹ سے ہم تصور احدیت پر مبنی وہ حالت مراد نہیں لے سکتے کہ جس کے تحت شعور اور شئے میں ہر قسم کا علمی و عملی فرق مٹ جائے، یعنی پھر ان میں ایسی مشابہت تام واقع ہو جائے کہ اِس کا اُس پر اور اُس کا اِس پر اطلاق ہونے لگے۔ ایسی وحدت بہ اعتبار ذہنی ناممکن ہے کیونکہ یہ وحدت نہیں احدیت ہے۔   [ایسی احدیت میں جب اضطراب یا اطِّراب کا وقوع تسلیم کر لیا جائے تو یہ گویا دوئی کے نقوش کا قیام ہوگا اور اس کے سبب درج ذیل تعبیرات پیدا ہوں گی:] 1. براہ راست کا ایک تصور ہے شعور کا شئے ہو جانا اور شے کا شعور ہو جانا یا شعور اور شئے کا ایکم ایک ہو جانا تاکہ شئے اور شعور میں سوائے زمانی و مکانی کے...

خدا کے عدم اور وجود کی حقیقت

خدا کے عدم اور وجود پر آج ہی یوٹیوب پر ایک بحث دیکھی۔ پلڑا مجھے خدا کے وجود کے حق میں بھاری ہوتا ہوا لگا— جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ خدا کے وجود کے حق میں دلائل زیادہ وزنی ہیں جن سے کام لیا گیا یا اس کے عدم کے حق میں دلائل زیادہ کمزور ہیں جنہیں پیش کیا گیا۔ بلکہ اس لیے کہ بحث کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ مسئلہ واضح ہونے کے بجائے مزید الجھتا چلا گیا۔  یہ مناظرہ یا مکالمہ دو افراد کے درمیان تھا: ایک شاعر صفت بزرگ، جو خدا کے عدم کے قائل تھے، اور ایک دینی عالم، جنہوں نے کچھ فلسفہ بھی پڑھ رکھا تھا اور جن کی بعض دلیلیں براہِ راست فلسفے سے اخذ کردہ تھیں۔ میں یہاں اس مناظرے میں پیش کیے گئے دلائل کی صحت یا عدمِ صحت پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا، بلکہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے عدم اور وجود پر ہونے والی ایسی بیشتر بحثیں اس لیے بے نتیجہ رہتی ہیں کہ ابتدا ہی میں یہ طے نہیں کیا جاتا کہ آخر کس مفہوم کے خدا پر بات ہو رہی ہے۔ خدا کے عدم اور وجود پر جب بھی بحث کی جائے، سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ خدا کو ہست سمجھا جا رہا ہے یا نیست۔ بعض احمقانِ بے بصیرت فوراً یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو لازم...

منظرِ قدرتیہ اور جذباتِ انسانیہ کی وحدت

مرزا سلطان احمد کے نظام علوم و فنون کی تفہیم کے لیے ان کی دو بنیادی اصطلاحات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ پہلا ہے منظرِ قدرتیہ اور دوسرا ہے جذباتِ انسانیہ۔ ان دونوں اصطلاحوں کو سمجھنے کے بعد ہی علوم و فنون کی کثرت میں وحدت کا نظارا کیا جا سکتا ہے۔ منظرِقدرتیہ سے مراد وہ تمام تر مناظر – یعنی ہر قسم کی مادی اور غیرمادی موجودات اور ان سے متعلق حالات، کیفیات، تغیرات و تبدلات، تصرفات، واقعات، معلومات وغیرہ ہیں جو انسان کے انفرادی و اجتماعی علم و ادراک میں موجود تھے، ہیں اور آئندہ ہوں گےخواہ انسانی علم میں کسی بھی جہت سے ارتقا ئی یا انحطاطی عمل پایا جاتاہو۔ ظاہر ہے اس میں موجودات کی مادی و غیر مادی ہر نوع کے مجموعی و انفرادی اشکال، ہیئتیں، حالتیں، کیفیتیں اور/ یا تصرفات شامل ہیں۔ مثلاً اس میں جمادات کی ہر نوع سے متعلق ہر قسم کے مناظر کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، ا س میں حیوانات کی ایک نوع انسان کے متعلق ہر قسم کے مناظر شامل ہیں یا کیے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس میں ماورائے انسان مناظر و مظاہر کے سلسلے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس میں شامل ہیں یا نہیں ہیں۔ بلکہ منظر قدرتیہ کے تحت...