گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
طارق صدیقی: اب تک ہم نے بہت سے نکات پر گفتگو کی ہے۔ ہم نے بحث کی ہے کہ انسان کی براہ راست رسائی اس کے دماغ تک نہیں ہے، ایسا محض قیاس ہوتا ہے کہ انسانی ذہن کا مقام انسانی دماغ ہے لیکن دماغ میں چل رہے ذہنی عمل کو ہم براہ راست محسوس نہیں کر سکتے۔ یعنی ہم اپنے دماغ کے اس پروسیس کو نہیں چھو سکتے اور نہ دماغ کا ذہنی عمل ہم کو یہ بتا سکتا ہے کہ ہمارے شعور اور لاشعور کا مرکز فی الواقع اسی مکان میں ہے جس میں ہمارا دماغ ہے جو جسم کا ایک حصہ ہے یا سارے جسم میں پھیلا ہوا ہے۔ البتہ ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ ذہن ہمارے دماغ میں ہے۔ اور یہ بھی کہ ذہن محض انفرادی دماغ تک محدود نہیں بلکہ دماغ سے متجاوز بھی ہے یعنی دیگر دماغوں سے بھی وابستہ ہے۔ نہ صرف دیگر دماغوں سے بلکہ دیگر انسانی و غیر انسانی مظاہر سے بھی۔ اس دماغ میں فطرت کا عکس یا نقل پایا جاتا ہے۔، اسی میں لسانی و غیر لسانی ہر نوعیت کے مظاہر پائے جاتے ہیں۔ غرض ذہنوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جو ایک طرف قیاس طور پر انسانی انفرادی دماغ سے وابستہ ہے اور دوسری طرف دیگر انفرادی ذہنوں سے۔ تمام انفرادی اذہان مل کر بھی یہ براہ راست معلوم نہیں کر سک...