نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

تفریقی رشتہ اور موجودات کا نظام

یہ نکتہ مرزا سلطان احمد کے ہاں بار بار پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا میں فرق ، تضاد اور تبائن کا یہ سلسلہ نہ ہوتا تونہ چیزوں کی باہمی شناخت ممکن ہوتی اور نہ کاروبار ہستی ایک نظام کی صورت میں چل سکتا: فرض کرو کہ دنیا میں اس وقت سب افراد ایک ہی شکل ، ایک ہی قوت اور ارادہ کے ہیں ، ان کے اغراض اجتہادیہ بھی ایک ہی قسم سے ہیں، وہ سب کے سب ایک ہی منزل کے سالک ہیں، کیا ان حالات میں دنیا ترقی کر سکے گی اور کام چل جائے گا اور لوگ آرام و آسائش سے رہ سکیں گے؟ اگر صحیح نتیجہ پر پہونچ کر جواب اس کا دیا جاوے تویہی کہنا پڑے گا کہ موجودہ نظم و نسق باقی نہیں رہ سکتا اور ایک ہی دم میں طلسم انسانی تمدن اور آئینہ معلومات صدمہ دل شکن سے چکناچور ہو جائے گا۔ مدارج اور مراتب کے اختلاف سے ہی دنیا کا کام چل رہا ہے۔ اگر ایک حکومت میں سب بادشاہ ہی ہوں یا سب رعایا تو کس طرح سیاسی ضابطہ چلے گا۔ اگر ایک گھر میں سب لوگ فرض کریں کہ ایک ہی شکل اور شباہت کے ہیں تو کون شخص ان میں تمیز کر سکتا ہے اور کس طرح اس گھر کا انتظام چلنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ 1 یہی بات ان کے مضمون بعنوان "احساس " مطبوعہ شمس بنگالہ مارچ 190...

مرزا سلطان احمد کا علمِ انساب اور سوسیئر کی سیمیالوجی

[کتاب "مرزا سلطان احمد اور ساخت" سے ایک اقتباس] مثبت اور منفی یا اتحادی و تفریقی نسبتوں کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ مرزا صاحب کے نزدیک ان نسبتوں پر مبنی علم کو علم انساب کہتے ہیں جس پر انسان کی علمی ترقی موقوف ہے۔یہ انسانی افراد کے حسب و نسب یا ان کی شجرہ سازی پر مبنی علم الانساب نہیں ہے جو عربوں کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ وہ علم الانساب بھی نہیں ہے جسے جینیالوجی کے ترجمے کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ مرزا سلطان احمد کے نزدیک علمِ انساب وہ خاص علم ہے جو تمام چیزوں میں مخفی اور مستتر نسبتوں سے بحث کرتا ہے۔ مرزا صاحب کے علم انساب کی اہمیت کو سوسیئر کے سیمیالوجی کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہےکیونکہ دونوں تصورات میں بعض مشابہتیں پائی جا سکتی ہیں لیکن اس موضوع پر مکمل بحث اس مقالے کی دوسری جلد میں آئے گی۔ سردست، اس علم کے تصور کوبڑی حد تک انہیں کے الفاظ میں تلخیص و اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں: "ہر ایک ہستی اور اس کی ذات ایک دوسرے سے نسبت مثبت اور نسبتِ منفی کی وجہ سے ترکیب پاتی ہے۔ ایک ذات یا وجود دوسرے ذات یا وجود سے کوئی نہ کوئی نسبت رکھتا ہے۔یعنی دونوں میں کوئی رش...