گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
علامہ جاوید احمد غامدی مقبولیت کے اعتبار سے سابقہ تمام منکرین حدیث سے بڑھے ہوئے ہیں. یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ایک نہایت آسان اسلام پیش کیا ہے اور سابقہ و ہمعصر منکرین حدیث کی طرح بہت سے احکام و قوانین کو دین سے خارج کر دیا ہے جن پر جدید ذہن اعتراض کرتا ہے. علامہ موصوف نے انکار حدیث کی انوکھی طرح ایجاد کی ہے. عام منکرین حدیث کی طرح وہ بھی خبر واحد پر مبنی احادیث کو دین میں حجت تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ اسے بالکلیہ مسترد بھی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ خبر واحد کی بنا پر اسوہ رسول معلوم کیا جا سکتا ہے. سنت کی ایک ایسی تعریف پیش کرتے ہیں جو روایتی علما نے کبھی بیان ہی نہیں کی: "سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد، اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ، اپنے ماننے والوں میں ، دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے" (میزان) اگر بات صرف تعریف بیان کرنے تک رہتی تو غنیمت تھا لیکن انہوں نے سنت کو گھٹا کر صرف ستائس کے مجموعے تک محدود کر دیا جو درج ذیل ہے: 1. نماز 2. زکوٰة اور صدقہ فطر 3. روزہ و اعتکاف 4. حج و عمرہ 5. قربانی او...