نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

2025 سے مراسلات دکھائے جا رہے ہیں

مذہب و تصوف اور فلسفہ و سائنس کا منتہائے مقصود

یہ کائنات نہ کوئی ڈیزائن ہے اور نہ اس کا کوئی ڈیزائنر۔ اور نہ یہ کائنات عدم ڈیزائن ہے جس کا ڈیزائنر معدوم ہے۔ یہ دونوں بیانات ناقص ہیں۔ ہم بحیثیت انسان بذریعہ حواس خارج میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ دراصل ہماری وجدان کی مشین اور ذہن ہی سے پروسیس ہو کر نکلتا ہے۔ اور وجدان کے اس جھروکے سے نظر آنے والی یہ کائنات ایک ایسی احدیّت کے طور پر ابھرتی ہے جس میں یہ ڈیزائن صرف ایک منظر ہے جس کی شناخت عدم ڈیزائن کے دوسرے منظر سے ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کائنات میں منصوبہ بھی ایک منظر ہے جس کی شناخت عدمِ منصوبہ کے دوسرے منظر سے ہوتی ہے۔ کائنات میں چیزیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہی شناخت ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کائنات میں کوئی منصوبہ ہے اس لیے کوئی منصوبہ ساز ہونا چاہیے، یا کائنات بجائے خود کوئی ڈیزائن ہے اس لیے اس کا ڈیزائنر لازماً ہونا چاہیے ناقص خیال ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اس کائنات میں عدم ڈیزائن ہے اور اس لیے اس کا کوئی ڈیزائنر نہیں ہے یہ بھی ایک ناقص خیال ہی ہے۔ یہ دونوں بیانات آدھے ادھورے مناظر کی تعمیم کی بنا پر گمراہ کن قیاس کی مثالیں ہیں۔ یاد رہے کہ منصوبہ صرف ایک منظر ہے، یا یوں کہہ لیں کہ ڈیزائن...

علامہ غامدی کا تصورِ سنت

علامہ جاوید احمد غامدی مقبولیت کے اعتبار سے سابقہ تمام منکرین حدیث سے بڑھے ہوئے ہیں. یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ایک نہایت آسان اسلام پیش کیا ہے اور سابقہ و ہمعصر منکرین حدیث کی طرح بہت سے احکام و قوانین کو دین سے خارج کر دیا ہے جن پر جدید ذہن اعتراض کرتا ہے. علامہ موصوف نے انکار حدیث کی انوکھی طرح ایجاد کی ہے. عام منکرین حدیث کی طرح وہ بھی خبر واحد پر مبنی احادیث کو دین میں حجت تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ اسے بالکلیہ مسترد بھی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ خبر واحد کی بنا پر اسوہ رسول معلوم کیا جا سکتا ہے. سنت کی ایک ایسی تعریف پیش کرتے ہیں جو روایتی علما نے کبھی بیان ہی نہیں کی:   "سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد، اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ، اپنے ماننے والوں میں ، دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے" (میزان)  اگر بات صرف تعریف بیان کرنے تک رہتی تو غنیمت تھا لیکن انہوں نے سنت کو گھٹا کر صرف ستائس کے مجموعے تک محدود کر دیا جو درج ذیل ہے:  1. نماز 2. زکوٰة اور صدقہ فطر 3. روزہ و اعتکاف 4. حج و عمرہ 5. قربانی او...

اقبال اور سرقہ

حسن الدین احمد نے اپنے سندی مقالے ’’انگریزی شاعری کے منظوم اردو ترجموں کا تحقیقی تنقیدی مطالعہ‘‘، اشاعت مئی 1984، میں اقبال کی 16 نظموں کی فہرست دی ہے اور بتایا ہے کہ ان نظموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ حسن الدین احمد کے مطابق ان میں سے 5 نظموں کے متعلق اقبال نے اصل انگریزی شاعر کی نشاندہی کی لیکن انگریزی نظم کا عنوان ظاہر نہیں کیا۔ 4 نظموں کے متعلق اقبال نے صرف ماخوذ لکھنے پر اکتفا کیا اور 7 نظموں کے متعلق اقبال نے ماخوذ نہیں لکھا۔ حسن الدین احمد کہتے ہیں کہ اقبال نے ماخوذ اور ترجمہ کا فرق ملحوظ نہیں رکھا اور منظوم ترجموں کو بھی ماخوذ کہا ہے۔ حسن الدین احمد کے اس سندی مقالہ کی بنا پر (اور ممکن ہے کچھ دوسرے ماخذ بھی ہوں جن کا علم مجھے نہیں ہے) بعض لکھنے والے اقبال کو سارق قرار دیتے ہیں۔ اقبال کو سرقہ کا مرتکب کہنا کتنا درست ہے جبکہ خود حسن الدین احمد کے بقول اردو شاعروں میں اقبال غالبا وہ پہلے شخص ہیں ’’جنہوں نے ماخوذ کی اصطلاح استعمال کی اور اس اصطلاح کو ماخوذ نظموں کے لیے بھی استعمال کیا اور آزاد منظوم ترجموں کے لیے بھی۔‘‘ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ اقبال نے مخزن کے...