نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2017 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

جوانی میں طفلی کے قصے

خلیفہ عبدالحکیم اپنی کتاب حکمتِ رومی میں لکھتے ہیں: ’’بعض حکمت کی کتابوں کلیلہ وہ دمنہ، انوار سہیلی، اور ایسپ کے قصوں میں انسانی اخلاق اور میلانات کو جانوروں کے قصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، خود مثنوی میں بھی مولانا نے جبرواختیار کے مسئلے کو شیر اور خرگوش کی بحث میں بڑی بلاغت سے بیان کیا ہے۔ بچے جب یہ حکایتیں پڑھتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ واقعی شیر نے آدمی کی طرح بات کی اور خرگوش یا لومڑی نے آدمی کی طرح جواب دیا۔ اکثر اہل ظاہر علما اس طفولیت کی سطح سے عمر بھر اوپر نہیں اٹھ سکتے:۔ چہل سال عمر عزیزت گزشت مزاج تو از حال طفلی نہ گشت

ماضی کا اصل سبق؟

ہمارے ہاں ایک خیال یہ ہے کہ ماضی سے ہم کو جو سیکھنا چاہیے وہ ہم نہ سیکھ سکے۔ ہم نے ماضی کے اصل سبق کو بھلا دیا۔ تو اب اسی اصل سبق کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی کا اصل سبق عملی طور پر تو ہم کو یاد نہیں، اور اسی لیے ہم پر زوال آیا، اس لیے ماضی کے اصل سبق کا نظریہ پڑھنے کے لیے ہم کو تاریخ سے رجوع کرنا ہوگا۔ اور تاریخ تعبیر کی متقاضی ہے۔ اور تعبیروں میں اختلاف ہونا ضروری ہے۔ تو ماضی سے متعلق جو نظریات ہم سیکھیں گے وہ مختلف فیہ ہوگا۔ اور اس طرح ماضی کا اصل سبق اختلافات کی نذر ہو کر رہ جائے گا۔ ممکن ہے بہت سی تعبیروں میں سے کوئی ایک صحیح ہو لیکن کون سی تعبیر صحیح ہے، اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ماضی سے ہم کو جو کچھ سیکھنا چاہیے تھا، وہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال و افکار کی شکل میں حال تک چلا آیا ہے۔ ماضی سے تو ہم یقیناً کچھ نہ کچھ سیکھتے رہے اور اسی کی وجہ سے اپنی حالیہ تباہی تک پہنچے۔ اس لیے ہم کو دراصل اپنے حال سے اور حال میں سیکھنا ہے، اسی میں کچھ جوڑنا یا گھٹانا ہے، اور وہ ماضی جس کا صرف ایک موہوم خیال ہمارے اندر باقی ہے، اور جس کی گردان  ہم سیکڑوں سالوں سے کرتے آ رہے...

زوال یافتہ قوموں کے چار مسائل

زوال یافتہ قوموں کا اولین مسئلہ یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر تجسس کا جذبہ مر جاتا ہے جس کے سبب علوم و فنون کے میدان میں ان کی عطا صفر ہو جاتی ہے اور زندگی کے ہر میدان میں ترقی یافتہ قوموں کی تقلید کرتے رہنا ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ ان کا دوسرا مسئلہ اپنی اسی مجبوری کے عالم میں انتہائی غیر عقلی رویہ اپنانا ہے جو یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ بدستور ترقی یافتہ اقوام کے علوم و فنون اور طور طریقوں کی پابندی کرتی رہتی ہیں اور دوسری طرف وہ ان ترقی یافتہ اقوام کے لیے بغض و حسد کے جذبات کی پرورش بھی کرتی رہتی ہیں۔ چنانچہ ترقی یافتہ اقوام کو دن رات کوسنا اور ان کی برائیاں کرنا ان کا قومی شعار بن جاتا ہے۔