گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms. اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں: یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...
جوں جوں عامۃ الناس بالخصوص
عامۃ المسلمین اور اس کے تعلیم یافتہ خواص کے درمیان یہ نقطہ نظر مضبوط
ہوگا کہ بیوی کو کتنی ہی ہلکی مار مارنا بہرحال اخلاقاً اور قانوناً ہر
لحاظ سے ایک قبیح فعل ہے, ویسے ویسے تجدد پسند اسلامسٹ طبقہ کی کوشش ہوگی
کہ قرآن کریم کی "وضربوھنَّ" والی آیت کی کوئی دوسری تاویل کر دی جائے اور
دنیا سے یہ بتایا جائے کہ "یہ صرف لوگوں کی ایک غلط فہمی ہے کہ قرآن کریم
میں بیوی کو سرکشی پر مارنے کی اجازت دی گئی ہے".
تجدد پسندوں کے نزدیک اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی "غلط فہمیوں" کی فہرست بہت طویل ہے. ان میں کچھ کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں:
تجدد پسندوں کے نزدیک اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی "غلط فہمیوں" کی فہرست بہت طویل ہے. ان میں کچھ کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں:
1. شادی شدہ زانی کے لیے رجم کا قانون
2. مرتد کے لیے قتل کا قانون
3. چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون
4. قومِ لوط کا عمل (بشمول ایل جی بی ٹی حقوق) کرنے پر سزائے موت
5. محاربین کو غلام اور باندی بنانے کی شرعی رخصت
6. باندی سے بلانکاح تمتع کر سکنے کی ابدی شرعی رخصت (جس میں تعداد کی کوئی قید نہیں)
7. مردوں اور عورتوں کے لیے کام کی جگہوں, تعلیم گاہوں اور دیگر معاشرتی امور میں ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ممانعت
8. عورتوں کا دائرہ کار مردوں سے مختلف ہونا
عورتوں پر مردوں کو ایک درجہ حاصل ہونا
بیوی کی سرکشی پر مرد کو مارنے کا قانونی اختیار ہونا.
9. عورت کے لیے سر پر دوپٹہ رکھنا
10. عورت کی حکمرانی کی ممانعت یعنی اسلامی خلافت میں عورت خلیفۃ المسلمین نہیں بن سکتی.
11. عورت نماز میں مردوں کی امامت نہیں کر سکتی.
12. ذی روح کی مصوری (بشمول فوٹو گرافی و ویڈیوگرافی) کی حرمت
13. سنگ تراشی و مجسمہ سازی کی حرمت
14. اداکاری یعنی تھیئٹر میں کام کرنے کی حرمت
15. داڑھی رکھنے کی سنت جس کی تاکید احادیث میں آئی ہے...
یہ صرف کچھ مثالیں ہیں, تجدد پسندوں کی یہ فہرست بہت لمبی ہے...
واضح رہے کہ یہ احکام, ہدایات اور قوانین چودہ سو سالوں سے اسلام کا ناگزیر حصہ رہے ہیں. لیکن ماڈرن اسلام کے حامی چونکہ مغرب کو مسلمان کرنا چاہتے اور مغرب اسی مجموعہ قانون پر ایمان لا سکتا ہے جس میں اس قسم کے قوانین نہ ہوں, اس لیے وہ اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی ان غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں! (نعوذباللہ من ذالک).
اسلام جو ہے وہی رہے گا اور عصری تقاضوں کے مطابق نہیں بدلے گا. اگر عصری تقاضے اتنے ہی پرکشش اور ناگزیر ہیں تو مسلمانوں کو ان کے مطابق اپنے آپ کو بدلنا چاہیے. قرآن و سنت کے ثابت شدہ احکام بدلنے سے ذرہ برابر فائدہ نہ ہوگا.
(فیس بک اسٹیٹس اپڈیٹ، ۱۶ مئی ۲۰۱۶)
2. مرتد کے لیے قتل کا قانون
3. چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون
4. قومِ لوط کا عمل (بشمول ایل جی بی ٹی حقوق) کرنے پر سزائے موت
5. محاربین کو غلام اور باندی بنانے کی شرعی رخصت
6. باندی سے بلانکاح تمتع کر سکنے کی ابدی شرعی رخصت (جس میں تعداد کی کوئی قید نہیں)
7. مردوں اور عورتوں کے لیے کام کی جگہوں, تعلیم گاہوں اور دیگر معاشرتی امور میں ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ممانعت
8. عورتوں کا دائرہ کار مردوں سے مختلف ہونا
عورتوں پر مردوں کو ایک درجہ حاصل ہونا
بیوی کی سرکشی پر مرد کو مارنے کا قانونی اختیار ہونا.
9. عورت کے لیے سر پر دوپٹہ رکھنا
10. عورت کی حکمرانی کی ممانعت یعنی اسلامی خلافت میں عورت خلیفۃ المسلمین نہیں بن سکتی.
11. عورت نماز میں مردوں کی امامت نہیں کر سکتی.
12. ذی روح کی مصوری (بشمول فوٹو گرافی و ویڈیوگرافی) کی حرمت
13. سنگ تراشی و مجسمہ سازی کی حرمت
14. اداکاری یعنی تھیئٹر میں کام کرنے کی حرمت
15. داڑھی رکھنے کی سنت جس کی تاکید احادیث میں آئی ہے...
یہ صرف کچھ مثالیں ہیں, تجدد پسندوں کی یہ فہرست بہت لمبی ہے...
واضح رہے کہ یہ احکام, ہدایات اور قوانین چودہ سو سالوں سے اسلام کا ناگزیر حصہ رہے ہیں. لیکن ماڈرن اسلام کے حامی چونکہ مغرب کو مسلمان کرنا چاہتے اور مغرب اسی مجموعہ قانون پر ایمان لا سکتا ہے جس میں اس قسم کے قوانین نہ ہوں, اس لیے وہ اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی ان غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں! (نعوذباللہ من ذالک).
اسلام جو ہے وہی رہے گا اور عصری تقاضوں کے مطابق نہیں بدلے گا. اگر عصری تقاضے اتنے ہی پرکشش اور ناگزیر ہیں تو مسلمانوں کو ان کے مطابق اپنے آپ کو بدلنا چاہیے. قرآن و سنت کے ثابت شدہ احکام بدلنے سے ذرہ برابر فائدہ نہ ہوگا.
(فیس بک اسٹیٹس اپڈیٹ، ۱۶ مئی ۲۰۱۶)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
تبصرہ کریں