نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

نیکی کا کریڈٹ اور بدی کا ٹھیکرا

دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردانہ جنگ و جہاد کی صورتحال پائی جاتی ہے, اس کے لیے بڑی طاقتوں کو الزام دینا ایک عام رویہ ہو گیا ہے جس میں بعض انارکسٹ خواتین و حضرات بھی مبتلا ہیں جو اپنے کو حقوق انسانی کے مدافعت کار بتاتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ چونکہ بڑی طاقتیں نہ صرف یہ کہ ان خطوں میں قدرتی وسائل کے حصول کے لیے مداخلت کرتی ہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے باہمی تنازعات کو بھی ہوا دیتی ہیں, انہیں گروہوں میں منقسم کر کے لڑاتی ہیں, یہاں تک کہ انتہائی مہلک ہتھیار سپلائی کرتی ہیں تا کہ وہ ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹ سکیں, اور پھر ڈیموکریسی کے قیام کے بہانے ان پر چڑھ دوڑتی ہیں, اس لیے دنیا کے ان خطوں میں عدم استحکام کا اصل سبب یہ بڑی طاقتیں ہیں. اس قسم کی باتیں وہی کہہ سکتا ہے جو  پرلے درجے کا یکرخا اور نظریاتی بھینگے پن کا شکار ہو اور زمینی حقائق کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ہو. واقعہ یہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثر خطوں میں مذہبی نوعیت کی قتل و غارتگری ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے جس سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں. اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے مذہبی دہشت گردی کی تخلیق کے لیے اصلاً بڑی طاقتوں کو مورد الزام ٹھہرانے اور غارتگری کے اس پورے سلسلے میں باہم برسرپیکار گروپوں کی اصل ذمہ داری اور ان کی پیدائش کے بنیادی سماجی و معاشرتی اور سیاسی اسباب کو بیان کرنے سے پہلو تہی کرنا ایک غیرمعقول رویہ ہے. یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک شخص شراب پی کر ہنگامہ کرے اور ہم اس شخص کی اصلاح کے بجائے شراب بیچنے والوں کی مذمت شروع کر دیں. اور اس سے بھی زیادہ غیرمعقول صورتحال وہ ہوگی جس میں مذمت کرنے والوں میں وہ ہنگامہ خیز شرابی بھی شامل ہو جائے اور اپنی جگہ بکتا رہے کہ کیوں یہ لوگ شراب بیچتے ہیں جو میں خرید کر پینے پر مجبور ہوں! اگر شراب بنانا اور بیچنا ایک برائی ہے تو اس کو خرید کر پینا اس سے بدرجہا زیادہ بڑی برائی ہے اس صورت میں جب آپ شراب کے نقصانات کو جانتے بھی ہوں اور اس کے باوجود اس کے استعمال سے خود کو یا دوسروں کو نہ روک پا رہے ہوں اور بدستور شراب بیچنے والوں کی مذمت کیے جا رہے ہوں. اس سے آخر فائدہ کیا ہوگا؟ جنہیں مذہبی بنیادوں پر لڑنا ہے, انہیں اگر جدید ہتھیار نہ بھی فراہم کیے جائیں تو وہ پرانے ہتھیاروں سے لڑیں گے. پھر جس مذہبی فرقہ میں تلواروں کی کثرت ہو گی یا اس میں زیادہ طاقتور مذہبی جنونی پائے جائیں گے وہ فتحیاب ہوں گے, شکست خوردہ افراد کو قتل کریں گے, ان کی عورتوں کو باندی بنائیں گے, یہ زمانہ قدیم میں بھی ہوتا تھا, قرون وسطی میں بھی ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے. اس برہنہ حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے بے تکی باتیں کرنے سے مذہبی دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا. ہمارے معاشرے میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی اولاد کے بگڑنے کا الزام دوسروں کی اولادوں پر رکھتے ہیں کہ اسی نے میرے بیٹے کو خراب کیا. اسی کی صحبت میں رہ کر میرے بیٹے نے فلاں برائی سیکھ لی. میں نے تو دیکھا ہے کہ کچھ گارجین اس بات پر آپس میں لڑ بھی جاتے ہیں. ہر ایک دوسرے کے بیٹے کو برا بھلا کہہ رہا ہوتا ہے لیکن کوئی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ اس نے اپنی اولاد کی کیسی تربیت کی, اس کو کیسا ماحول دیا, زندگی گزارنے کے کیا طریقے سکھائے. کیا اس کا لڑکا سنگ و خشت جیسا تھا کہ پڑوسی کے لڑکے نے تراش خراش کر اسے بدی کی مورت بنا ڈالا؟ ژاں پال سارتر کے مطابق جو لوگ اپنی کمزوریوں  سے پیدا ہونے والی خرابی کا الزام دوسروں پر رکھتے ہیں وہ خود کو انجانے ہی ایک بے جان شئے بنا لیتے ہیں جیسے وہ راستے کا پتھر ہوں جسے راہگیر اپنی ٹھوکروں سے ادھر سے ادھر منتقل کرتے رہتے ہیں. انسان جیسے ایک زندہ اور بااختیار وجود کے متعلق یہ خیال کرنا کہ دوسرے اس کو بہکا دینے کی طاقت رکھتے ہیں, بدعقیدگی کی علامت ہے. صحیح عقیدہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ  اپنی اندرونی جبلت کے مقتضی سے خود ہی بے راہ ہو کر بہک جاتے ہیں اور اپنی برائی کی پردہ پوشی کے لیے دوسروں پر الزام رکھتے ہیں. ایسے لوگ انسان ہونے کے باوجود خود کو خس و خاشاک کی طرح بنا لیتے ہیں اور بدی کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں. یہ چونکہ اپنے نیک و بد اعمال کی ذمہ داری خود قبول کرنے سے پہلو تہی کرنا ہے اس لیے یہ  اپنے ایک خود مختار وجود ہونے کی نفی کرنا بھی ہے اور اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتاکہ ایسا بدعقیدہ شخص "عمل اور ردعمل" کے لامتناہی سلسلے میں پڑ جائے جیسے مادی اشیا پڑی ہوتی ہیں, مثلاً سورج کی گرمی سے ہوا طوعاً و کرہاً گرم ہو کر چلتی ہے, اور اپنے ساتھ کتنی ہی جاندار و بے جان چیزوں کو اڑائے پھرتی ہے, اس میں شک نہیں کہ انسانوں کے قدم بھی آندھیوں میں اکھڑ جا سکتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری اس کو خود لینی ہوگی کہ وہ ثابت قدم نہ رہ سکا بجائے اس کے کہ وہ موسم کی ناسازگاری کو اس کا سبب قرار دے. جوں ہی کہ اس نے اپنے وجود سے باہر دوسروں کو اپنی بربادی کا الزام دینا شروع کیا, وہ عمل اور ردعمل کے لامتناہی سلسلے میں پڑ گیا. ذمہ داری اگر میری نہیں تو پھر ذمہ داری کسی اور کی بھی نہیں کیونکہ سب کے سب یہاں  اسباب و علل کے بندھے ٹکے قانون میں جکڑے ہوئے ہیں. پھر جوکچھ ہو رہا ہے اس کا شکوہ عقلی کے بجائے ایک جذباتی گفتگو ہے. نوع انسانی کے سامنے دو ہی راستے ہیں ایک وہ جس میں خود کو ایک ذمہ دار و خود مختار وجود کے طور پر تسلیم کرنا اور اپنی اجتماعی و انفرادی نیکی و بدی کا سارا کریڈٹ خود لینا ہے, اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ ساری دنیا اور اس میں رہنے والے تمام انسانوں کو اپنی ہی طرح اسباب و علل یعنی عمل اور ردعمل کے قانون میں گرفتار تسلیم کرنا ہے. ان دونوں کے بین بین ایک تیسرا راستہ بھی ہے لیکن وہ بدتوفیقانہ ہے, یعنی اپنی انفرادی و اجتماعی نیکی کا کریڈٹ تو خود لینا اور بدی کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پھوڑنا.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تحقیق کے مسائل

تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردہ ٔ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصہ ٔ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ ایک نتیجے تک پہنچنے سے زیادہ ایک طریقے ( تک پہنچنے) کا نام ہے۔نتیجہ خواہ کچھ ہو، موجودہ دور میں اس کے طریقہ ٔ کار یا منہاجیات کو صاف و شفاف بنانا فلسفیانہ طور پر زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ زیادہ تر نتائج صحت کے ساتھ محسوسات کے دائرے میں حتی الامکان منتقل ہو سکیں۔ دائرہ تحقیق میں ایک مقدمہ کو نتیجہ میں بدلنے کے طریقے کی جس قدر اصلاح ہوتی جائے گی اسی قدر تحقیق معتبر مانی جائے گی۔ البتہ بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی تحقیق کا طریقہ صحیح نہیں ہو اور نتیجہ بالکل صحیح ہو۔ لیکن اس ناقابل حل مسئلے کے باوجود بہرحال طریقے میں حذف و اضافہ اور اصلاح و تصحیح کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔ حق کے معنی سچ کے ہیں۔ مادہ حق سے...

قرآن اور بگ بینگ

ایک بہت طویل عرصے سے اہل اسلام کا مغرب زدہ طبقہ قرآن کی تصدیق جدید ترین سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے. اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن خدا کی کتاب نہ ہوتی تو اس میں بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیونکر ممکن تھا؟ اس سلسلے میں ایک بہت بڑی مثال بگ بینگ کی دی جاتی ہے اور قرآن کی اس آیت کو دلیل بنایا جاتا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی

ادارت کا فن اور اس کے مراحل

کوئی بھی انسانی کارنامہ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوصف تسامحات، غلطیوں اور فروگزاشتوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اس میں کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی حد تک خطا کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خامیوں سے یکسر محفوظ ہے اور اس میں کسی بھی نقطہ نظر سے حذف و اضافہ، تصحیح یا ترتیب و تہذیب کی ضرورت نہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں انسانی کارناموں کو نقائص سے ممکنہ حد تک پاک کرنے اور انہیں ایک زیادہ مکمل شکل دینے کی غرض   سے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔علوم و فنون کے متعدد شعبوں   میں ادارت ایسا ہی ایک طریقہ ہے جو علم و ادب سے متعلق   متعدد اصناف کی تصحیح و تکمیل کے لیے ابتدا ہی سے   اپنایا جاتارہا   ہے۔ موجودہ دور میں دیگر علوم و فنون کی طرح ادارت کے فن نے بھی بڑی ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک منظم ، باضابطہ اور باقاعدہ فن کے طور پر تسلیم کیاجاتا ہے۔فی زمانہ ادارت کاعمل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے میں جاری و ساری   ہے   اورعلمی و فکری کارناموں اور اخباری صحافت کے علاوہ   فلم ، ریڈیو اور ٹیلی وژن   کی دنیا میں بھ...