نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

شعورِ آفاقی اور شعورِ مقامی

وجود کلی میں شعور کلی ہے جو حقیقت کی ایک اصل ہے۔ جو سرسبز اور باحیات ہے مثلا ایک برگ یا سرسبز پتا۔ لیکن جب وہی پتہ سوکھ کر جالدار رہ جاتا ہے تو اس کی ساخت ابھر آتی ہے۔ یہ وجود کلی کا دوسرا پہلو نظامِ کلی ہے۔ ابتدا میں اور کچھ نہیں تھا سوائے شعور کے ۔ اس نے چاہا کہ کچھ ہو تو نظام کلی وجود میں آیا۔ پس جب شعور اس پر دوڑا تو زمان و مکاں و مادہ فرض کیے گئے۔ شعور کلی جب آفاقی شعور میں منقسم ہو کر مقامی بنا تو وحدت پارہ پارہ ہو کر کثرت میں مبدل ہوئی اور اپنی ابتدائی وحدت کی صورت پر سوائے زمانہ حال کے اور کچھ نہ دیکھ سکا، الا یہ کہ جو کچھ مادہ پر مر تسم ہو گیا۔ چنانچہ نظام کلی میں شعور کی رو کو اپنا ماضی ہی یاد رہتا ہے اور وقت ایک جلتی ہوئی پھلجھڑی کی مانند ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس یہ وقت ہو یا وقت کا شعور، وہی ہے جو نظام کے اندر ایک رو بن کر دوڑتا ہے اور سوائے وقت واحد و حاضر کے اس کو کسی اور وقت کا شعور نہیں ہوتا۔ جب ہم نظام کے اندر غور و فکر کرتے ہیں تو چاہنا مفروض ہوتا ہے۔انسان کا انفرادی شعور جب مظاہر میں خوض کرتا ہے تب ابتدا اور انتہا کے تصورات پیدا ہوتے ہیں، اور پھر اسی کے اقتضا سے چاہن...