نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

ابن صفی اور اسلامی ادب

بعض نیم عقلی دانشور کہتے ہیں کہ ابن صفی اسلامی رجحان کے حامل تھے اس لیے ان کے ناولوں میں اسلامی پسندی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ اور محض اسی لیے وہ ابن صفی کو ناولوں کو بڑا ادب باور کرانے پر تل گئے ہیں۔ دراصل اردو میں اسلامی ادب قحط الرجال کا شکار ہے۔ اسلامی ادب کے نام پر لکھی گئی کہانیوں اور شاعری میں اس قدر واعظانہ اور مفتیانہ باتیں ہوتی ہیں کہ آدمی بوریت کا شکار ہوجاتاہے۔ معاشرہ میں بھی ایسے مذہبی ادب کے کردار کہیں چلتے پھرتے نظر نہیں آتے۔اس قسم کا پاکیزہ ادب لکھنے والوں کے فن میں بھی کوئی خاص ترقی نہیں دیکھی گئی۔ ساری ادبی شہرت اور وقار تو عصمت اور منٹو جیسے ’’فحش‘‘ لکھنے والوں کے حصے میں آئی اور پاکیزہ اسلامی ادب لکھنے والوں کو ادب کے بلند ترین معیار پر نہیں رکھا جا سکتا۔