نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

ایک داعی سے مکالمہ

[میں نے فیس بک پر جولائی ۲۰۱۲ عیسوی میں ’’دعوتی نقطہ نظر کی خامیاں‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹ لکھا تھا۔ درج ذیل تحریر میرے اسی نوٹ پر جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب کے ایک تبصرے کا تفصیلی جواب ہے جو اسی زمانے میں لکھی گئی۔] محترم سید سعادت اللہ حسینی صاحب آپ نے لکھا ہے: ’’ طارق صدیقی صاحب کو دوستانہ مشورہ یہ ہے کہ وہ فیس بک پر اس قدر طویل اقتباسات کی تحریر میں وقت ضائع کرنے کی بجائے کچھ بنیادی کتابوں کے مطالعہ پر توجہ دین تو حقیقت کی تلاش آسان ہوگی۔ آپ کے نوٹ اس بات کی چغلی کررہے ہیں کہ آپ نے اسلامی متکلمین کی بنیادی کتابیں بھی نہیں پڑھی ہیں اور نہ فلسفہ اور منطق کی بہت ہی بنیادی درسی کتابیں بھی پڑھ پائے ہیں۔‘‘ یہ طویل اقتباسات نہیں طویل تبصرے ہیں۔ طوالت یا اختصار سے وقت ضائع نہیں ہوتا۔ مختصر تحریریں بھی تضیع اوقات ہو سکتی ہیں اگر ان سے کسی کو فائدہ نہ ہو رہا ہو۔ خود آپ کا تبصرہ بھی فیس بک کے عام تبصروں سے زیادہ طویل ہے۔ رہی بات فیس بک پر لکھنے کی تو آپ خود اپنی تقریروں میں فرماتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے بے آوازوں کو آواز دی ہے، سو مجھے بھی ایسا ہی ایک بے آواز شخص سمجھ لیجیے۔ می...