نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زبان کی آوازوں میں رشتۂ ارتباط و تضاد

گوپی چند نارنگ نے ساختیات اور پس ساختیات کی جو ترجمانی کی ہے اس کی رو سے "زبان میں صرف فرق ہی فرق ہے بغیر اثبات کے"۔ سوسیئر کا اصل قول یہ ہے: In language, there are only differences without positive terms.        اس اصول کی جزوی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ زبان کے نظام کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کی تحقیق میں نے خود کی ہے، اور اسے میں یوں بیان کرتا ہوں:  یہ نکتہ اپنی تاکید کے ساتھ درست نہیں کہ زبان کی آوازوں میں صرف فرق ہی فرق ہے۔ اشیا یا تصوراتِ اشیا کا اختلاف اس بات کی دلیل نہیں کہ ان میں کوئی مشابہت سرے سے موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حروفِ تہجی کی آوازوں کی سطح پر حروف تہجی میں بھی اور ان سے مل کر بننے والے الفاظ میں بھی باہمی مشابہتیں پائی جاتی ہیں، اور دراصل اسی مشابہت کی بنیاد پر ان کے مابین فرق کا احساس ممکن ہوتا ہے۔ میرا اصل دعوی یہ ہے کہ زبان کی آوازوں میں تفریقی رشتہ بھی ہے اور اتحادی رشتہ بھی—اور ان میں سے کسی رشتے کو دوسرے پر کوئی تقدّم یا برتری حاصل نہیں۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سا رشتہ پہلے ہے اور کو...

مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور تباہ کاری

طارق صدیقی:  یوال نوح حراری کا ایک قول کوئی صاحب دوہرا رہے تھے کہ انسانی دماغ نے ملینوں سال میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ آرٹیفیشیل انٹیلیجنس نے پچھلے چار پانچ سالوں میں حاصل کر کر لیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس قسم کی باتوں سے لوگ کیا کہنا چاہتے ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ اے آئی ایک بڑی خطرناک چیز ہے اور بعض لوگوں کا یہ خیال ایک نہایت غلط مفروضہ پے کہ مزید پانچ دس سالوں میں یہ نوع انسان کو تباہ و برباد کر دے گی، جیسا کہ اینتھروپک کے ایک مستعفی کارکن کا کہنا ہے۔ اے آئی نے ذاتی طور پر کچھ بھی قابل ذکر حاصل نہیں کیا ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ عطائی ہے۔ اے آئی کی طرف سے صرف ایک خدشہ ہے وہ یہ کہ لوگوں کو اچھی بری تمام قسم کی حساس معلومات نہایت آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں جس کے لیے پہلے بہت سی جگہوں پر بھٹکنا پڑتا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے تحصیل علم کے عمل کو آسان کیا ہے اور اس کی رفتار بڑھائی ہے۔ یہ سمجھنا ایک بڑی نادانی ہوگی کہ اس نے تقریر و تحریر کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کی تقریر و تحریر مصنوعی ذہانت کی مدد سے حاصل کی جا رہی ہے اس کی نوعیت ٹھیک وہی ہے جس کو ہم انفارمیشن ایکس...